دینی اخوت اورہمارا معاشرہ

علاءالدین عین الحق مکی(كويت)

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:” ایمان والو! ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور خرید وفروخت کے معاملے میں بڑھ چڑھ کربولی نہ لگاؤ ، آپس میں بغض وعناد نہ رکھو ، نااتفاقی اور بے رخی اختیار نہ کرو، دوسرے کے خرید وفروخت میں کوئی بھی دخل نہ دے ، اور اپنا معاملہ نہ کرے، اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو، یاد رکھو مسلمان باہم بھائی بھائی ہوتے ہیں ، کوئی ایک دوسرے پر ظلم نہ کرے، اپنے بھائی کو بے یار ومددگار نہ چھوڑے اس سے کوئی جھوٹی بات نہ کرے ، اپنے بھائی کو حقیر اور کمتر نہ جانے ، پھر نبی انے اپنے سینہ  مبارک کی طرف تین بار اشارہ کرتے ہوئے بیان فرمایاکہ تقوی تو یہاں ہے ، بُرا ہونے کے لیے بس اتنی سی بات ہی کافی ہے کہ کوئی بھی آدمی اپنے مسلمان بھائی کو حقیر خیال کرے ، مسلمانوں کی جان ومال اور عزت وآبرو ایک دوسرے کے لیے حرام ہے “ ۔ (بروایت مسلم شریف 2564)

تشریح : زیر مطالعہ حدیث ایک انتہائی جامع حدیث ہے ، دین اسلام اور اس کے بنیادی عقیدے سے تعلق کی بنیاد پر جو اخلاق وکردار تعمیر ہوناچاہیے اور روزمرہ کی زندگی میں ہمہ وقت اور ہرمیدان میں جس طرح کے ثمرات اور اثرات ظاہر ہونا چاہیے اور جو اوصاف اور خوبیاں بلند اخلاق کے لیے مطلوب معیار کی حیثیت رکھتی ہیں انہیں کی اس حدیث میں تصویر کشی کی گئی ہے ۔

اسلام دین کامل ہے ، عقیدہ اور فکرو نظر سے لے کر دیگر تمام اصول ، تعلیمات اور ہدایات میں کمال کا ہونا اس کا امتیاز اورنمایاں پہلوہے ، بہت ہی سنجیدگی اور گہرائی سے اس پہلو پر اگر غور کریں تو واضح ہوگا کہ وہ اپنے پیروکاروں کی ہمہ جہت تربیت کرتا ہے اور ان کی شخصیت کا جامع ارتقاءاپنے پیش نظر رکھتا ہے ۔ نبی کریم ا نے خواہ کسی بھی موقع سے سہی اپنے پیارے ساتھیوں کو مخاطب فرماتے ہوئے درج بالا نہایت درجہ قیمتی نصیحت میں اسی پہلو کو سامنے رکھا ہے ، اسلامی تعلیمات کا ایک دوسرا خاص پہلو اور بنیادی مقصد یہ بھی ہے کہ مسلمانوں میں اجتماعی زندگی کا شعور پیدا کیا جائے ، ان کی شیرازہ بندی کا برابر خیال رکھاجائے اور دینی اصول پر مبنی ایک اسلامی معاشرہ عمل میں لایا جائے پھر اس کے تحفظ ، استحکام اور پائیداری کے حفاظتی تدابیر بھی برابر اختیار کیے جائےں۔ چنانچہ اسی اہم نکتے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اخلاقی وروحانی امراض سے دوری اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے جو اسلامی معاشرہ کے لیے مہلک اور تباہ کن ثابت ہوتے ہیں ۔

دین اسلا م اخلاقی خرابیوں کے علاج کے لیے ان کے بنیادی اسباب پر توجہ دیتا اور ان کے سدباب کے لیے مناسب اور معقول حل پیش کرتا ہے۔ اسلام اپنے مانے والوں کے اندر آپسی محبت والفت ،ہمدردی و غم خواری اور ایک دوسرے کی خبرگیری کا ایک ایسا ماحول تیار کرتا ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ، یہی وہ جذبہ اور حقیقت ہے جو تمام اسلامی تعلیمات میں نمایاں نظر آتی ہے ، نیز تمام عبادتوں کا مغز بھی ہے ۔

اس حدیث سے حقیقی تقوی وپرہےزگاری کا تصور بھی صاف ہوتا ہے کہ اگر اس کا صحیح بیج اور پودادل میں لگ جائے تو عملی زندگی میں اس کے برگ وبار کا ظہور لازمی ہے ورنہ مصنوعی اور پرتکلف تقوی کی مثال جسم بے روح پر سفید کفن کی ہے اور کچھ نہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ا نے ایک دوسری حدیث میں بیان فرمایا کہ ”جسم کے اندر گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ اگر وہ درست ہوتو سارا جسمانی نظام درست رہتا ہے اور اگر وہ نادرست ہوتو سارا جسمانی نظام بھی نا درست ہی رہتا ہے اور وہ دل ہے “۔ اسلام نے جان ومال اور عزت وآبرو کوبھی احترام وتقدس کا وہ مقام دیا ہے جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں موجود نہیں ہے ۔

 اس حدیث کے ایک ایک فقرہ کا موازنہ مسلم دنیا اور مسلم معاشرہ (خواہ جہاں بھی ہو) کے عمل اور کردار سے کرکے دیکھیں توایک عجیب وغریب اور المناک وافسوسناک صورتحال سامنے آتی ہے ،انسانی جذبات واحساسات کے پرخچے اڑائے جاتے ہیں ،نسلی تعصب وتفوق کے غرور میں دینی وایمانی اخوت بے معنی شے ہوکر رہ گئی ہے ،آپسی معاملات اور ملازمت کے شعبے میں ظلم وزیادتی اور عہدوپیمان کی خلاف ورزی کرنا چالاکی ،بہادری اور نفع بخش سودا تصور کیا جاتا ہے ۔ عین مصیبت ،تکلیف اور آزمائش کے وقت خودساختہ قائدینِ قوم وملت آزمائش میں مبتلا افراد سے دوری اختیار کرنا بڑی دانشوری کا کام سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالی سب کو صحیح شعور اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*