بزم ادب

عبداللہ عباسی (کویت )

گربھول ہو مجھ سے مکرتا تو نہیں ہوں

انسان ہوں یارو فرشتہ تو نہیں ہوں

دریاؤں کی لہروں سے کنارے کا نہ پوچھو

منزل کا پتہ نہ ہو رکتا تو نہیں ہوں

حالات سے ڈر کر کبھی ہمت نہیں ہاری

آنکھوں میں نمی ہو بھی روتا تو نہیں ہوں

قائم ہوں اسی بات پہ جو روانی سے کہی تھی

سچ کہتا رہوں گا دوستو ڈرتا تو نہیں ہوں

الفت کی بہاریں ہیں محبت کے خزانے بھی

ہوتی ہیں میرے ساتھ ترستا تو نہیں ہوں

لکھتا تو ہوں صاحب گو شاعر تو نہیں ہوں

بادل ہوں میں صحراءپہ برستا تو نہیں ہوں

٭٭٭

تم نے دیکھا کہاں حالات کا چہرہ لوگو

شورِمحشر تھا میرے شہر میں برپا لوگو

بس ذراغور سے اک بار ہی پڑھنا لوگو

ایسا دشوار نہیں مجھ کو سمجھنا لوگو

تھاسخن فہم ،نہ شاعر نہ کوئی دانشور

پرہیز مجھ کو زمانے نے سکھایا لوگو

کچھ نہیں چاہیے بس ایک محبت کے سوا

مجھ کو درکار نہ شہرت نہ ستارے لوگو

رخ ہواو ں کا بھی میں موڑ کے دکھلا دوں گا

مجھے گرآپ نے یوں دل میں بسایا لوگو

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*