ہندوستانی مسلمان

ماہ ضیاء (کویت )

ہندوستان ایک عظیم الشان ملک ہے ۔ ایک ایسا ملک جو اپنے اندر صدیوں پرانی ان گنت تہذیبیں چھپائے ہوے ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک نے ہر مذہب اور ہر تہذیب کے لوگوں کو اپنا دامن پھیلاکر خوش آمدید کہا ہے ۔کشمیر سے کنیا کماری تک تقریباً 3287263 کلومیٹررقبہ پر پھیلا ہوا یہ ملک جسے قدرت نے بھی اپنے خزانوں سے دل کھول کر نوازا ہے تہذیب و تمدن اور ثقافت سے مالا مال اپنی مثال آپ ہے ۔

ہندوستان وہ عظیم الشان ملک ہے جسے فتح کرنا ہر دور میں ہر فاتح کا خواب رہا ہے۔ سکندر اعظم سے اکبر اعظم تک کئی حکمران آئے اور اس کے رنگ میں رنگ گئے ۔ انہوں نے نہ صرف یہاں کی تہذیب کو اپنایا بلکہ اپنی تہذیب کے رنگ بکھیر کر اس میںایک نئی جان ڈال دی۔ یہ تمام حکمران یہاں مختلف مذہبوں کے رنگ اور خوشبو کو یکجا دیکھ کر حیران رہ گئے اور انہوں نے اس ملک کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ان مسلم حکمرانوں نے نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے بھی ان کی شاندار عبادت گاہیں تعمیر کروائیں ۔ اتنا ہی نہیں ہندوستان ان حکمرانوں کے دور میں اپنے قدرتی وسائل اور علم و ادب کی وجہ سے ’سونے کی چڑیا ‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا کے لوگ اس ملک کی کشش سے خود کو دور نہ رکھ سکے۔یہاں کے قدرتی وسائل ، معدنیات اور یہاں کی مناسب آب و ہوا نے ان کو بھی ڈیڑھ سو سال تک اس ملک سے باندھے رکھا۔ مگر جاتے جاتے وہ اس سونے کی چڑیا میں ’ہندوستان ‘ اور پاکستان نام کی دراڑ ڈال گئے ۔

پاکستان یہ کبھی ہندوستان کا ہی حصہ ہوا کرتا تھا ۔ بالکل اسی

 طرح جیسے ایک ہی ماں باپ کی دو اولاد یا ایک ہی درخت کی دو شاخیں ، جن کو ایک جیسے پانی سے سینچا گیا ہو ، ایک ہی جیسی ہوا اور دھوپ ملی ہو بالکل اسی طرح ان دونوں ملکوں کے لوگ بھی ایک ہی ماحول میں رہنے والے لوگ ہیں جن کا کھان پان ، زندگی گذارنے کا طریقہ اور سب سے بڑی بات زندگی کو سوچنے کا نظریہ بالکل ایک جیسا ہے ۔ ان دونوں ہی ملکوں میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں ، فرق صرف اتنا ہے کہ ہندوستان میں غیر مسلموں کی تعداد زیادہ ہے ۔

ہندوستان میں مسلمان دوسری سب سے بڑی قوم ہیں۔ یہاں ان کی تعداد تقریبا 30 کروڑ ہے۔پورے ہندوستان میں مسجدوں کی تعداد اگر مندروں سے زیادہ نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں ہے ۔ ایک سے ایک عالیشان مسجد جن میں دلی کی جامع مسجد بھی شامل ہے ، اس مسجد کو شاہی مسجد بھی کہا جاتا ہے ۔ان تمام مساجد میں پانچوں وقت اذان دی جاتی ہے ۔اور مسلمان بھائی ان میں نماز اور دیگر مذہبی فرائض آزادی اور بے فکری کے ساتھ ادا کرتے ہیں جیسے کسی دوسرے اسلامی ملک میں ۔

دنیاوی طور پر انسان کی پہچان دو چیزوں سے ہوتی ہے۔ پہلا اس کا مذہب اور دوسرا اس کا ملک ۔ بنیادی طور پر ہم سب مسلمان ہیں اور سماجی اعتبار سے ’ ہندوستانی ‘ ۔ہندوستانی مسلمانوں کی بابت عام طور پر لوگوں کے دل و دماغ میں بڑے خدشات اور وسوسے ابھرتے ہیں ۔ بلکہ بعض اوقات تو انہیں بڑے عجیب و غریب سوالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ ان سوالات کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہوی ہے جیسے انہیں ان کے مسلمان ہونے پر شک ہو ! اپنے غیر ہندوستانی مسلم بھائیوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہندوستان میں مسلمان دوسری بڑی قوم ہیں ، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک قوم اپنے حقوق سے محروم رہ کر جئے اور اس کے خلاف کوئی آواز نہ اُٹھائے۔ مسلمان ایک زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں جہاں بھی رہتی ہیں اپنے پورے حقوق کے ساتھ رہتی ہیں۔ بالکل اسی طرح ہندوستانی مسلمان بھی وہاں رہتا ہے ۔اس میں جائز و ناجائز سوچنے اور اپنے حق کے لیے لڑنے کی طاقت موجود ہے ۔ اس لیے یہ تصور کرنا کہ ہندوستان میں مسلمان ایک ڈری ہوی اور دبی ہوی زندگی گزار رہے ہیں، بالکل غلط ہے ۔ ان کو پورے سماجی اور مذہبی اختیارات حاصل ہیں  ۔ہمارے سامنے مثالیں موجود ہیںڈاکٹر ذاکرحسین اور اے ، پی ، جے عبد الکلام کی جنہیں ہندوستان کی صدارت کا شرف حاصل رہا ہے ۔ ہندوستان کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں مسلمان موجود نہ ہوں اور انہوں نے اپنی قابلیت کا لوہا نہ منوایا ہو ۔ تعلیم اور مذہب کے میدان میں اگر ہم بات کریں تو ڈاکٹر ذاکرنائک جیسا مقرر پوری دنیا میں نایاب ہے ۔ ان کی مذہبی معلومات نے پوری دنیا کو چونکا دیاہے ۔ comparative study میں کوئی انکا ثانی اب تک بھی نہیں کوئی سوال نہیں جس کا جواب ان کے پاس نہ ہو۔ ان کے پروگرام ہندوستان اور اس کے باہر دنیا بھر میں منعقد ہوتے رہتے ہیں جن میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہی بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں ۔ ممبی میں منعقد ہونے والی عالمی اسلامی کانفرنس اور اس کے دوران ہندوستانی حکومت کے سیکورٹی انتظامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستانی حکومت مذہب کی بنیاد پر کوئی جانبداری نہیںبرتتی۔ اس کانفرنس کے اختتام پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے دینِ اسلام کو اپنایا جس میں حکومت ہند نے کوئی مداخلت نہیں کی  ۔یہاں یہ بات اور واضح ہوجاتی ہے کہ ہم پہلے مسلمان ہیں اس بنا پر ہمارے جو فرائض اللہ اور اسلام کے لیے ہیں انہیں پورا کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے ۔ اس کے بعد ہم سماجی اعتبار سے الگ الگ ملکوں کے شہری ہیں اور ان ملکوں کے قاعدے اور قانون کو ماننا ہمارا سماجی فرض اور ایک اچھے شہری کی ذمہ داری ہے ۔

اب سوال رہ جاتا ہے کچھ سیاسی جماعتوں کا ، تو کچھ شر پسند عناصر کسی بھی ملک کی صحیح عکاسی نہیں کرتے اور یوں بھی چھوٹی موٹی جھڑپیں کہاں نہیں ہوتیں ؟ ایک گھر میں جب دو بھائیوں کی اولاد بھی ساتھ ساتھ رہتی ہیں تو ان میں تھوڑی بہت رنجش ہوتی رہتی ہے ۔ یہاں تو بات پھر کروڑوں لوگوں کی ہے ! پھر آج دنیا کا کونسا ایسا ملک ہے جہاں کوئی فساد یا جھگڑا نہ ہو ؟ آبادی اور رقبہ کے لحاظ سے اگر ہم دیکھیں تو مذہبی فسادات آج بھی ہندوستان میں دوسرے ممالک کی نسبت کم ہی ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی حکومت مسلمانوں کو ایک قوم کا درجہ دیتی ہے اور اس ملک میں ان کے وجود کی اہمیت کو سمجھتی ہے ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*