کہیں ہم ناکام نہ ہوجائیں!

 آصف ریاض (دہلی )

ایک عرصہ سے میں یہ سوچتا رہا ہوں کہ آخر یہ کیوں کر ممکن ہوا کہ انسان ہواﺅں میں اڑنے لگا؟وہ پانیوں میں سرگرم ہوگیا؟ وہ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے شخص سے معاملات کرنے لگا؟وہ پلک جھپکتے ہی ایک چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے لگا؟

ان سوالات کا جواب پانے کے لیے میں نے اللہ کے تخلیقی منصوبہ پر غور کرنا شروع کردیا۔چنانچہ بہت غور و خوض کے بعد مجھے اپنے سوالوں کا جواب مل گیا۔واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے جب اس زمین کی تخلیق کی تو اپنے ابتدائی دور میں یہ زمین وہ نہیں تھی جس پر آج ہم اور آپ چلتے پھرتے ہیں ۔سائنسدانوں کے مطابق اپنے ابتدائی دور میں یہ زمین آگ کا گولہ تھی۔اگر اس پر انسان کو بسا یا جا تا تو انسان جل بھن کر راکھ ہوجاتا۔ اللہ نے یہاں انسانوں کو بسانے کے لیے ایک پروسس چلا یا۔آسمان سے پانی برسا یا گیااور سمند ر بہائے گئے ۔ ماحولیات کو متوازن رکھنے کے لیے درخت اگائے گئے ۔رفتہ رفتہ زمین سرد ہوگئی یہاں تک کہ انسان کو اس پر بسا نا ممکن ہوا۔لیکن یہ کام اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے بھی ایک پروسس چلایاگیا۔زمین چونکہ ابتدائی دور میں گرم تھی اس لیے پہلے اس پر جنوں کو بسا یا گیا۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جنوں کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے چنانچہ اس وقت زمین پر بسانے کے لیے وہ ایک فیٹسٹ(Fittest (مخلوق تھی !وہ انسانوں کی

بہ نسبت ہیٹ کو زیادہ برداشت کر سکتی تھی چناںچہ اللہ نے اس زمین پر انسانوں سے پہلے جنوں کو بسایا۔

جنوں کو بلاسبب اس زمین پر نہیں بسا یا گیا تھا۔اللہ کسی چیز کی تخلیق بلا سبب نہیں کرتا!اس کے ہر کام میں اعلیٰ تفکر پا یا جا تا ہے ۔ اس کا کوئی کام بے مقصد نہیں ہوتا۔جیسا کہ قرآن میں ہے کہ ”ہم نے دنیا کو کھیل تماشا کے طور پر نہیں بنا یا ۔اگر ہمیں یہی کرنا ہوتا تو ہم اسے اپنے پاس ہی کر لیتے“۔اوریہ کہ ”تم آسمان کی طرف اپنی نگاہ اٹھا کر دیکھو ،تمہیں اس میں کوئی خلل نظر نہیں آئے گا ،سو تم ایک بار پھر نگاہ اٹھا کر دیکھو تمہاری نگاہ تھک ہار کر تمہاری ہی طرف لوٹ آئے گی اور تم خدا کی تخلیق میں کوئی خلل نہیں ڈھونڈ پاﺅگے“   (سورہ ملک)

اللہ نے جنوں کو ایک عظیم منصوبہ کے تحت اس زمین پر بسا یا تھا،لیکن جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن اللہ تعالی کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے! وہ اللہ تعالی کے منصوبہ کو امپلی مینٹ نہ کر سکے،انھوں نے کھانے پینے اور کھیل تماشے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ انھوں نے شکر کے بجائے کفر کی روش اختیار کی۔ انھوں نے معرفت الہی کو پانے کے بجائے دنیا کو اپنی سرگرمی کا مرکز بنایا۔چنانچہ ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔وہ زمین پر Rejected lot بن کر رہ گئے ۔ انھیں مسترد کردیا گیا۔ وہ امتحان میں ناکام ہوئے چنانچہ انھیں ڈرائیونگ سیٹ سے ہٹا دیا گیا۔

 اللہ نے انھیں بڑی طاقت سے نوازا تھا۔انھیں پنکھ نہیں دیا گیا تھا لیکن وہ آسمان پر اڑتے تھے۔ مچھلیوں کی طرح ان کی بناوٹ نہیں تھی لیکن وہ سمندر میں دوڑتے پھرتے تھے۔وہ اتنے طاقتور تھے کہ ایک چیز کو پل بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتے تھے۔جب حضرت سلیمانںنے اپنے درباریوں سے کہا (جس میں جن اور انسان دونوں تھے) کون ہے جو ملکہ کے یہاں پہنچنے سے پہلے اس کا تخت اٹھا کر لے آئے؟ تو ایک جن نے کہا کہ ”میں دربار ختم ہونے سے پہلے پہل اس کا تخت اٹھا لاﺅں گا“۔جن کے اس بیان سے ان کی قوت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سینکڑوں میل کے فاصلہ پر رکھے ایک تخت کو وہ پل بھر میں لانے کی بات کر رہے ہیں۔مزید وضاحت کے لیے دیکھئے          (سورہ نمل) ۔

 اللہ نے انھیں عظیم ذمہ داری دی تھی اور اس کے ساتھ ہی انھیں اختیارات بھی دئے تھے کہ بغیرقوت اوراختیارات کے  ذمہ داری کو ادا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جن اپنی ذمہ داری پوری نہیںکر سکے اور مغضوب ہوئے ۔

اب ان کی سیٹ پر انسان کو بٹھا یا گیا تاکہ جس خدائی منصوبہ کو امپلی مینٹ کر نے میں جن ناکام رہے تھے، انسان اسے کامیابی کے ساتھ پائے تکمیل تک پہنچائے۔چنانچہ ضروری تھا کہ انھیں بھی وہ اختیارات دئے جاتے جو جنوں کو دئے گئے تھے۔ انسان جنوں کی طرح پانی میں دوڑ بھاگ نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ان کی طرح آسمان میں نہیں اڑ سکتا تھا ۔وہ ان کی طرح دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے شخص سے معاملات نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ پلک جھپکتے ہی ایک چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں بھیج سکتا تھا۔ چنانچہ اللہ نے اسے لوہے کا علم سکھا یا تاکہ وہ اس سے جہاز بنائے اور پانی میں دوڑے۔اللہ نے اسے پٹرولیم،گیس اور توانائی کا استعمال بتا یا تا کہ وہ آسمان میں پرندوں کی طرح بلکہ ان سے زیادہ سرعت سے اڑے۔انھیں کمیونی کیشن کے ایج میں پہنچا یا تا کہ وہ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے شخص سے معاملات کرے اور ایک سامان کو پلک جھپکتے ہی ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا دے!مثلاً کل مجھے اچانک ایک ایسے ڈاکومنٹ کی ضرورت پڑگئی جوبہار کی راجدھانی پٹنہ میں تھا اور میں دلی میں بیٹھا تھا ۔مجھے گھبراہٹ ہوئی ۔ میں نے فوراً اپنے ایک دوست کوفون کیا ۔اس نے کہا: گھبراﺅ مت تم اپنے کمپیوٹر پر بیٹھے رہو میں پلک جھپکتے ہی اسے بھیج رہا ہوں اور اس نے واقعی ایسا ہی کیا۔مجھے اس واقعہ پر اس علم والے کی بات یاد آگئی جس نے سلیمان کے دربار میں جنوں کے مقابلہ میں کہا تھا کہ میں پلک جھپکتے ہی اسے لادوں گا اور اس نے واقعی ایسا ہی کیا تھا۔ملاحظہ فرمائیں (سورہ نمل)۔

اللہ تعالی نے جنوں کو ہٹا کر انسان کو پورے اختیارات کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پربٹھا دیا ہے۔ اب انسان جنوں کی طرح ہی حالت امتحان میں ہے ۔اگر انسان خدائی منصوبہ کو امپلی منٹ کر نے میں ناکام رہا۔اگر اس نے شکر کے بجائے کفر کی روش اختیار کی تو اسے بھی مسترد کردیا جائے گا اور اسے جہنم کی اس آگ میں ڈال دیا جائے گا جو بہت سیاہ اور کالی ہے،جہاں آدمی کو اپنا ہاتھ بھی نظر نہ آئے گا۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*