بزم ادب

تخليق : مولانا صلاح الدین مقبول احمد مصلح (کویت )

داعی  اسلام  

(بے نقط شاعری کا نمونہ )

 

کارہائے احمد مرسل کا ہے محمودحال

کس طرح عمدہ مرصّع داعیِ اسلام ہے

مالکِ ملکِ ہر عالم، وہ الٰہ وحدہ

اُس کا مرسل، اُس کا اسوہ، اُس کا کرم عام ہے

سرورِ اولادِ آدم سرورِ رسلِ امم

حامیِ مسلم ہے، ملحد کو وہی صمصام ہے

اس کی آمد سے ہے ٹوٹا مصر و روما کا طلسم

در دلِ کسری اُدھر درد والم کہرام ہے

عمدہ وہ کہ اسوہ   احمد کا دلدادہ رہے

ہر ادا اُس کی ہمارے واسطے اکرام ہے

ہو رہا ہے مردِمسلم رہروِ راہِ ارم

کس طرح محمود راہِ ھادی  اسلام ہے

ھادی  اسلام کا اُسوہ ہے، مصلح تیرا کام

اہل عالم کہہ دو کوئی اِس سے عمدہ کام ہے؟

 فلسفہ  نکاح

  بتا دیا کسی دانا نے حکمتِ شادی

بقائے رنگِ جہاں نسل و خانہ آبادی

وہ خوش کہ پا گئے آدابِ شوہری سے نجات

ہوئے ہیں نفس کے بندے بنام آزادی

سمجھ سکے نہیں حکمت یہ خانماں برباد

لکھی ہے ان کے مقدر میں کتنی بربادی

٭٭٭

دلآور فگار:

 پنجہ مروڑ سکتا ہوں

اگرچہ پورا مسلمان نہ سہی لیکن

میں اپنے دین سے رشتہ تو جوڑ سکتا ہوں

نماز، روزہ، و حج و زکاة کچھ نہ سہی

شبِ برات پٹاخہ تو پھوڑ سکتا ہوں

مصلح:

بس اس قدر ہی سہی ہے تو زورِایمانی

اسی سے کفر کا پنجہ مروڑ سکتا ہوں

اسی لیے تو بلندی پہ ہے مقام اتنا

کہ آسمان سے تاروں کو توڑسکتا ہوں

عالم اسلام ،امریکہ اور صہیونیت

انہیں یہ نظر کرم ہم سے خوشنما وعدے

سمجھ سکے نہ یہ اندازِ دلبری کیا ہے

ہے ایک مسئلہ لیکن دوچند پیمانے

یہی ہے عدل تو آخر ستم گری کیا ہے

٭٭٭

آزاد شاعری

انہوں نے شعر و سخن پہ کرم یہ فرمایا

حساب دفتر شعراءسے کر لیا بیباق

سمجھ میں آگیا آزاد شاعری کیا ہے

کہ شاعروں نے اڑایا ہے شاعری کا مذاق

نام شعراءمیں گنائے فخر سے ہر دم جسے

 شاعری آتی نہ ہو شعر و ادب کا شوق ہو

ہے یہی محفل میں بس آزاد شاعر کا نشاں

یعنی آدابِ سخن میں ہرطرح بے ذوق ہو

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*