نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا طریقہ تربیت

سید عبدالسلام عمری (کویت )

 موقع اور محل کا پاس ولحاظ ضروری ہے

ہر زبان میں بولنے ،تقریر کرنے اور لکھنے کے ڈھنگ ہوتے ہیں انہیں جاننا بیحد ضروری ہے، چاہے وہ مقامی اور زبانی محاورے ہو ں، اشعار ہوں، لطیفے ہوں‘ مقصود تو لوگوں کے دلوں میں اپنی بات خوش اسلوبی سے اتارنی ہے ، سامعین وقارئین جس نوعیت کے ہوں زبان وقلم کو اسی طرح اختیار کرنا چاہیے ، ناخواندہ طبقہ کے سامنے فلسفیانہ انداز گفتگو اپنانا ،مشکل الفاظ اور بھاری بھرکم جملوں اور ترکیبوں کا استعمال کرنا عقلمندی نہیں بلکہ ہمارے اس رویہ سے ہماری دعوت اور اصلاح کی بات بے نتیجہ ہوکر رہ جاتی ہے ۔ چنانچہ حضور اکرم ا کے بارے میں ام المؤمنین حضرت عائشہ   فرماتی ہیں: کان کلامہ کلاما فصلا یفھمہ کل من یسمعہ ”آپ کی بات بالکل صاف اور واضح ہوتی تھی ‘ جوبھی سنتا بآسانی سمجھ جاتا“ ۔ (ابوداود)

بعثت محمدی کے چار بنیادی مقاصد میں سے ایک مقصد تزکیہ نفس رہا ہے ، ظاہر سی بات ہے کہ تزکیہ نفس کے لیے صرف قرآن کے الفاظ سنا دینا ہی کافی نہیں بلکہ افراد معاشرہ کی تربیت وتزکیہ بھی ناگزیر ہوتا ہے ،آپ اپنے صحابہ کی تربیت کے لیے بہتر مواقع کی تلاش میں لگے رہتے ، جب کبھی آپ کو کوئی مناسب موقع ملتا اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے صحابہ کی تربیت کرتے :

صحیح مسلم میںحضرت جابر  سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بازار سے گذر رہے تھے ،لوگوں نے آپ کو دونوں طرف سے گھیر رکھا تھا ،آپ کا گذر ایک چھوٹے کانوں والے مردہ بکری کے بچہ سے ہوا ، آپ قریب گئے اور اس کے کان پکڑ کر فرمایا:” تم میں سے کون اس مردہ بچہ کو ایک درہم میں خریدنا پسند کرے گا “؟

صحابہ نے عرض کیا : ”ہم کسی بھی قیمت پر اس کو خریدنا نہیں چاہتے ، یہ ہمارے کس کام آئے گا ۔ آپ نے پوچھا : کیا تم پسند کروگے کہ یہ مفت میں تمہیں مل جائے ؟ صحابہ نے باادب عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ اگر زندہ ہوتا تب بھی کان چھوٹے ہونے کا عیب اس میں تھا ہی ‘ جبکہ ابھی تو یہ مردہ ہے ، اس لیے اس کو لینے کاکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

یہ سن کر نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”اللہ کی قسم ! یہ بچہ تمہاری نظر میں جتنا بے وقعت ہے ‘ دنیا اللہ کی نظر میں اس سے کہیں زیادہ بے وقعت ہے “ ۔

آپ ا صحابہ کرام کے جذبات کو بخوبی جانتے تھے چنانچہ موقع کو غنیمت جانا اور دنیا کی بے وقعتی کو خوش اسلوبی سے صحابہ کے ذہنوںمیں بٹھائی جس کا نتیجہ تھا کہ دنیا کی ظاہری چمک دمک ان کی نظروں کو کبھی اپنی طرف نہ پھیر سکی ۔

اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ والدین اپنے بچوں ، اساتذہ اپنے شاگردوں اوربادشاہ اپنی رعایا کی تربیت کے لیے موقع کی تلاش میں رہے،اگرکوئی اچھی بات ذہن نشین کرانے کے لیے ذرا سا بھی موقع مل جائے تو اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے کیونکہ ایک مربی کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔

حضرت علی   نے فرمایا: ”دلوں کی کچھ خواہشات اور میلانات ہوتے ہیں ،کسی وقت وہ بات سننے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور کسی وقت اس کے لیے تیار نہیں ہوتے ، تم لوگوں کے دلوں میں میلان کے وقت داخل ہو اور اس وقت اپنی بات کہو جبکہ وہ سننے کے لیے آمادہ ہو کیونکہ دل کا معاملہ ایسا ہے کہ جب اسے کسی بات پر مجبور کیا جاتا ہے تووہ اندھا ہوجاتا ہے (بات کو قبول کرنے سے انکار کربیٹھتا ہے ) “ ۔ (کتاب الخراج ابویوسف )

ایک بار کا واقعہ ہے ایک شخص آپ کی خدمت میں آکر پوچھا: متی الساعة یا رسول اللہ ؟ اے اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی ؟ دیکھنے میں یہ ایک سیدھا سادا سوال تھا جو کسی کے ذہن میں بھی اٹھ سکتا تھا اور نارمل انداز میں آپ اس کا جواب دے کر بات ختم کردیتے ، مثلاً قیامت کی کچھ نشانیا ں بتا دیتے ، یا کہتے کہ اس کا علم مجھے نہیں ہے،اللہ ہی بہتر جانتا ہے وغیرہ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا، آپ نے جب دیکھا کہ ایک شخص پر قیامت کی فکر طاری ہے اور اس کے وقوع کے بارے میں سوال کررہا ہے تو آپ جواب دینے کی بجائے خود ہی سوال کرتے ہیں : ماذا اعددت لھا ؟ تو نے اس دن کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس سوال کے ذریعہ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کی سوچ کو ایک صحیح رخ دیا اور یہ حقیقت اس کے ذہن نشین کرائی کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قیامت کب آئے گی بلکہ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ قیامت کے لیے ہم نے کیا تیاری کی ہے ؟ اگر قیامت دیر سے بھی آئے مگر ہماری طرف سے کوئی تیاری نہ ہو تو بے کار ہے ۔ آپ کی اس خوش اسلوبی نے سوال کرنے والے کو احتسابی کیفیت میں مبتلا کردیا ، اس نے اپنی پوری زندگی کا جائزہ لیا اور کہا: حب اللہ ورسولہ ”( اس دن کے لیے) میں نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو بطور توشہ تیار کر رکھا ہے“ ۔

یعنی میں اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم سے بے پناہ محبت کرتا ہوں ، زندگی کے ہر معاملہ میں ان دونوں کو راضی رکھنا چاہتا ہوں ، میری زندگی اللہ کی بندگی میں گذرے یہی میری تمنا ہے ، میری زندگی کا مقصد دین الہی کی سرفرازی ہے ،میری تمام تر سرگرمیوں کا محور اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کی رضا کا حصول ہے ، جب آپ نے ان کا یہ جملہ سناتو نہایت فرحت وانبساط سے انہیں یہ خوش خبری سنائی انت مع من احببت” تم نے جس سے محبت کی اسی کے ساتھ تم رہو گے“ ۔ (بخاری ومسلم )

محبت اور دل سوزی

حضور اکرم  صلى الله عليه وسلم کا انداز بیان شیریں اور محبت ودل سوزی سے لبریز ہوتا ، آپ کے دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی آواز مخاطب کے دل میں اتر جاتی ، آپ کا انداز بیان اس قدر مشفقانہ اور خیرخواہانہ ہوتا کہ مخاطب مجال سرتابی نہ کرسکتا اور آپ کی بات کو نہایت خوش دلی سے عملی جامہ پہنانے کو تیار ہوجاتا ۔

ایک بار آپ نے خاندان قریش کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

” قافلے کا دیدبان کبھی بھی اپنے ساتھیوں سے جھوٹ نہیں بولتا ، اللہ کی قسم ! اگر میں (بفرض محال) تمام لوگوں سےغلط بات کہنے پر آمادہ ہوبھی جاتا تب بھی تم سے غلط بات نہ کہتا ۔ اگر (بفرض محال ) تمام لوگو ں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتا ‘ تب بھی تمہارے ساتھ دھوکہ دہی نہیں کرتا ۔ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں میں تمام لوگوں کی جانب اور خاص طور پر تمہاری جانب اللہ کا رسول ہوں ۔ جس طرح تم سو جاتے ہوپھر نیند سے بیدار ہوتے ہو اللہ کی قسم ویسے ہی تم کومرنا ہے اور مرنے کے بعد جی اٹھناہے ، تم سے تمہارے کاموں کا حساب لیا جائے گا ،تمہیں بھلائی کا بدلہ بھلائی سے اور برائی کا بدلہ برائی سے ضرور دیا جائے گا اور یہ بدلہ یاتوہمیشہ کی جنت کی شکل میں ہوگا یا ہمیشہ کی جہنم کی صورت میں “۔

دیکھئے مربی اعظم کا انداز بیان ،محبت اور دل سوزی سے لبریز لب ولہجہ کہ ایک ایک جملہ سے محبت اور خیرخواہی ٹپک رہی ہے ، عقلی اور جذباتی اپیل کے ساتھ ساتھ آپ نے توحید ،رسالت اور آخرت کی حقیقتوں کو بحسن وخوبی ان کے ذہن نشیں کیا ۔

آپ کی یہ ہمدردی محض زبانی نہ تھی بلکہ آپ لوگوںکے سراپا معاون اور مددگار تھے ، لوگوں کے دکھ درد میں بذات خود شریک ہوتے ،مصائب میں ان کی دل جوئی کرتے ،ہمیشہ لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملتے ، اظہارمحبت کے لیے مصافحہ اور معانقہ بھی کرتے ، آپ کا یہی اسوہ لوگوں کو آپ کا گرویدہ بناتا اور وہ آپ کے ہر حکم پر جان دینے کے لیے تیار رہتے ۔

ایک بار ایک شخص نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے ملاقات کے لیے آیا ، آپ نے دیکھا کہ اس کی ہتھیلیوں پر نشانات پڑے ہوئے ہیں ، آپ نے وجہ دریافت کی تو اس نے کہا : یا رسول اللہ میں ایک مزدور آدمی ہوں ، کسب حلال کے لیے مجھے پتھر توڑنا پڑتا ہے ، اس سخت محنت کی وجہ سے یہ نشانات پڑگئے ہیں ، جب آپ نے یہ بات سنی تو فرط محبت میں اس کے ہاتھ چوم لیے ۔

غور کیجئے آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے اس فعل مبارک سے اس کا کتنا دل بھر آیا ہوگا اور اس کا حوصلہ کتنا بلند ہواہوگا ۔

عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ محبت وخیرخواہی کا اظہار کرنا تو دور کی بات ہے کسی کے فعل خیر پر ہمت افزائی بھی نہیںکرتے ۔ اور اگر کسی سے جانے انجانے کوئی چوک ہوجائے تو وہی لوگ اس کا چرچا کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ گویا اس شخص میں کوئی خوبی ہی نہیں ۔بلکہ اس کے ساتھ ایسا معاملہ ہوتا ہے جیسے وہ انسان ہی نہیں ، اس سلسلے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا طریق کار بالکل الگ تھا ، آپ لوگوں کی اچھائیوں کا تذکرہ کرتے اور ان کی بُرائیوں پر پردہ ڈال دیا کرتے تھے ۔

ایک صحابی کو شراب کی لت پڑگئی تھی ،ایک سے زائد بار شراب پینے کی حالت میں ان کو رسول اللہ ا کے پاس لایا گیا ، ہر بار ان پر کوڑے برستے ،لیکن پھر دوبارہ شیطان شراب کا روگ بن کر انہیں بیمار کردیتا اوروہ شراب پی لیتے ،پھر آپ کی خدمت میں انہیں پیش کیا جاتا ،سزادی جاتی مگر پھر شراب پی لیتے ۔

ایک بار جب انہیں شراب کے نشہ میں دھت حضور ا کی خدمت میں لایا گیا تو بیزار ہوکر کسی صحابی نے کہہ دیا : کیا عجیب بات ہے ، اللہ کی لعنت ہو اس پر کہ بارباراسے لایا جاتا ہے ۔

جب اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ان کو لعنت کرتے ہوئے سنا تو آپ نے لعنت کرنے والے کو ڈانٹا : ”اس پر لعنت مت بھیجو ، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے“ ۔

ایک دوسری روایت میں ہے : ”خبردار ! اپنے دینی بھائی کے مقابلہ میں شیطان کی مدد نہ کرو “ ۔ (الصحوة الاسلامیة)

رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کی وسعت قلبی دیکھئے کہ کس طرح آپ نے اس شحض کو اپنی شفقت کے سایے میں لے لیا ، شراب نوشی کے جرم میں ملوث ہونے کے باوجود اس کی خوبیوں کا تذکرہ کیا اور یہ بات واضح کردی کہ گو شراب نوشی بدترین گناہ بلکہ ام الخبائث ہے مگر اسلامی بھائی چارگی کا رشتہ اب بھی باقی ہے ، کیونکہ اگر مرتکب معاصی کو کوسنے لگیں اور لعن طعن کرنے لگیں تو وہ نیک لوگوں سے دور ہوتاجائے گا ،اب شیطان کو موقع ملے گا کہ اسے برائیوں کا مزید آلہ کار بنائے چنانچہ آپ نے تنبیہ فرمائی : ”اپنے دینی بھائی کے مقابلے میں شیطان کے مددگار مت بنو“ ۔

یہاں ایک لمحہ کے لیے رک کر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو خورد بین لیے دوسروں کے عیوب کی تلاش میں لگے رہتے ہیں اور اپنی نگاہوں سے انہیں ساقط کرتے رہتے ہیں ۔ حضرت علی   نے بہت پتے کی بات کہی ہے :

”بہترین عالم وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں کرتا اور نہ اللہ کی نافرمانی کے لیے رخصت دیتا ہے ،اور نہ اللہ کے عذاب سے انہیں بے خوف بناتا ہے “ ۔

 تدریج بےحد ضروری ہے

فرمان الہی ہے : وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین﴿ (الذاریات 55) ترجمہ:” اور نصیحت کرتے رہیں ، یقیناً یہ نصیحت مومنوں کو نفع دے گی “ ۔

وعظ ونصیحت اور تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں تدریج بیحد ضروری ہے ، اگر تدریج کا خیال نہ رکھا جاے تو اصلاح وتربیت مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔ اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ کسی کی خامیاں یک لخت ختم ہوجائیں تو یہ اس کی خام خیالی ہوگی ۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ زیرتربیت افراد کی خوبیوں اور خامیوں کا اچھی طرح سے تجزیہ کرکے ایک خامی کو دور کرتے ہوئے ایک خوبی کو پروان چڑھایا جائے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ا دعوت وتبلیغ اور تربیت کے معاملہ میں تدریج کا اہتمام فرماتے تھے ۔ کسی بھی مخاطب پر ہدایات یکبارگی نہ لادتے بلکہ مخاطب کی صلاحیت وصالحیت اور طاقت کے مطابق اسے احکام کا پابند بناتے ۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام میں جو کردار پروان چڑھا اس کی مثال تاریخ کے کسی دور میں نہیں ملتی ۔

قرآن کریم میں فرمان باری تعالی ہے :

”اور کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن سارا کا سارا ایک ساتھ ہی کیوں نہ اتارا گیا ،اسی طرح ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا تاکہ اس سے ہم آپ کے دل کو قوی رکھیں ، ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے “ (الفرقان 31-32)

قرآن کریم کو تورات ،انجیل اور زبور کی طرح ایک ہی بار نازل نہ کرنے کی حکمت یہ بیان ہوتی ہے کہ ہم نے حالات اور ضروریات کے مدنظر اس قرآن کو 23سال کی مدت میں تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا تاکہ اے پیغمبر تمہارا اور اہل ایمان کا دل مضبوط ہو اور ان کو بات خوب ذہن نشیں ہوجاے ۔

قرآن کی مثال بارش کی سی ہے کہ جب بارش نازل ہوتی ہے تو مردہ زمین میں زندگی دوڑ جاتی ہے اور یہ فائدہ بالعموم اس وقت ہوتا ہے جب بارش وقتاً فوقتاً نازل ہو ‘ نہ کہ یکبار گی موسلادھار بارش ہوجائے اس کے بعد پھر کچھ نہ ہو ۔

چنانچہ سیدہ عائشہ   فرماتی ہیں :” قرآن پاک میں پہلے پہل صرف وہ سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت اور جہنم کاذکر ہے یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کے سایے میں آگئے تو حلال وحرام کی آیتیں نازل ہوئیں،اگر پہلے ہی مرحلہ میں وہ آیات نازل ہوجاتیں جن میں شراب اور زنا کو حرام قرار دیا گیا ہے تو شاید لوگ پکار اٹھتے: ہم شراب اور زنا کو کبھی نہیں چھوڑیں  گے “ ۔ (بخاری )

اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا یہ حکیمانہ اسلوب بھی ملاحظہ فرمائیے:

حضرت معاذ بن جبل  کو یمن روانہ کرتے وقت آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ ! تم ایک ایسی قوم کی طرف جارہے ہو جواہل کتاب ہے ، تم پہلے انہیں توحید اور سالت کی دعوت دینا ۔ جب وہ یہ بات مان لیں کہ اللہ ایک ہے اور محمد صلى الله عليه وسلم اسکے رسول ہیں توپھر انہیں یہ بتانا کہ اللہ نے دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ،جب وہ اس بات کو بھی تسلیم کرلیں تو پھر انہیں یہ بتانا کہ اللہ نے ان پر زکاة فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جاے گی اور ان کے فقراءمیں تقسیم کردی جاے گی “۔

دیکھا آپ نے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے دعوت وتربیت کے سلسلے میں حضرت معاذ  کو کس طرح تدریج وترتیب کا حکم دیا، چنانچہ تدریج میں جہاں یہ بات شامل ہے کہ تمام چیزیں یکبارگی تلقین نہ کی جائیں وہیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ترجیحات اور درجات ومراتب کا خیال رکھاجاے اور الاول فالاول کے اصول پر عمل کیا جاے ۔

تدریج کا یہ قانون فطری ہے اور تمام مخلوقات میں پایا جاتا ہے ، انسان ،حیوانات اورنباتات میں سے ہرایک کاوجود تدریجی مراحل سے گذر کر اپنے کمال کو پہنچتا ہے، ایسے میں اصلاح وتربیت جیسا اہم فریضہ بغیر تدریج کے کیسے مؤثر ہوسکتا ہے ۔

ایک مرتبہ عمربن عبدالعزیز   نے اپنے بیٹے کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا :

”بیٹے ! جلدی نہ کرو ،اللہ تعالی نے قرآن پاک میں شراب کی مذمت میں دوبار آیتیں نازل کیں،پھر تیسری بار آیات نازل کرکے شراب کو حرام قرار دیا ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں تدریج کو نظر انداز کرکے یکبارگی لوگوں کو پورے طورپرحق پر آمادہ کرنے کی کوشش کروں توکہیں لوگ اسے چھوڑ نہ دیں تو یہ فتنہ پہلے سے بھی بڑا فتنہ ہوگا“۔ (الموافقات ) 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*