باغيچہ اطفال

إداره

عالم کی عمر

کسی نے ایک بڑے تاریخ داں سے پوچھا : آپ کی عمر کتنی ہوگی ؟

تاریخ داں نے کہا: یہی کوئی سات آٹھ ہزار سال کی ۔ اس نے کہا: صورت سے تو آپ چالیس برس کے معلوم ہوتے ہیں ۔ تاریخ داں نے جواب دیا : آپ کا خیال بالکل صحیح ہے کہ مجھے اس دنیا میں آئے ہوئے چالیس سال ہی گزرے ہیں لیکن علم نے میری عمر کو اتنا بڑھادیا ہے کہ آج سے سات آٹھ ہزار برس پہلے کی باتیں مجھے ایسی معلوم ہوتی ہیں گویا میرے سامنے ہورہی ہیں ۔ بادشاہوں کے شاہی دربارجنہیں معمولی آدمی دیکھ نہیں سکتے تھے اور ایسی سخت لڑائیاں جن سے بہادروں کے اوسان خطا ہوجاتے تھے کتاب کھولتے ہی میرے سامنے آجاتی ہیں۔ میں ہرزمانے کے مشہور آدمیوں کے ناموں اور ان کے بھلے کارناموں سے واقف ہوں، ہرزمانے کے عالموں اور ملک ملک کے بادشاہوں کو جانتا ہوں ۔ ملک، ریگستان،دریا،بستیاں اور ویرانے میرے دیکھتے دیکھتے کچھ سے کچھ ہوگئے ۔ علم حاصل کروگے تو ایسی ہی عمر پالوگے ۔

 گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

ایک کسان کا بیٹا کھیل کود میں بے فائدہ وقت گنوایا کرتا تھا ۔ باپ نے بہت سمجھایا مگر اس نے اپنی عادت نہ بدلی ۔آخر باپ نے سوچ کریہ ترکیب نکالی کہ بسنت کے دن صبح کے وقت بیٹے کو اپنے ساتھ کھیت پر لے گیا اور کہا: بیٹا آج کے دن اگر سب سے اچھی بالوں کے دانے ہم کھیت میںسے توڑ کررکھ لیں گے تواس ایک دانے سے کئی کئی پودے ہوجائیں گے مگرشرط یہ ہے کہ کھیت میں سے سیدھے نکلتے اور توڑتے چلے جاؤ ۔ پیچھے مڑکر توڑنے کا حکم نہیں۔ اب تم کھیت میں جاکر سات آٹھ سب سے اچھی بالیں توڑ لاؤ ۔

لڑکا شوق سے کھیت میں چلا گیا جہاں بہت سی پکی ہوئی بالیں آمنے سامنے دائیں بائیں موجود تھیں ، مگر اس نے یہ سمجھ کر کہ آگے اس سے بھی اچھی ملیں گی کوئی بال نہ توڑی یہاںتک کہ دوسرے کنارے تک جا پہنچا ‘ جہاں ابھی کچھ کچی بالیں تھیں ۔ جی میں آیا کہ پھر کھیت میں جاکر اچھی بالیں توڑ لائے مگر پیچھے مڑکر نہ دیکھنے کی شرط ہوچکی تھی ۔ اس لیے پشیمانی کے ساتھ خالی ہاتھ پلٹنا پڑا ۔ باپ نے کہا : بیٹا کیا کوئی بھی اچھی بال تمہیں نظر نہیں آئی ۔ اس نے جواب دیا: کھیت کے اس کنارے کی بالوں میں تو ایک سے ایک اچھی تھی مگر میں نے یہ سمجھ کر کہ آگے اس سے بھی اچھی مل جائیں گی ‘ انہیں نہیں توڑا ، اور اس طرف کی بالیں ابھی کچی تھیں ۔

باپ نے کہا : نادان لڑکے ! تو نے نادانی سے ناحق وقت کھویا ۔ اب تو دوبارہ جاکر بالیں توڑ نہیں سکتا ۔ بیٹے نے اپنی نادانی پر شرم اور افسوس کے ساتھ سرجھکا لیا تو باپ نے کہا: بس یہی وقت کی مثال ہے جو ایک دفعہ آکر پھر کبھی ہاتھ نہیں آتا ۔ دانا وہی ہے جو ہر وقت خوشہ چننے کو تیار رہے اور بے فائدہ امیدوں میں کبھی وقت نہ کھوئے ۔

 کام کرنے کی برکت

پیارے نبی ا کے پاس ایک نوجوان سائل آیا اور کچھ مانگا ۔ آپ نے اس سے پوچھا : کچھ تمہارے پاس ہے بھی ؟ اس نے کہا : صرف ایک دری اور ایک لکڑی کا پیالہ ۔ فرمایا: دونوں چیزیں لے آؤ “ سائل اسی وقت دری اور پیالہ لے آیا جنہیں آپ نے وہیں بیٹھے بیٹھے کسی کے ہاتھ آٹھ آنے میں بیچ دیا اور اسے دام دے کر فرمایا : اس میں سے چار آنے کی تم کلہاڑی لے آؤ اورچار آنے کا آٹا آج کے لیے گھر میں دے آؤ ۔ تھوڑی دیر میں جب وہ آٹا گھر پہنچا کر اور کلہاڑی لے کر آپ کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اس میں لکڑی کا دستہ لگادیا اور فرمایا :”جاؤ ہرروز جنگل میں جاکر اس سے لکڑیاں کاٹ لایا کرو اور انہیں بیچ کر گھر کا خرچ چلایا کرو، پندرہ دن بعدپھر آنا اور ہمیں اپنا حال سناجانا “ ۔ سائل نے پندرھویں دن آکر عرض کی ”گھر کا خرچ چلا کر اس وقت میرے پاس دو درہم موجود ہیں “ ۔ آپ نے فرمایا: تمہارا محنت اور مزدوری سے کمالینا اس سے بہترہے کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھرو“۔

علم کی طاقت

کولمبس جس نے امریکہ دریافت کیا تھا ،ایک جہازراں کا بیٹا تھا۔ ایسے لوگوں کو ستاروں کی چال بخوبی معلوم ہوتی  ہے ،کیوں کہ اسی علم پر جہازرانی موقوف ہے ۔ ایک دن کولمبس کو خیال آیا کہ سمندر کا دوسرا کنارہ بھی دیکھنا چاہیے ، کیا عجب کہ ادھر بھی کوئی ملک آباد ہو ، چنانچہ شاہی دربار کی امداد سے دو جہاز لے کر بحری سفر پر روانہ ہوا اور ستاروں کی رہنمائی سے امریکہ تک جا پہنچا ۔

اس وقت تو امریکہ علم اور دولت کی کان بناہوا تھا مگر اس وقت وہاں جتنے بھی جنگلی لوگ رہتے تھے بالکل وحشی اور طرح طرح کے وہموں میں پھنسے ہوئے تھے ۔ کولمبس نے ان پر حکومت جمانی چاہی تو انہوں نے مقابلہ کیا ۔ کولمبس کے ساتھی تعدادمیں کم تھے اورلڑائی میں پورے نہ اتر سکتے تھے ۔ آخر سوچتے سوچتے اسے یادآگیا کہ کل سورج گرہن ہوگا ۔ اس خیال کے آتے ہی اس نے وحشیوں کے سردار کوبلاکر کہا : دیکھو! اگر تم ہماری فرماںبرداری نہ کروگے تو میں سورج کو حکم دوں گا اوروہ تمہیں جلاکر خاک سیاہ کردے گا ۔

اس وقت تو وحشی چپکے سنتے رہے مگر دوسرے دن جب سورج کو گرہن لگنا شروع ہوا تو سخت گھبرائے غرضیکہ کولمبس کو جادوگر اور کراماتی سمجھ کر اس کے پاس حاضر ہوگئے اور اطاعت قبول کرلی ۔

علم میں کتنی طاقت ہے کہ جو کام بہت بڑی فوج نہ کرسکتی تھی وہ علم کے ایک نکتے نے ذرا سی دیر میں کردیا ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*