گلف کی زندگی

صحراؤں کی خاک چھانتا پھرتا پھرتا چور ہوں میں

محنت سے نہیں پیچھے ہٹتا، محنت کش مزدور ہوں میں

دل میں کسک، ہونٹوں پہ ہنسی ، اس عادت سے مجبور ہوں میں

دیکھنے والوں کو لگتا ہے، سو فیصد مسرور ہوں میں

لیکن میرا درد یہی ہے ، اپنے وطن سے دور ہوں میں

محنت کش مزدور ہوں لیکن، اپنے وطن سے دور ہوں میں

    

دور ہوں اپنی بستی کے گلیاروں سے چوباروں سے

دور ہوں میں اپنے یاروں سے ، دور ہوں جان کے پیاروں سے

روزی روٹی کے چکر میں اپنے گھر سے بچھڑا ہوں

صحرا کی بالو میں دھنس کر ذہنی طور سے پچھڑا ہوں

میری ضرورت جرم ہے میرا ، ربط ہے جرمِ فرضی سے

خود ہی سنہرے جال میں آکر قید ہوں اپنی مرضی سے

گلف میں تنہا عمر بتانا ، شوق نہیں مجبوری ہے

تپتی دھوپ میں جیسے سارا جسم پگھلتا رہتا ہے

سردی میں بھی برف کے تودے جیسا ڈھلتا رہتا ہے

تیسوں دن محنت کرتا ہوں ، محنت کش مزدور ہوں میں

محنت کش مزدور ہوں لیکن، اپنے وطن سے دور ہوں میں

 

سوچا تھا کچھ سال کما کر واپس دیش کو آؤں گا

اپنا کاروبار کروں گا، لوٹ کے پھر نہیں جاؤں گا

لیکن ایسا ہو نہ سکا، پریوار بڑھا اور بڑھتا گیا

گھر کے اخراجات بڑھے، مہنگائی کے ہتھے چڑھتا گیا

ایک اکیلا برسوں سے گیارہ کی کفالت کرتا رہا

سات کی تعلیم و تربیت اور ساتوں کے شادی بیاہ

ایک تو تنگ اور خستہ گھر تھا، اور آبادی بڑھتی گئی

گھر بنوانے میں ہی میری ساری کمائی صرف ہوئی

جتنے مسائل حل کرتا ہوں، اتنے اُبھر کر آتے ہیں

کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں، جو نیند اڑا لے جاتے ہیں

میرے مسائل مجھکو تھکنے دیتے نہیں، مجبور ہوں میں

محنت کش مزدور ہوں لیکن، اپنے وطن سے دور ہوں میں

 

سال میں ایک مہینے کی بس مجھکو چھٹی ملتی ہے

جیسے ضمانت پر مجرم کو وقتی رہائی ملتی ہے

کتنے دن تو گھر کے مسائل سلجھانے میں گزرتے ہیں

گھر والے بھی مجھ پر اپنی جان نچھاور کرتے ہیں

اپنوں میں کچھ روز بِتاکر اپنا دل بہلاتا ہوں

لیکن غیروں کی نظروں میں مالدار کہلاتا ہوں

ملنا جلنا چھوٹ گیا تو رشتے سماجی ٹوٹ گئے

کچھ اللہ کو پیارے ہوگئے، دوست میرے کچھ روٹھ گئے

فرداً فرداً سب کو ملنا میرے لیے دشواری ہے

کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ گلف کا سکّہ بھاری ہے

میں مخلص ہوں لیکن ایسی باتوں سے رنجور ہوں میں

محنت کش مزدور ہوں لیکن، اپنے وطن سے دور ہوں میں  

 

میرے پیروں میں دیکھو زنجیر ہے ذمّہ داری کی

زنجیرہے خانہ داری کی، زنجیرہے دنیاداری کی

اپنے آپ کو مار مار کر میرا دل آلودہ ہے

لیکن مجھکو تسلّی ہے کہ میرا گھر آسودہ ہے

عمر ڈھلی تو میں ہوں پریشاں، ایک نہ اک بیماری سے

لیکن میں نے منہ نہیں موڑا، اپنی ذمّہ داری سے

درد بھرا دل دے کے مجھے اللہ نے کرم فرمایا ہے

جو بھی تصرف کرتا ہوں، سب اس کا سرمایہ ہے

سب کو خوش کر کرکے میرا چہرا نکھرا نکھرا ہے

لیکن میرے اندر والا ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرا ہے

ساگر اور طویل ہے قصہ، کہنے سے معذور ہوں میں

محنت کش مزدور ہوں لیکن، اپنے وطن سے دور ہوں میں

        (عبداللہ ساگر دوحہ، قطر)

 

 

1 Comment

  1. مماشاء الله برا هي شاندار اور برحق نظم لكهي هى جناب عبد الله ساكر صاحب لكين ان كا تعارف نامكمل هى ذرا بوار نام لكهتى تو به تر تها

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*