محرمات نکاح

حافظ صلاح الدین یوسف (مؤلف أحسن البيان)

ترجمہ: ”تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو‘ اُنکی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے ہو (وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر اُن کےساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (اُن کی لڑکیوں کےساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صُلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بیشک اللہ بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے“  ( سورة النساء23)

 

تشریح : جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ‘ ان کی تفصیل بیان کی جارہی ہے ۔ ان میں سات محرمات نسبی،سات رضاعی اور سات سسرالی ہیں۔ ان کے علاوہ حدیث رسول سے ثابت ہے کہ بھتیجی اور پھوپھی اور بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے ۔ سات نسبی محرمات میں مائیں ، بیٹیاں،بہنیں،پھوپھیاں،خالائیں،بھتیجیاںاور بھانجیاںہیں اور سات رضاعی محرمات میں رضاعی مائیں، رضاعی بیٹیاں، رضاعی بہنیں،رضاعی پھوپھیاں،رضاعی خالائیں،رضاعی بھتیجیاںاور رضاعی بھانجیاں ہیں اور سسرالی محرما ت میں ساس ،ربائب(مدخولہ بیوی کی پہلے خاوند سے لڑکیاں) بہو اور دو سگی بہنوں کا جمع کرنا ہے ۔ ان کے علاوہ باپ کی منکوحہ (جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے ) اور حدیث کے مطابق بیوی جب تک عقدنکاح میں ہے اس کی پھوپھی ،اور اس کی خالہ اور اس کی بھتیجی اور اس کی بھانجی سے بھی نکاح حرام ہے ۔

 ٭رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہوجائیں گے جو نسب سے حرام ہوتے  ہیں ،البتہ اس دودھ پینے والے بچے کے نسبی بہن بھائی وغیرہ اس گھرانے پر رضاعت کی بناپر حرام نہ ہوں گے ۔

ملحوظہ : زنا سے حرمت ثابت ہوگی یا نہیں ؟ اس میں اہل علم کا اختلاف ہے ۔اکثر اہل علم کا قول ہے کہ اگر کسی شحص نے کسی عورت سے بدکاری کی تو اس بدکاری کی وجہ سے وہ عورت اس پر حرام نہ ہوگی ، اسی طرح اگر اپنی بیوی کی ماں (ساس) سے یا اس کی بیٹی سے (جو دوسرے خاوند سے ہو) زنا کرلے گاتواس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی (دلائل کے لیے دیکھئے فتح القدیر ) احناف اور دیگر بعض علماءکی رائے میں زنا کاری سے بھی حرمت ثابت ہوجائے گی ۔

امام شوکانی اور صاحب فقہ السنة نے جمہور کی رائے کو صحیح قرار دیا ہے ، کیونکہ قرآن میں ایک تو یہ کہا گیا ہے کہ ”تمہاری بیویوںکی مائیں حرام ہیں “ اور انسان جس عورت سے بدکاری کرتا ہے تو وہ اس کی بیوی نہیں بن جاتی ہے کہ اس کی ماں سے یا اسکی بیٹی سے نکاح حرام ہوجائے ۔ ثانیاً : محرمات کے ذکر کے بعد کہا گیا ہے کہ وأحل لکم ما وراءذلکم ”ان کے علاوہ سب عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں ۔ قرآن کے اس عموم نے محرمات کے علاوہ سب سے نکاح کو جائز قرار دیا ہے اور اللہ نے زناکو اسباب تحریم میں شمار نہیں کیا ۔ اسی طرح حدیث میں بھی اس کا بیان نہیں ہے ۔ حدیث لایحرم الحرام الحلال ( سنن ابن ماجہ ‘ کتاب النکاح) ”حرام ‘ حلال کو حرام نہیں کرتا “ سے اس کی تائید ہوتی ہے ۔ یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے ‘ اس لیے صرف اسے مداراستدلال نہیں بنایا جاسکتا ‘ تاہم مذکورہ دلائل کی تائید میں اسے پیش کیا جاسکتا ہے بالخصوص جب کہ اس کے ہم معنی ایک اثر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے ان وطءالحرام لا یحرم ( ارواءالغلیل 6/287) ۔ ”زنا سے حرمت ثابت نہیں ہوتی“ ۔

 

 

2 Comments

  1. بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنا ویسے ہی حرام ہے جیسے بہن سے نکا ح کرنا حرام ہے ،کیونکہ دونوں محرمات میں سے ہیں آیت محرمات میں بنات الاخ کہاگیاہے یعنی بھتیجی سے شادی حرام ہے ۔
    چاہے ،باپ شریک ہو،یاماں شریک ہو یا سگی ہو ۔ہاں عم زاد کی بیٹی سے شادی جائز ہوگی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*