نذر اور اسکی قسمیں

ابوکلیم مقصود الحسن فیضی

عَن عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنہَا قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ   ” مَن نَذَرَ ان یُّطِیعَ اللّٰہَ فَلیُطِعہُ وَمَن نَذَرَ ان یَّعصِیَ اللّٰہَ فَلا یَعصِہِ“                   ( اخرجہ البخاری )

ترجمہ: سیدہ عائشہ رضي الله عنها کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس بات کی نذر مانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا تو اسے اللہ تعالی کی اطاعت کرنی چاہیے [اپنی نذر پوری کرنی چاہیے] اور جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ تعالی کی نافرمانی نہ کرے “۔(صحیح بخاری )

 تشریح : اپنے آپ پر کسی چیز کو واجب کرلینے کا نام نذر ماننا یا منّت ماننا ہے۔ اور نذ ر کی کئی ایک قِسمیں ہیں:

(1) نذر کبھی مطلق ہوتی ہے جیسے ”میں نذر مانتا ہوں کہ روزانہ پچاس رکعت نفل پڑھوں گا“ یا” میں اللہ تعالی سے یہ عہد کرتا ہوں کہ ہر ماہ دس دن کا روزہ رکھوں گا“۔ شرعی طور پر ایسی نذر ماننا پسندیدہ اگرچہ نہیں ہے لیکن اگر نذر مان لی گئی تو اس کا پورا کرنا فرض و واجب ہے ۔یہ نذر ناپسندیدہ اس لیے ہے کہ بندے نے اپنے اوپر ایک ایسی چیز کو واجب کرلیا جو اس پر شرعی طور پر واجب نہیں تھی اور بہت ممکن ہے کہ اس کی ادائیگی سے عاجز آجائے ۔

(2) نذر کبھی کسی سبب کے ساتھ معلق کی جاتی ہے ، جیسے ”اگر میرا بچہ شفایاب ہوگیا تو اللہ کے لیے ایک بکرہ ذبح کروں گا“۔ یہ نذر پہلی صورت سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہے ، نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے اس سے منع فرمایا : ” نذر نہ مانو اس لیے کہ نذر تقدیر سے کسی چیز کو دور نہیں کرتی ، سوائے اسکے کہ نذر کی وجہ سے بخیل کچھ مال خرچ کردیتا ہے ” (بخاری ومسلم )

 گویا یہ شخص اللہ کی راہ میں اسی وقت خرچ کرے گا جب اس کا کسی قسم کا فائدہ ہوگا اوراگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو اللہ تعالی کے راستے پر خرچ نہ کرے گا۔ البتہ اس کا بھی پورا کرنا ضروری اور واجب ہے۔

(3) نذر کی ایک تیسری صورت وہ ہوتی ہے جس میں بندہ اللہ تعالی کی نافرمانی کی نذر مانتا ہے ، جیسے کوئی یہ کہے :”میرا یہ کام ہوجائے تو فلاں مزار پر چراغ جلاوں گا یا چادر چڑھاوں گا“ ، یا کسی سے ناراض ہوکر اس سے بات نہ کرنے کی نذر مان لے ۔ اس نذر کا حکم یہ ہے کہ اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے بلکہ بسا اوقات اس نذر کا پورا کرنا کفر وشرک تک پہنچا دیتا ہے ، البتہ اس نذر کو توڑنے کی وجہ سے اس پر قسم کا کفارہ واجب ہوگا نبی صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے : ” کسی گناہ کے کام کی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے “ (سنن ابی داود ، سنن الترمذی ) ۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی گناہ کے کام کی نذر مانتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اس نذر کو پورا نہ کرے بلکہ اسے توڑ دے اور قسم کا کفارہ ادا کرے ۔

قسم کا کفارہ :قسم کاکفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کیاجائے، یا(10) دس مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا (10)دس مسکینوں کو کپڑا پہنایا جائے ، اور اگر ان تینوں کاموںمیں سے کوئی ایک کام بھی کرنے کی استطاعت نہ ہو تو (3)تین دن کا روزہ رکھ لے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*