غیرت : کل اور آج

 رابعہ انجم مطیع الرحمن تیمی

غیرت وحمیت انسانی فطرت کی آواز ہے ،  اہل جاہلیت ہرطرح کی برائیوں میں  لت پت رہنے کے باوجود غیرت مند تھے ، وہ اپنے مال سے زیادہ اپنی عزت کی حفاظت پر زور دیتے تھے، ان کا اصول تھا  لا بارک اللہ بعد العرض فی المال

 ”عزت و آبرو کے لٹنے کے بعد اللہ مال و دولت ميں برکت نہ دے“ ۔ يعنی عزت ہی نہ رہی تو مال و دولت کا کيا فائدہ ۔

اسلام نے غيرت کومزید جلا بخشا ۔ فطری خواہش کی تکميل کے ليے شادی کے پاکيزہ رشتہ کو رواج ديا ، اور مرد و عورت دونوں کا اپنا اپنا دائرہ کار متعين کيا تاکہ کسی طرح عزت وآبرو پر آنچ نہ آنے پائے ، اسلام کی پوری تاریخ غیرت وحمیت کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ قرن اول کو چھوڑئیے، آئيے تيسری صدی ہجری ميں داخل ہوتے ہيں:

علامہ ابن جوزی رحمه الله  المنتظم ميں لکھتے ہيں:

 سن ۶۸۲ ھ کی بات ہے، قاضی موسی بن اسحاق مقام ری ميں جج کے عہدے پر فائز تھے ۔ انکی عدالت ميں ايک مسلم خاتون آئی اور مقدمہ دائرکيا کہ ميرے شوہر نے ميرے مہر کی رقم ہڑپ کر رکھا ہے جس کی مقدار پانچ سو دينارہے ، ليکن شوہر عدالت ميں جاکرجج کے سامنے صراحت سے انکار کرگيا کہ اس کی بيوی کا کوئی حق اس کے اوپر ہے ،قاضی نے شوہر سے اپنے دعوی کی صداقت پرگواہ پيش کرنے کو کہا : شوہر نے عدالت ميں گواہ پيش کردئيے۔ جج نے کہا :گواہی دينے سے پہلے ضروری ہے کہ گواہ تمہاری بيوی کا چہرہ ديکھ لے تاکہ پہچان ميں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہ رہے ۔ شوہر نے جب جج کا فيصلہ سنا تو اس کی غيرت جاگ اٹھی ،اس نے بھری عدالت ميں کہا : يہ ہو نہيں سکتا کہ ميری بيوی کا چہرہ کوئی غيرمحرم عورت ديکھے اور ہاں ميں جج کے سامنے اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ ميری بيوی اپنے دعوی ميں برحق ہے اور واقعی ميں نے اس کے مہر کی رقم ہڑپ کر رکھی ہے ۔

جب بيوی نے اپنے شوہر کی غيرت کا يہ حال دےکھا تو اس نے بھی جج کے سامنے اعلان کرديا کہ ميں اپنے مہرکی رقم اپنے شوہر کو ہبہ کرتی ہوں اور ميں نے دنيا وآخرت ميں انہيں اس سے بری کرديا ۔ جج نے يہ سن کرکہا : ”يہ بات مکارم اخلاق ميں لکھے جانے کے قابل ہے “۔

يہ غيرت محض اپنی بيوی بچيوں تک محدود نہ تھی ،بلکہ ساری مسلم ماؤں اور بہنوں کو شامل تھی ، آئيے ذرا جگرتھام کر ےہ واقعہ بھی پڑھ لیجئے۔

خليفہ معتصم کے زمانے ميں عراق کے شہر عموريہ کی ايک مسلمان عورت کو ايک رومی فوجی نے برہنہ کرديا ۔ خاتون انتہائی غيرت کے عالم ميں يہ کہتے ہوئے زوردار آواز لگائی وامعتصماہ ”اے معتصم !ميری عزت وآبرو کو بچالو“۔ عورت کی درد انگيز آواز کو ايک مسلمان نے سنا تواس نے عراق پہنچ کر معتصم کوحقيقت حال سے آگاہ کيا ۔ يہ سنتے ہی خليفہ معتصم کی غيرت جاگ اٹھی اور وہ اپنی کرسی سے يہ تاريخی جملہ کہتے ہوئے اٹھا : واللہ لايمس شعری غسلا من جنابة حتی آخذ الحق لتلک المرأة من ذلک الکافر

”قسم اللہ کی جنابت کی وجہ سے ميرے بال کواس وقت تک پانی نہيں چھو سکتا جب تک کہ اس کافرسے مسلمان عورت کا حق نہ دلا دوں“ ۔ خليفہ معتصم نے فوراً لشکر کشی کی اور عموريہ کی اينٹ سے اينٹ بجادی، اور اس رومی مجرم کو گرفتا رکرکے عورت کے قدموں ميں ڈال ديا کہ اس کے حق میں جو چاہے فيصلہ دے ۔

یہ دونوں واقعات گوکہ غیرت سے متعلق ہیں تاہم دو الگ الگ میدان رکھتے ہیں،ایک کا تعلق خانگی زندگی سے ہے تو دوسرے کا تعلق سربراہان مملکت سے ،افسوس کہ آج دونوں جگہ غيرت کا فقدان پایا جاتا ہے ۔عالمی سطح پر دیکھئے تو مسلم ماوں اور بہنوں کی عزتوں سے کھلواڑ کیاجارہا ہے لیکن عالم اسلام کے حکمراں خواب خرگوش میں پڑے ہوئے ہیں ،ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، مسلم معاشرے میں جھانک کر دیکھئے تومغرب کی اندھی تقلید نے غیرت وحمیت کا جنازہ نکال رکھا ہے،  فقدانِ غیرت کی وجہ سے آج مسلم معاشرے اور غيرمسلم معاشرے ميں تميز مشکل ہوچکی ہے ۔ ذیل کے سطور میں مسلم معاشرے ميں فقدان غيرت کی چند جھلکياں پيش کی جارہی ہيں :

٭آج فقدان غيرت کا نتيجہ ہے کہ ہمارے سماج ميں قريبی رشتے داروں سے بے احتياطی پائی جاتی ہے ، مشترکہ طرز رہائش نے تواس مسئلے کو اور نازک بنا ديا ہے ، ايک گھرميں دوتين بھائيوں کے رہنے کی وجہ سے پردے کا اہتمام بالکل نہيں ہوتا، ديور يعنی شوہرکا بھائی جسے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے عورت کے حق ميں موت بتايا ہے اس سے پردہ کرنا تو دقيانوسيت خيال کيا جاتا ہے ۔ حالانکہ بخاری ومسلم کی حديث ہے ايک موقع سے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمايا اياکم والدخول علی النساء”تم تنہائی ميں عورتوں کے پاس جانے سے بچو“۔

يہ ارشاد سن کر ايک انصاری صحابی نے عرض کيا :” اے اللہ کے رسول : عورت کے پاس جانے سے متعلق ديور کے بارے ميں کيا حکم ہے ؟ “ آپ نے فرمايا : الحمو الموت ”ديور تو عورت کے حق ميں موت ہے “۔

٭ہمارے معاشرے ميں فقدان غيرت کی ايک مثال يہ بھی ہے کہ سالياں بہنوئی سے پردہ نہيں کرتيں، بہنوئی سالی سے ہنسی مذاق اپنا حق سمجھتا ہے اسی طرح سالياں بہنوئی سے بے تکلف بات چيت اور ہنسی مذاق اپنا حق سمجھتی ہيں ، حالانکہ شريعت نے ہميں اس کی قطعاً اجازت نہيں دی ۔

٭ہمارے معاشرے ميں دوستوں يا تعلقاتی لوگوں کو اپنے گھروں ميں آنے جانے کی کھلی آزادی دے دينا بھی فقدان غيرت کی ايک واضح مثال ہے ۔ دوستی اچھی چيز ہے ، ليکن گھر سے باہر، اجنبی مرد چاہے دوست ہو يا کوئی اور ‘ اس کا بے تکلف گھرميں آنا جانا فتنے سے خالی نہيں۔الا يہ کہ پردے کا اہتمام کيا جائے ۔

معاشرے سے غيرت کے فقدان ميں سب سے نماياں کردار الکٹرانک اور پرنٹ ميڈيا نے انجام ديا ہے ۔ ريڈيو ، ٹيليويژن ، ڈش اور انٹرنيٹ نے امت مسلمہ کی نئی نسل کوبہت آسانی سے ذہنی عياشی کا شکار بنا ديا ہے ۔ ڈش اور انٹرنٹ نے فحش پروگراموں کو نشر کرکے نئی نسلوں کو جنسی ہوس کی آگ ميں جھونک ديا ہے ۔ فحش لٹريچر، گندے ناول، مخرب اخلاق مجلات  او رعرياں تصويروں سے مزين روزنامے،ہفت روزے اور ماہنامے معاشرے ميں فحاشی پھےلانے ميں نماياں کردار ادا کر رہے ہيں ۔

اس کے اسباب کيا ہو سکتے ہيں ؟ ظاہر ہے ايمان کی کمزوری، قرآن وسنت کی تعليمات سے دوری، نئی نسل کی دينی تربيت سے بے توجہی اور سب سے پہلے فکری جنگ کی کاميابی ۔ يہ بات نوٹ کرليں کہ جب يہوديوں کو صليبی جنگوں ميں منہ کی کھانا پڑی، توانہوں نے سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت عسکری جنگ کی بجائے فکری جنگ شروع کی، چونکہ اسلام اور مسلمانوں سے اُن کا بغض وحسد روزاول سے ہے اس ليے انکی نظر عنايت مسلم ممالک پرکچھ زيادہ ہی رہی ۔ انہوں نے ہماری غفلت سے فائدہ اٹھايا اور ہماری نئی نسل کو اخلاقی بحران ميں مبتلا کرنے ميں بہت حد تک کاميابی حاصل کرلی ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*