ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا

  میمونہ ظفر

 ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہمدم سید المرسلین محمد صلى الله علبه وسلم ، جگر گوشہ خلیفة المسلمین، شمع کاشانہ نبوت، آفتاب رسالت کی کرن، گلستان نبوت کی مہک، مہر ووفا اور صدق وصفا کی دلکش تصویر، خزینہ رسالت کا انمول ہیرا، جن کی شان میں قرآنی آیات نازل ہوئیں، جن کو تعلیمات نبوی پر عبور حاصل تھا، جنہیں اپنی زندگی میں لسان رسالت سے جنت کی بشارت ملی، جنہیں ازواج مطہرات میں ایک بلند اور قابل رشک مقام حاصل تھا، جو فقاہت، ثقاہت ، امانت ودیانت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھیں۔

ولادت :حضرت ام رومان کا پہلا نکاح عبداللہ ازدی سے ہوا تھا۔ عبداللہ کے انتقال کے بعد وہ ابوبکر ﺻﺪﯾﻖ رضي الله عنه کے عقد میں آئیں۔ ابوبکر ﺻﺪﯾﻖ رضي الله عنه کے دو بچے تھے‘ عبدالرحمن اور عائشہ ۔ زمانہ اسلام میں آپ کی ولادت ہوی ،زمانہ جاہلیت کو نہیں دیکھا ۔

نام :نام عائشہ تھا۔ ان کا لقب صدیقہ تھا۔ ام المومنین ان کا خطاب تھا۔ نبی مکرم انے ”بنت الصدیق“ سے بھی خطاب فرمایا ہے۔اور کبھی کبھار” حمیرا “سے بھی پکارتے تھے۔

کنیت :عرب میں کنیت شرافت کا نشان ہے۔ چونکہ حضرت عائشہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لیے کوئی کنیت بھی نہ تھی۔ ایک دفعہ آنحضرت صلى الله عليه و سلم سے حسرت کے ساتھ عرض کیا کہ اور عورتوں نے تو اپنی سابق اولادوں کے نام پر کنیت رکھ لی ہے ، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ فرمایا : اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر رکھ لو”۔چنانچہ اسی دن سے ام عبداللہ کنیت قرار پائی۔

نکاح: ہجرت سے ۲برس پہلے سید المرسلین سے شادی ہوئی۔ ۹برس کی عمر میں رخصتی ہوئی۔ سیدہ عائشہ کے علاوہ کسی کنواری خاتون سے نبی کریم صلى الله عليه و سلم نے شادی نہیں کی۔ ابھی ان کا بچپن ہی تھا کہ جبریل علیہ السلام نے ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر ان کی تصویر رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کو دکھلائی اور بتایا کہ یہ آپ کی دنیا وآخرت میں رفیقہ حیات ہيں۔ (بخاری ومسلم) سیدہ عائشہ کا مہر بہت زیادہ نہ تھا صرف 500 درہم تھا۔

 فضائل وکمالات:

–         حضرت عمرو بن عاص رضي الله عنه نے ایک دفعہ رسول اقدس صلى الله عليه و سلم  سے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا : ”عائشہ” عرض کی مردوں میں کون ہے؟ فرمایا : اس کا باپ۔(بخاری ومسلم)

–          ایک دفعہ حضرت عمررضي الله عنه  نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ ام المومنین کو سمجھاتے ہوئے کہا :بیٹی! عائشہ کی ریس نہ کیا کرو ، رسول اللہ کے دل میں اس کی قدر ومنزلت بہت زیادہ ہے۔

–         رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے فرمایا : ”مردوں میں بہت کامل گزرے لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے سوا کوئی کامل نہ ہوئی اور عائشہ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر”۔

–         امام ذہبی لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضي الله عنها پوری امت کی عورتوں سے زیادہ عالمہ،فاضلہ ، فقیہہ تھیں(سیراعلام النبلاء2/185)

–         روہ بن زبیر کا قول ہے : میں نے حرام وحلال ، علم وشاعری اور طب میں ام المومنین عائشہ رضي الله عنها سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ (مصنف ابن ابی شیبة 5 /276)

–         ابو موسیٰ اشعری رضي الله عنه  فرماتے ہیں کہ ”ہم اصحابِ محمد پر جب بھی کبھی حدیث کے بارے میں کوئی مشکل پیش آئی تو ہم نے اس کا علم سیدہ کے پاس پایا” ۔(ترمذی)

–         حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں فخر نہیں کرتی بلکہ بطور واقعہ  کہتی ہوں کہ اللہ نے دنیا میں ۹باتیں ایسی صرف مجھ کو عطا کی ہیں جو میرے سوا کسی کو نہیں ملیں۔٭خواب میں فرشتے نے آنحضرت صلى الله عليه و سلم کے سامنے میری صورت پیش کی۔ خواب میں سات برس کی تھی تو آپ صلى الله عليه و سلم نے مجھ سے نکاح کیا۔

           جب میرا سن ۹ برس کا ہوا تو رخصتی ہوئی۔ میرے سوا کوئی کنواری بیوی آپ صلى الله عليه و سلم کی خدمت میں نہ تھی۔ آپ صلى الله عليه و سلم جب میرے بستر پر ہوتے تب بھی وحی آتی تھی۔ میں آپ صلى الله عليه و سلم  کی محبوب ترین بیوی تھی۔ میری شان میں قرآن کی آیتیں اتریں۔

 میں نے جبریل  عليه السلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آپ صلى الله عليه و سلم ﻧﮯ میری گود میں سر رکھے ہوئے وفات پائی۔

–         سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آخر وقت مسواک چبا کے نبی کریم صلى الله عليه و سلم کو دی اور یوں اللہ نے نبی کے دہنِ مبارک میں سیدہ کا لعابِ دہن جمع کردیا۔ لعابِ دہنِ رسول و عا ئشہ کاجمع ہونا دنیا کی آخری گھڑی اور آخرت کے پہلے لمحہ میں وقوع پذیر ہوا۔ سید ِکائنات صلى الله عليه و سلم سیدہ کائنات کے گھر میں دفن ہوئے۔

–         نبی کریم صلى الله عليه و سلم  اعدل الناس تھے، آپ صلى الله عليه و سلم نے اپنی ازواجِ طاہرات وطیبات کو ایک ایک دن دے رکھا تھا اور سارا دن انھیں کے پاس گزارتے تھے مگر سیدہ عائشہ کی خوش نصیبی ملاحظہ ہو کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنا دن بھی سیدہ عائشہ کوہبہ کردیا۔ یوں سیدہ عائشہ کے ہاں آپ صلى الله عليه و سلم دو دن قیام فرمایا کرتے تھے۔

–         ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ اللہ کے رسول صلى الله عليه و سلم کوہدیہ دینے کے لیے حضرت عائشہ  کے دن کی تلاش کرتے تھے ،سیدہ عائشہ کہتی ہیں کہ میری سوکنیں ام سلمہ  کے پاس اکھٹا ہوئیں اورکہا کہ لوگ عائشہ  کے دن ہی ہدیہ دیا کرتے ہیں اور ہم بھی عائشہ  کے جیسے خیر کی خواہشمند ہیں ، لہذا رسول اللہ صلى الله عليه و سلم سے عرض کروکہ لوگوں کوتاکید کر دیں کہ آپ جہاں کہیں ہوںاورجس کسی کے پاس ہوں ہدیہ بھیجا کریں چنانچہ ام سلمہ  نے ایک دن آپ سے اس کا ذکرکیا ، لیکن آپ نے بے توجہی برتی ، دوسرے دن بھی اس کا ذکر کیا تاہم آپ نے بے توجہی برتی ، جب تیسرے دن ام سلمہ  نے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا :” تم مجھے عائشہ کے تئیں اذیت مت دو ، بخدا میرے پاس جب کبھی ایک لحاف میں وحی نازل ہوئی ہے تو میرے بسترپر عائشہ  کے سوا کوئی دوسری نہ تھی“ ۔(بخاری )   

 حضرت عائشہ اور احادیث نبوی :

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کو علمی صداقت اور احادیث روایت کرنے کے حوالے سے دیانت وامانت میں امتیاز حاصل تھا۔سیدہ عائشہ کا حافظہ بہت قوی تھا۔ جس کی وجہ سے وہ حدیث نبوی کے حوالے سے صحابہ کرام کے لیے بڑا اہم مرجع بن چکی تھیں۔ حضرت عائشہ حدیث حفظ کرنے اور فتویٰ دینے کے اعتبار سے صحابہ کرام سے بڑھ کر تھیں۔سیدہ عائشہ نے دو ہزار دو سو دس (2210) احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی۔

دور نبوی کی کوئی خاتون ایسی نہیں جس نے سیدہ عائشہ سے زیادہ رسول اللہ صلى الله عليه و سلم سے احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ہو۔صدیقہ بنت صدیق سے ایک سو چوہتر (174) احادیث ایسی مروی ہیں جو بخاری ومسلم میں ہیں۔

وفات :58سن ہجری کے ماہ رمضان میں حضرت عائشہ بیمار ہوئیں، انہوں نے وصیت کی کہ انہیں امہات المومنین اور رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کے اہل بیت کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔ماہ رمضان کی 17تاریخ منگل کی رات ام المومنین عائشہ نے وفات پائی۔ وفات کے وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔ 18سال کی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*