اسلام کی طرف امریکیوں کے رجحان میں غیر معمول اضافہ

    تحریر : علی اختر

 اسلام دین حق ہے اور حق کا راستہ روکنا نا ممکن ہے۔ حق کے آگے سازشوں اور جھوٹ کے پردے ڈال کر کچھ عرصہ کے ليے عوام الناس کو گمراہ تو کیا جاسکتا ہے مگر حق کو نہ تو ہمیشہ کے ليے چھپایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ایک عرصہ سے عالمی سطح پر اسلام کی مقبولیت اور اس کے پھیلاﺅ سے خائف اور خوفزدہ ہوکر میڈیا،پیسہ اور بے پناہ وسائل، کیا کیا استعمال نہیں کیا گیا، اسلام کو بد نام کرنے کے لےے کون سے ہتھکنڈے استعمال نہیں کئے گئے، مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دےنے کے لےے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔ مختلف مغربی ممالک میں مساجد اور میناروں کی تعمیر پر پابندی عائد کردی گئی ۔اور تو اور شخصی آزادی ( ہیو من رائٹس ) کے نام پر برہنے پن کو فروغ دینے والی تہذیب یافتہ قومیں مسلم خواتین کے اسکارف اور پردے جیسی مقدس و پاکیزہ مذہبی و ثقافتی روایت کے خلاف قانون سازی کر رہی ہیں اور دیکھا دیکھی ایک کے بعد دوسرے ملک میں با قاعدہ سازش اور مہم چلا کر پردے کے خلاف قانون پاس کروایا جارہا ہے ۔

 دنیاوی نقطہ نگاہ سے ان تمام سازشوں اور اقدامات کا یہ نتیجہ نکلنا چاہيے تھا کہ امریکہ سمیت تمام دنیا میںاسلام کا پھیلاﺅ رک جاتا اور اس کی مقبولیت میں کمی واقع ہوجاتی مگر حقائق اور اعداد و شماریہ بتارہے ہیں کہ غیر مسلم پہلے سے بھی زیادہ تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں خاص طور پر امریکہ او ر دیگر مغربی ممالک میں موجود لوگ بڑے اہتمام کے ساتھ اسلام اور اسلامی تعلیمات کی پاسداری کر رہے ہیں ۔

 امریکہ میں موجود با اثر صہیونی ٹولے اور تمام اسلام مخالف قوتوں کی کارستانیوں کے باوجود میڈیامیں حیرت انگیز رپورٹس آرہی ہیں جس کے مطابق امریکہ میں اسلام کی مقبولیت کا گراف نیچے نہیں بلکہ اوپر جا رہا ہے۔ امریکہ میں ریاست فلوریڈا کے ایک عیسائی پادری کی جانب سے 11ستمبر2001 کے واقعات کی نویں برسی پر قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کرنے کی دھمکی کے بعد غیر مسلم امریکیوں کے اسلام کی طرف میلان میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ عیسائی اکثریتی علاقہ گریٹ واشنگٹن کے اسلامی مرکزکے ڈائریکٹر محمد ناصر نے بتایا ہے کہ فلوریڈا کے پادری اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کرنے کی دھمکیوں اور گراﺅنڈزیرو میں مسجد کی تعمیر کی مخالفت کے بعدصرف امریکی دار الحکومت میں 180افراد نے اسلام قبول کیا ہے۔

واشنگٹن کے شمال مشرق کے ایک نو مسلم( جس نے اپنا اسلامی نام رابرٹ اسپنر سے تبدیل کرکے عبد الرحمن رکھا ہے) نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغرب اور امریکہ میں ہر سال اسلام قبول کرنے والو ں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو رہاہے ۔ پچھلے 12برسوں میں مسجدوں کی تعداد بارہ ہزار ہوچکی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام امریکہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکہ میں اسلام قبول کرنے والے نو مسلم موروثی مسلمانوں سے زیادہ اسلام کے مبلغ بن کر ابھر رہے ہیں۔

العربیہ کے مطابق ریاست ورجینیا کے33 سالہ مورن اسکرنس کہتے ہیں کہ ” امریکہ میں سالانہ20ہزار افراد دائرئہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں ۔ اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ نائن الیون حملوں کے بعد دیکھنے میں آیا ہے ۔ مسلمانوں کی جانب سے امریکہ میں نائن الیون حملوں کی مذمت نے غیر مسلموں کو اسلام کے مطالعہ کی طرف مائل کیا ہے ۔

 یہ بلا شبہ ایک خوش آئند بات ہے کہ اسلام امریکہ میں فروغ پا رہا ہے۔ مسلمانوں کی آبادی،مساجد، اسلامی مراکز اور مسلمانوں کی سر گرمیوں میں اضافہ ہورہاہے۔ یہ باطل اور صہیونی ٹولے کی بھو ل ہے کہ وہ گھناﺅنی سازشوں سے اسلام کا راستہ روک لے گا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں اسلام اور مسلمانوں پر کئے جانے والے سب و شتم اور ناروا سلوک کی وجہ سے اسلامی تعلیمات اور زیادہ شدت سے منظر عام پر آئی ہیں اور غیر مسلموں میں اسلام کے بارے میں جاننے اور اس کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کا زیادہ شوق پیدا ہوا ہے ۔

                          ( بشکریہ روزنامہ” منصف “حیدرآباد ، انڈیا )

   

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*