کیا ترکِ علاج اولیٰ ہے؟

مولانا سید جلال الدین عمری

 علاج کرانا افضل ہے یا ترک علاج ؟ اور اس حدیث کا کیا مفہوم ہے جس میں آیا ہے کہ اپنے رب پھربھروسہ کرنے والے امت محمدیہ کے ستر ہزار لوگ بلاحساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گے، اس سلسلے میںمولانا سید جلال الدین عمری حفظہ اللہ کی قیمتی تحریر پیش خدمت ہے جس میں آپ نے زیرنظرمسئلے پرعالمانہ اورمحققانہ بحث کی ہے ۔

 دواعلاج کرانا جائزہی نہیں بلکہ مستحب اور پسندیدہ ہے۔ بلکہ بعض حالات میں یہ واجب بھی ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عباس ص کی ایک روایت سے بحث کرنا ضروری ہے۔ روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول انے فرمایا:

”مجھے اللہ کے رسولوں اور ان کی امتوں کامشاہدہ کرایاگیا۔میں نے دیکھاکہ کسی کے ساتھ اس کا ایک ہی ماننے والاتھا، کسی کے ساتھ دو تھے، کسی کے ساتھ چھوٹی سی جماعت تھی اور کسی کے ساتھ ایک بھی نہیں تھا۔ اسی دوران میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جو افق پر چھائی ہوئی تھی، مجھے خیال ہواکہ یہ میری امت ہوگی۔ لیکن بتایاگیاکہ یہ حضرت موسیٰ ں کی امت ہے۔ پھر میں نے اس سے بڑی ایک جماعت دیکھی جو ہر طرف چھائی ہوئی تھی۔ مجھ سے کہاگیاکہ یہ تمہاری امت ہے اور اس کے ساتھ ستر ہزار انسان وہ بھی ہوں گے جو جنت میں اس طرح جائیںگے کہ ان کاحساب نہ ہوگا۔ رسول اللہا سے دریافت کیاگیاکہ وہ کون لوگ ہیں۔ آپ نے فرمایا:

ہم الذین لایتطیرون و لایکتوون ولا یسترقون وعلیٰ ربہم یتوکلون۔

”یہ وہ لوگ ہیں جو پرندوں کے ذریعے نہ شگون لیتے ہیں ، نہ داغ لگواتے ہیں اور نہ جھاڑپھونک کرتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں“۔

یہ سن کر حضرت عکاشہ بن محصنص نے دریافت فرمایاکہ کیا میرا بھی شمار ان ہی میں ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں! تم بھی انھی میں ہو۔ایک دوسرے شخص نے پوچھاکہ کیا میں بھی ان ہی لوگوں میں ہوں؟ آپ انے فرمایا: ”عکاشہ تم سے اس میں سبقت لے گئے۔“( بخاری ومسلم )

اس روایت سے یہ استدلال کیاگیاہے کہ تدبیر کے مقابلے میں توکل کامقام اونچا ہے۔ علاج کرانا جائز تو ہے لیکن جو شخص بیماری میں دوا علاج کی فکر نہ کرے اور خداپر بھروسا رکھے، اس کاشمار ان ستر ہزار خوش نصیب انسانوں میں ہوگا، جو بغیر کسی حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ لیکن یہ استدلال کئی پہلوﺅں سے غلط ہے۔

(1)  رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم کی سنت اور آپ کا اسوہ یہ ہے کہ صحت خراب ہوتو علاج کرایاجائے۔ اس لیے جو شخص علاج کراتاہے، وہ سنت پر عمل کرتاہے اور جو نہیں کراتا وہ سنت کو ترک کرتا ہے۔ علاج نہ کرانا کسی فضیلت کاباعث ہوتا تو یقینا آپ اس سے احتراز فرماتے۔ اس کے جواب میں کہاجاتاہے کہ آپ نے علاج ا س لیے کرایاتاکہ امت کو یہ بتایاجائے کہ یہ ایک جائز فعل ہے۔ اس سے یہ نہیں ثابت ہوتاکہ علاج کرانا شرعاً بہتر ہے اورفضیلت کاباعث ہے۔ لیکن یہ جواب صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر قرآن وحدیث میں اشارةً یا کنایتہ ہی سہی علاج معالجے سے منع کیا گیا ہوتا تو اسے منسوخ کرنے اور جواز کاحکم دینے کی ضرورت پیش آتی۔ جب اس سے منع ہی نہیں کیا گیا تو اس کاجواز ازخود ثابت ہے۔ کسی حکم کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر یہ کہ جواز ثابت کرنے کے لیے دوایک بار کا علاج بھی کافی ہوسکتاہے۔ حالاں کہ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ آپ انے بہ کثرت علاج کرائے ہیں۔ آپ اکو جو دوائیں یا علاج بتائے جاتے تھے، ان کی وجہ سے حضرت عائشہص کی طبی معلومات اتنی زیادہ ہوگئی تھیں کہ لوگ تعجب کرتے تھے۔ (ملاحظہ ہو راقم کی کتاب : ’عورت ، اسلامی معاشرہ میں‘۔)

(2) کسی صحیح حدیث میں صراحت کے ساتھ ترک علاج کی کوئی فضیلت نہیں بیان ہوئی ہے۔ اس کے برخلاف رسول اللہ انے مختلف امراض کی دوائیں اور ان کے علاج بتائے ہیں۔ صحابہ کرام کو علاج کا مشورہ دیاہے اور انھوں نے اس پر عمل بھی کیاہے۔ ترک علاج افضل ہوتا تو کم از کم اکابر صحابہ حتی الوسع اس سے اجتناب فرماتے۔

حدیث اور سیرت کی کتابیں بتاتی ہیں کہ حضرات صحابہ نے علاج سے احتراز نہیں بلکہ اسے اختیارکیا اور اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کے اس عام طریقے یا سنت کے خلاف کوئی واقعہ مل جائے تو اس کے اسباب معلوم کرنے ہوں گے۔ اسی طرح کے ایک واقعے کا یہاں ذکر کیاجارہا ہے۔

ابوظبیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ص بیمارہوئے تو حضرت عثمان ص عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ دریافت کیا: تکلیف کیاہے؟ جواب دیاگناہوں کی۔ فرمایاکس چیز کی طلب اور خواہش ہے؟ جواب دیا: اللہ کی رحمت کی۔ فرمایا کسی طبیب کو بلاؤں؟ جواب دیا: ’طبیب‘ ہی نے بیماری دی ہے ، وہی اسے ٹھیک کرے گا۔ فرمایا۔ آپ کے لیے بیت المال سے رقم وظیفہ کا حکم جاری کردوں؟ جواب دیا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ فرمایا: آپ کی بچیوں کے کام آئے گی۔ جواب دیا:کیاآپ کو ڈر ہے کہ میری بچیاں فاقے میں مبتلا ہوجائیں گی؟ میں نے ان سے کہہ رکھاہے کہ وہ ہر رات سورہ واقعہ پڑھیں۔ میں نے رسول اللہ ا کا یہ ارشاد سناہے کہ جو شخص ہر رات سورہ واقعہ پڑھے گا، وہ کبھی فاقے سے دوچار نہ ہوگا۔(ابن کثیر، تفسیر /سورہ الواقعہ/ ۴/۲۸۱)

۱۔اس واقعے میں حضرت عبداللہ بن مسعودص نے طبیب کو بلانے سے منع کیا تو اس سے یہ استدلال کچھ زیادہ قوی نہ ہوگاکہ علاج کاترک کردینا افضل ہے۔ اس کے کچھ اور اسباب بھی ہوسکتے ہیں۔

1-حضرت عبداللہ بن مسعودصاورحضرت عثمانصکے درمیان بعض وجوہ سے ایک طرح کی شکررنجی رہی ہے۔ اس وجہ سے امکان ہے کہ انھوں نے اس بات کو پسند نہ کیاہو کہ حضرت عثمان ص ان کے لیے طبیب کانظم فرمائیں۔ انھوں نے غالباً اسی لیے عطیہ کی پیش کش کو بھی قبول نہیں کیا۔ جبکہ حضرت عثمان ص کے دورِ خلافت میں بیت المال سے ان کاوظیفہ جاری تھا۔ روایت میں آتاہے کہ ان کے انتقال سے دو سال پہلے حضرت عثمان صنے وظیفہ بند کردیاتھا یا کہ انھوں نے اسے قبول کرنے سے معذرت کرلی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ رقم ان کے ورثاکے حوالے کی گئی۔    (ابن اثیر، اسدالغابہ : ۳/۳۸۹-۳۹۰)

2- حضرت عبداللہ بن مسعود رضي الله عنه کا یہ واقعہ ان کے مرض الموت کاہے۔ ممکن ہے کہ اس وقت انھوں نے علاج کی افادیت نہ محسوس کی ہو۔

3- اگرعلاج کاترک کرنا افضل ہوتا تو شاید حضرت عثمان ص اس کی پیش کش ہی نہ فرماتے اور اگر پیش کش ہوتی تو حضرت عبداللہ بن مسعود ص صاف الفاظ میں فرماتے کہ علاج کرنے سے نہ کرنا زیادہ ثواب کاباعث ہے۔

4- حضرت عبداللہ بن مسعود رضي الله عنه کی یہ روایت گزرچکی ہے کہ اللہ نے ہر بیماری کاعلاج رکھا ہے۔ اس سے علاج کی اہمیت اور افادیت سامنے آتی ہے۔ ان کی کوئی رائے بہ ظاہر اس کے خلاف نہیں ہوسکتی۔

علاج کو توکل کے منافی سمجھنا بھی صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ توکل یہ نہیں ہے کہ آدمی اسباب و وسائل کو اختیار نہ کرے۔ بلکہ توکل کامطلب یہ ہے کہ آدمی کو اصل اعتماد اسباب و وسائل پر نہیں بلکہ خدا کی ذات پر ہو۔ وسائل کو اختیار کیے بغیر جو توکل کیاجائے وہ توکل غلط قسم کاتوکل ہوگا۔ بیماری میں توکل یہ ہے کہ آدمی دوا علاج کرنے کے باوجود اللہ پر بھروسا رکھے اور مرض اور شفاءسب کو اسی کی جانب سے سمجھے۔

امام ابن قیم رحمه الله  فرماتے ہیں:صحیح احادیث میں علاج کا حکم ہے، یہ توکل کے منافی نہیں ہے۔ جس طرح بھوک پیاس، گرمی اور سردی کو جو چیزیں دور کرتی ہیں ان کے ذریعے ان کودور کرنا خلاف توکل نہیں ہے، اسی طرح علاج بھی توکل کے خلاف نہیں ہے۔ بل کہ صحیح بات یہ ہے کہ توحید کی حقیقت ہی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ آدمی ان اسباب کو استعمال کرے، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مسببات کو مقدر کر رکھا ہے۔ اور شرعاً ان کے استعمال کاحکم دیاہے۔ ان کو چھوڑنے والا اپنی جگہ یہ سمجھتاہے کہ اسے توکل کا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ حالاں کہ اس سے توکل کوبھی نقصان پہنچتا ہے اور یہ اللہ کے قانون اور حکمت کے بھی خلاف ہے۔ توکل کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی کو دین و دنیا کے کسی بھی فائدے کو حاصل کرنے اور دونوں جگہ کے کسی بھی نقصان سے بچنے میںاللہ پراعتماد ہو۔ اس اعتماد کے ساتھ اسباب کا اختیارکرنابھی ضروری ہے۔ ورنہ آدمی حکمت وشریعت دونوں کو چھوڑنے والا ہوگا۔ اسے نہ تو اپنے عجزو کوتاہی کو توکل سمجھنا چاہیے، اور نہ توکل کو عجز اور کوتاہی بنا دینا چاہیے۔“    (الطب النبوی ص:105 اور اس سے آگے۔)

حافظ ابن حجر رحمه الله  فرماتے ہیں: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ پر وثوق اور اعتماد ہو اور جسے یہ یقین ہو کہ اللہ کا فیصلہ بہرحال نافذہوکر رہے گا۔ اس کا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے احکام اور آپ کی سنت کے اتباع میں اسباب و وسائل کو اختیارکرنا توکل کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ رسول اللہ انے جنگ میں ایک نہیں دو زرہیں پہنیں، سرمبارک کی حفاظت کے لیے خود استعمال فرمایا،احدمیں گھاٹی کے دہانے پر تیراندازوں کو بٹھایا، مدینے کے اطراف خندق کھدوائی، حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کی ،صحابہ کو اجازت دی۔ خود بھی ہجرت فرمائی، کھانے پینے کے سازو سامان رکھے، گھروالوں کے لیے غلّہ جمع کیا اور اس کا انتظار نہیں کیاکہ آسمان سے کوئی چیز نازل ہو حالاں کہ آپ اس کے زیادہ مستحق ہوسکتے تھے۔ اسی طرح ایک شخص نے آپ سے سوال کیاکہ میں اپنے اونٹ کو باندھوں یا کھلاچھوڑدوں؟ آپ نے فرمایا: اسے باندھو اور پھر توکل کرو۔ گویاآپ نے یہ اشارہ کیاکہ احتیاط سے توکل ختم نہیں ہوتا۔“ (فتح الباری ۱۰۰/۱۶۵۔)

جب دوا علاج کرانا توکل کے منافی نہیں ہے تو پھر حضرت عکاشہ بن محصن صکی روایت کاکیا مطلب ہے؟

 اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں ممنوع اور ناپسندیدہ طریقوں کو اختیارکرنے سے منع کیاگیا ہے اور اس کے ساتھ صحیح طریقوں کی احادیث میں نشاندہی بھی کردی گئی ہے۔

(1) اس حدیث میں پہلی بات یہ کہی گئی ہے :ہم الذین لایتطیرونیہ وہ لوگ ہیں، جو پرندوں کے ذریعے شگون نہیں لیتے۔ اہل عرب کسی کام کے لیے نکلتے یا کوئی مقصد ان کے سامنے ہوتا تو یہ جاننے کے لیے کہ اس میں وہ کامیاب ہوں گے یا ناکام، پرندوں کے ذریعے شگون لیتے تھے۔ اس کادائیں جانب اڑنا مبارک سمجھاجاتاتھا۔ اس کی ان کے نزدیک زیادہ اہمیت نہیں تھی۔ البتہ اس کے بائیں جانب پروازکرنے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ یہ نحوست کی علامت تھی۔ چناںچہ ”تطیر“ بدفالی ہی کو کہاجاتاہے۔ اسلام نے اس طرح کے اوہام کو ختم کردیا۔ البتہ کسی موقع پر کسی کی زبان سے کوئی اچھا کلمہ نکل جائے تو اس سے خوشی محسوس کرنا ایک فطری بات ہے۔ اس سے اسلام منع نہیں کرتا۔ چناںچہ حضرت ابوہریرہ ص کی روایت ہے کہ رسول اکرم ا فرمایا:لاطیرة وخیرہا الفال قالوا وماالفال قال الکلمةالصالحة یسمعہا احدکم۔

”پرندوں کے ذریعے شگون لینا صحیح نہیں ہے اس میں بہتر چیزفال ہے۔ لوگوں نے پوچھا: فال کیاہے؟ آپ نے فرمایا: اچھی بات جو تم میں سے کوئی شخص سنتاہے۔“

(2) زیرِبحث حدیث میں دوسری بات یہ کہی گئی ہے :

لایکتوون ”اور وہ داغ نہیں لگواتے“۔ بعض امراض میں لوہاگرم کرکے داغ دیاجاتاتھا۔ عربوں میں یہ احساس تھا کہ اس سے بیماری کابالکلیہ استیصال ہوجاتاہے۔ کبھی کبھی احتیاطی طورپر بھی داغ لگوایاجاتاتھا۔ یہ ایک بہت ہی سخت اور تکلیف دہ علاج ہے۔ اس میں بے احتیاطی سے نقصان پہنچنے کا شدید خطرہ رہتا ہے۔ رسول اللہ انے بطور علاج اس کی افادیت تو تسلیم کی ہے، لیکن جہاں تک ہوسکے، اس سے بچنے کی تلقین کی ہے اور بلاضرورت اس علاج کو ناپسند فرمایاہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس صکی روایت ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا:

الشفاءفی ثلاث: شربة عسل، وشرطة محجم، وکیة نار، وانہی امتی عن الکی۔ (بخاری، کتاب الطب باب الطیرة۔) ”شفاءتین چیزوںمیں ہے شہد کاگھونٹ ،پچھنے کانشان، اور آگ سے داغ لگانا ۔میں اپنی امت کو داغ لگانے سے منع کرتاہوں۔“

حضرت عمران بن حصین صبیان کرتے ہیں۔ نہی النبی عن الکی فاکتوینا فما افلحنا ولانجحنا۔ ”نبی انے داغ لگوانے سے منع فرمایا، حرام نہیں قرار دیا ،ہم نے داغ لگوایا۔ لیکن ہم نے فلاح نہیں پائی اور کامیاب نہیں ہوئے“۔(بخاری کتاب الطب باب الشفاءفی ثلاث۔)

ان احادیث میں داغ کے ذریعے علاج کی جو ممانعت ہے وہ حرمت کے لیے نہیںہے۔ بل کہ اس سے کراہت اور ناپسندیدگی کااظہار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام نے وقت ضرورت اس پر عمل کیاہے۔ اگریہ طریقہ علاج ممنوع یا حرام ہوتا تو ظاہر ہے صحابہ کرام اس سے بالکل اجتناب فرماتے۔ لیکن اِن احادیث سے بہرحال یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شدید ضرورت کے بغیر داغ لگوانا یا احتیاطی تدبیر کے طورپر اس پر عمل کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔ اوپر کی حدیث میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے، جو اس ناپسندیدہ علاج سے حتی الوسع پرہیز کرتے ہیں۔

(3) تیسری صفت جس کاحدیث میں ذکر ہے وہ یہ ہے:

ولایسترقون ”وہ جھاڑپھونک نہیں کرتے ہیں“۔اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دورِجاہلیت میں جھاڑ پھونک کا رواج تھا۔ اس میں غیراسلامی اور مشرکانہ تصورات بھی شامل ہوتے تھے۔ رسول اللہ ا نے اس سے منع فرمایا لیکن اگر اس طرح کی خرابی نہ ہوتو اس کی اجازت بھی دی ہے۔

جھاڑپھونک کو علماءنے تین شرائط کے ساتھ بالاتفاق جائز قرار دیاہے۔

٭ ایک یہ کہ اللہ کے کلام اور اس کے اسما و صفات کے ذریعے جھاڑپھونک کی جائے۔

٭دوسری یہ کہ عربی زبان میں ہو، کسی اور زبان میں ہوتو اس کا معنی و مفہوم سمجھ میں آئے تاکہ اس میں کوئی غلط بات شامل ہوتو اسے ترک کردیاجائے۔

٭تیسری یہ کہ جھاڑپھونک کے بارے میں یہ اعتقاد نہ ہو کہ بذات خود اس میں تاثیر ہے، بلکہ یہ سمجھاجائے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس میں تاثیر پیداہوتی ہے۔     (ابوداﺅد ،کتاب الطب، باب فی الکی۔)

اس سے معلوم ہوتاہے کہ فی نفسہ جھاڑپھونک سے نہیں بل کہ اس میںمشرکانہ کلمات کے استعمال سے منع کیاگیا ہے۔

جہاں تک اس سلسلے میں قرآن و حدیث کی دعاﺅں کاتعلق ہے، ان کے جواز بل کہ استحباب میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے۔ پھر ان کے ترک کو افضل کیسے کہاجاسکتا ہے۔ اس لیے کہ حدیث میں جس یقین اور توکل کی تعلیم دی گئی ہے یہ دعائیں تو اسے مضبوط اور اس میں اضافہ کرتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر حدیث میں غلط یا ناپسندیدہ طریقوں سے اجتناب کی فضیلت بیان ہوئی ہے تو اس سے ہرمومن بچتا ہی ہے اور اسے فی الواقع بچنابھی چاہیے۔ پھر ان سترہزار کی کیاخاص فضیلت ہے، جب کہ حدیث بتاتی ہے کہ ان کو دوسروں پر امتیاز اور فضیلت حاصل ہے؟

اس کاجواب یہ ہے کہ بیماری میں خاص طورپر جب کہ وہ طول کھینچ جائے یا پیچیدہ شکل اختیار کرلے تو علاج کے صحیح اور پسندیدہ طریقوں ہی پر قناعت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ صحت اتنی عزیز ہوتی ہے کہ ایسی صورت میں بہت سے نیک اور صالح افراد بھی حرام اور ممنوع دواﺅں کے استعمال سے باز نہیں رہتے۔ خدا پر ان کا یقین بھی کمزور پڑنے لگتا ہے اور وہ بڑی آسانی سے جادو منتر، ٹونوں اور ٹوٹکوں اور قبروں اور مزاروں کاسہارا لینے لگتے ہیں۔ اس وقت علاج کے جائز طریقوں ہی پر اکتفا کرنا، غیراللہ سے استعانت نہ چاہنا اور صرف اللہ پربھروسا رکھنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ اس کے لیے بڑے ایمان و یقین اور توکل کی ضرورت ہے۔

حدیث سے بظاہر یہ شبہ بھی ہوتاہے کہ اس طرح کے  اصحابِ توکل امت میں صرف ستر ہزار ہوں گے۔ لیکن اس طرح کے اعداد بسااوقات کثرت کے اظہار کے لیے ہوتے ہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ان خصوصیات کے افراد کی تعداد بھی اس امت میں چھوٹی موٹی نہ ہوگی بلکہ بہت بڑی ہوگی۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*