نكهت گل

 صفات عالم محمد زبير التيمي

 باتیں ! جن سے زندگی سنورتی ہے

(1)  جس نے اپنے نفس کو عزت دیا اس نے اپنے دین کو ذلیل کیا اور جس نے اپنے نفس کو ذلیل کیا اس نے اپنے دین کو عزت بخشا ۔ (مجاہد )

(2) جو شخص فضول کاموں میں مشغول ہوا وہ ورع سے محروم ہوگیا (سہل )

(3) اہل بدعت کی مجالست اختیارمت کروکیونکہ ان کی مجالست دلوں کو بیمار کردیتی ہے ۔  (ابن عباس )

(4) اللہ اس بندے پر رحم کرے جس نے اپنے نفس کو مخاطب کرکے کہا : تم نے ایساکیوں کیا ؟اور ایسا کیوں نہ کیا ؟ پھر اسے سخت سست کہا ،اوراسے لگام دیتے ہوئے کتاب الہی کا پابند بنا دیا۔     ( مالک بن دینار)

(5) اللہ تعالی نے فرشتوں کو عقل سے نوازاشہوت نہ دیا ،جانوروں کو شہوت دی عقل سے محروم رکھا جبکہ ابن آدم کو عقل بھی دی اور شہوت بھی ، جس کی عقل اس کی شہوت پر غالب رہی وہ فرشتوں سے جا ملا اور جس کی شہوت اس کی عقل پر غالب رہی وہ جانوروں سے جا ملا ۔

(6)  شیطان کہتا ہے : ”تعجب ہے اولادِآدم پر کہ اللہ سے محبت کرنے کے باوجوداس کی نافرمانی کرتی ہے جبکہ مجھ سے نفرت کرنے کے باوجودمیری نافرمانی نہیں کرتی “ اللہ سے دعا کریںکہ ہمیںان لوگوں میں سے بنائے جو اللہ سے محبت کرتے ہیں، اس کی نافرمانی نہیں کرتے ۔

سوئے خاتمہ

(1) چندسالوں قبل کا واقعہ ہے ،مکہ مکرمہ سے شائع ہونے والے روزنامہ ”شمس “ میں یہ عبرتناک خبر شائع ہوئی تھی کہ ایک بیس سالہ دوشیزہ ٹیلیویژن پراباحیت پسند پروگرام دیکھتے ہوئے فوت پاگئی ، موت کے بعد ریموٹ اس کے ہاتھ میں تھا ، اہل خانہ نے اس کے ہاتھ سے ریموٹ چھرانے کی انتھک کوشش کی لیکن چھرانے میں کامیاب نہ ہوسکے ،بالآخر اسی حالت میں اس کی تجہیز وتکفین کردی گئی ۔

  (2) پرائمری سکول کاایک ٹیچرشرابی تھااور ہمیشہ شراب کے نشہ میں دھت رہتا تھا ،جب اس پر موت کے آثار طاری ہونے لگے تو اس کی پریشانی دیدنی تھی ، لوگوں نے اس کی پریشانی کو دیکھ کر زمزم منگوایا تاکہ دنیا سے جاتے وقت اس کے منہ میںآخری قطرہ زمزم کاپڑے ، جب اس کے منہ میں زمزم رکھاجاتا تو فوراً منہ بند کرلیتا ،لوگوں کو تعجب ہوا ، حاضرین میں سے کسی نے کہا :” شراب لاؤ “شراب کا نام سنتے ہی اس نے اپنا منہ کھول دیا ۔ یہ بات کئی بار کہی گئی اور ہربار وہ منہ کھولتا رہا، بالآخر ایسی ہی حالت میں اس کی موت ہوگئی ۔ یہ واقعہ راقم سطور کی بستی میں پیش آیا ۔             

سترسالہ ان پڑھ خاتون نے حفظ ِقرآن مکمل کرلیا

سلطنت اردن کی ایک ستر سالہ خاتون ام طٰہ شہرزرقاءمیں سلائی کا کام کرتی تھی ، پڑھنا لکھنا بالکل نہیں جانتی تھی،ایک دن اس نے اپنے محلے کی ایک چھوٹی بچی سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ لفظ ’ ’اللہ “ لکھنا سیکھ لوں ، تم مجھے اللہ کا نام لکھنا سکھا دو ۔ چنانچہ بچی نے بوڑھی ماں کو ”اللہ “لکھنا سکھا دیا ۔ اللہ سیکھتے ہی بڑے شوق سے یہ لفظ پورے قرآن میں ڈھونڈنے لگی ، اس کے اندر پڑھنے کا مزید داعیہ پیدا ہوا ،چنانچہ اس نے تحفیظ قرآن کے ایک مرکزمیں داخلہ کراکر قرآن سیکھنا شروع کردیا ، یہاں تک کہ ایک دن ناظرہ قرآن پڑھنا سیکھ لیا پھر اس کے اندر حفظ قرآن کا شوق پیدا ہوا چنانچہ چندہی سال گزرے تھے کہ پورا قرآن بھی حفظ کرلیا ۔

 

آیت ِقرآنی کا اثر ایک ڈاکو پر

فضیل میں عیاض رضي الله عنه ایک صوفی باصفا گزرے ہیں، آپ شروع میں ڈاکے ڈالا کرتے تھے ،ایک دن آپ دومنزلہ مکان پر ڈاکہ ڈالنے جارہے تھے کہ اوپر سے آواز آرہی تھی ‘ کان لگا کر سنا تو کوئی بزرگ قرآن مجید کی یہ آیت بڑی دل سوزی سے تلاوت کر رہے تھے :” کیا مومنوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے اور جو سچی کتاب اللہ کے ہاں سے اتری ہے، اس کے پڑھنے سے کانپ جائیں “۔ (سورة الحدید16)

قرآن کی یہ آیت کریمہ سنتے ہی ان کے دل پر رقت طاری ہوگئی اور توبہ کرتے ہوئے نیچے اترے اور کہنے لگے کہ ہاں ہاں وقت آچکا ہے۔ اب وہ وقت آچکا ہے ۔ اسی کے بعد ان کو توبة النصوح حاصل ہوگئی اور ہمیشہ ہمیش کے لیے نہ صرف ڈاکے ڈالنے کے فعل بد سے تائب ہوئے بلکہ تمام معاصی وجرائم سے توبہ کرکے ذکر الہی میں ایسے مشغول ومنہمک ہوگئے کہ دنیا کے نامور اولیاءاللہ میں آپ کا شمار ہوا ۔  ( مرأة الجنان 1/416-417)

 حضرت امام ابوحنیفہ رضى الله عنه كی ایک تلقین

حضرت امام ابوحنیفہ رضى الله عنه نے ایک شخص کو دیکھا کہ ولیوں اور بزرگو ں کی قبروں پر جاکر سلام کرکے ان سے کہتا کہ میں مہینوں سے آپ کے پاس آرہا ہوں صرف یہ التجا کرتا ہوں کہ اللہ سے ہمارے لیے دعا ئیں کریں مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو میرے اس آنے اور عرض کرنے کا علم بھی ہے یا نہیں ۔ آپ نے یہ سن کر اس سے پوچھا کہ بتلاؤ ان صالحین نے کچھ جواب دیا ، اس نے کہا : نہیں ۔ تب آپ نے فرمایا : سحقا لک وتربت یداک کیف تکلم اجسادا لا یستطیعون جوابا ولا یملکون شیئا ولا یسمعون صوتا ” تف ہے تیرے لیے ، ستیاناس ہوجائے تو، ان بتوں سے کلام کرتا ہے جنہیں جواب دینے کی بھی طاقت نہیں ہے اور جو کسی چیز کے مالک نہیں بلکہ وہ آواز تک نہیں سنتے “ پھر امام صاحب نے قرآن مجید کا یہ جملہ دہرایا : وما أنت بمسمع من فی القبور [یونس106) (اے محمدا) آپ قبروں میں مدفون کو نہیں سنا سکتے “۔  

       (ماخوذ ایمان وعمل ، مولاناعبدالرووف جھنڈانگری ص 119)

خلوص نیت

امام ماوردي رحمه الله بہت بڑے فقیہ اور عالم گذرے ہیں ، تفسیر اور فقہ میں ان کی متعدد ضخیم تالیفات  ہیں ،البتہ ان کی زندگی میں ان کی کوئی کتاب زیور طباعت سے آراستہ نہ ہوسکی ،جب ان کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اپنے ایک معتمد خاص کو بلاکر بتایا کہ فلاں جگہ پر جو کتابیں رکھی ہوئی ہیں سب کی سب میری تصنیف ہیں ،جب میں حالت نزع میں چلا جاؤںتو اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھو اگر میں مٹھی باندھ لوں تو سمجھنا کہ میری تالیفات بارگاہ الہی میں مقبول نہ ٹھہری ہیں ، لہذا ان سب کو رات میں دجلہ میں لے جاکر بہا دینا ۔ اور اگر میں ہاتھ پھیلاؤں تو سمجھنا کہ یہ کتابیں مجھ سے قبول کرلی گئی ہیں اور میں جس خلوص نیت کا متمنی تھا اس میں کامیاب ٹھہرا ہوں ۔ معتمد خاص نے ایسا ہی کیاچنانچہ حالت نزع میں انہوں نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا، تب ان کی ساری کتابیں زیور طباعت سے آراستہ ہوئیں ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*