ہر دلعزیز شخصیت ڈاکٹراحمد حسین غازی سے ایک ملاقات

محمد خالد اعظمی (کویت )

کویت کی مشہور ومعروف اور ہردل عزیز شخصیت جناب ڈاکٹر احمد حسین غازی صاحب کافی دنوں سے عدان ہاسپیٹل کویت میں بحیثیت ماہر امراض ریشہ دندان ( NDODONIST E ) خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن اب وہ اپنی ملازمت کو چھوڑکراپنے وطن سرینگرتشریف لے جارہے ہیں،اس مناسبت سے کویت کی مختلف تنظیموں نے مختلف مقامات پر ان کے اعزاز میںالوداعی تقریب رکھا ، اس دوران جمعیة الاصلاح الاجتماعی کے علی بن ابی طالب ہال میں محترم محمد ہوشدار خان صاحب نے بھی ایک الوداعی پروگرام کا اہتمام فرمایا ، اس پروگرام میںIPC سے نکلنے والے ماہنامہ میگزین مصباح کے ایڈیڑمحترم جناب مولاناصفات عالم صاحب نے بھی شرکت کی اورپروگرام کے اختتام پر مجھ سے کہا کہ جناب ڈاکٹرغازی صاحب سے مصباح کے لیے ایک انٹرویو لیا جائے میں فوراًً تیار ہوگیا۔چنانچہ موصوف سے ہوئی گفتگو ذیل کے سطور میں پیش خدمت ہے :

 سوال:ڈاکٹرصاحب آپ اپنا مختصراً تعارف کرائیں اوراپنی تعلیم کے متعلق بھی بتائیں۔

جواب : میری پیدائش سرینگرمیں ہوئی ،اور ابتدائی تعلیم ایک مکتب میں ہوئی، مزید تعلیم کی غرض سے میرا داخلہ اسلامیہ ہائی اسکول سرینگرمیں کرادیاگیاجہا ں دس سال تک رہا۔اعلی تعلیم کی غرض سے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد میں BDSکاکورس کرنے کی خاطر گیا، سوئے اتفاق ان دنوں چونکہ کشمیر میں کوئی ڈنٹیل کالج نہیں تھا ۔ اور میری دلچسپی Teachingسے تھی جس کی وجہ سے میں منی پال سے MDSکیا اور کئی سال تک اسسٹنٹ پروفیسرکا کام کرتارہا۔

 سوال :آپ کی زندگی کا کوئی اہم واقعہ جس نے آپ کودین کی طرف راغب کیاہو؟

جواب : والد صاحب کی سرپرستی میں دینی تعلیم حاصل کی اس لیے دینی مزاج بچپن ہی سے تھا، لیکن جب حیدرآباد اعلی تعلیم کی غرض سے گیاتو وہاں کے مسلم معاشرے اوراسلامی تہذیب وتمدن نے مجھے کافی متاثر کیا، اورمزید دعوتی مراکز سے وابستہ رہا ، اس کی وجہ سے میڈیکل جیسے ماحول میں رہتے ہوئے دین کی ہی طرف مائل رہا ،یہ میری زندگی کا اہم اورسب سے بڑا واقعہ ہے ۔ اس پر میں جتنا بھی اللہ تعالی کا شکر ادا کروں کم ہے۔

سوال :خدمت خلق کے تعلق سے آپ کا کیا رول رہاہے؟اورمسلم نوجوانوں کو اس کے لیے کیسے تیار کیا جائے؟

جواب: خدمت خلق کاجذبہ میرے دل میں بچپن سے ہی پروان چڑھاہے ، لوگوں کی مدد کرنا ،ان کا تعاون کرنااوربے بس اوربے سہارا لوگوں کے کام آنا اوران کے ساتھ رہ کر انکی رہنمائی کرنا، یہ میری فطر ت میں داخل ہے ۔میری گزارش ہے کہ خدمت خلق جیسے عظیم کام کے مفہوم کو مسلم نوجوانوںتک پہونچائیںکہ اللہ تبارک وتعالی نے اس کااجر کتنابڑارکھاہے ۔ اورحقیقت تویہ ہے کہ یہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کے اندر بچپن ہی سے خدمت خلق کی عظیم عبادت کا جذبہ پروان چڑھائیں اوراس کی اہمیت کواجاگر کریں۔

سوال: مسلم نوجوانوں میں پست ہمتی اورکاہلی عام ہے کیا انھیں نصیحت کرناچاہیں گے؟

جواب : آج کا مسلم نوجوان پست ہمت ،سست ،کاہل اورعیش پرست ہوتا جارہا ہے ،وہ چاہتاہے کہ راتوں رات قارون کا خزانہ اس کی جھولی میں آجائے ،لیکن جب اسے یہ ساری چیزیں میسر نہیں ہوتیںتووہ اپنے آپ کوکمزور اوربے بس محسوس کرنے لگتاہے۔حقیقت میں مال ودولت محنت ،لگن ، قابلیت،جہدمسلسل اوروقت کے شکنجوں سے گزر کرہی حاصل کی جاسکتی ہے ۔

 سوال: کویت میں مقیم تارکین وطن کوکیانصیحت کرناچاہتے ہیں؟

جواب :کویت میں مقیم تارکین وطن بالخصوص اوربالعموم تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ مقابلے کے میدان میں آگے بڑھیں ، کیونکہ آج کا دور مقابلوں کا ہے ، اس کام کے لیے ہماری نئی نسل اپنے اندر یہ صلاحیت پیداکرے کہ جب جیسی ضرورت پڑے مقابلے کے لیے میدان میں کود پڑیں۔لہذا نوجوانوں سے کہوںگاکہ وہ اپنی زندگی کا ہرلمحہ اچھی طرح سے استعمال کریں یہ نہ ہو کہ ٹی وی اوردیگرفضولیات میں اپنا وقت گنواں بیٹھیں ،

 اوراپنی سوچ کوبلند رکھیں بقول علامہ اقبال

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

سوال:کویت میں دیگر قوم کا کوئی شخص آتاہے تودیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں کے اندر وہ اپنے اعزہ واقرباءکی ایک ٹیم بلالیتاہے ، لیکن وہیں ہمارے افراد اس میدان میں پیچھے ہیں اس کی بنیادی وجہ کیاہے ؟

جواب: میں نے اپنے قیامِ کویت کی سولہ سالہ زندگی میں غیرقوموں کوزیادہ منظم ، محنتی، اوراپنے کام کے تئیں مخلص پایاہے ۔ وہیں ہماری قوم کے لوگ اس معاملے میں کافی پیچھے ہیں۔ اس قوم کاکوئی فرد جب کویت آتاہے اس کی سب سے پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح سے وہ اپنے کسی رشتہ دار ، دوست ، یا کسی بھی ہم مذہب کو کویت بلائے، اس کے لیے وہ دن رات محنت کرتاہے، چاہے ا سکے لیے مال ودولت، وسائل وذرائع جو بھی استعمال کرنے پڑیں۔اور دیکھتے دیکھتے چندسالوں میں اس کا پورا کنبہ آجاتا ہے۔ اوریہاں مل جل کرایسے رہتے ہیںکہ ایک جان دوقالب والی مثال صادق آنے لگتی ہے۔ ایک دوسروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا ، پیار ومحبت کو بڑھاوا دینااورمصیبت کے وقت میں کام آنا ان کا شیوہ بن جاتاہے۔

اس کے برعکس ہمارے افراد میں اس طرح کاتعاون مفقود ہے ، اگر کسی شخص نے کسی کی مدد کرکے اسے بلایا بھی ‘ تو ایک ساتھ رہنے سے کترائے گا ،اس سے زیادہ احسان جتانا اپنا شیوہ سمجھے گا،اورآنے والا شخص بھی اس کے اوپر ایک بوجھ بن جاتاہے ، نوبت یہاں تک پہونچتی ہے کہ آپس میں کشیدگی پیداہوجاتی ہے، اورآئندہ کسی کوبلانے کی قسم ہی کھابیٹھتا ہے۔

سوال: کویت کی کمپنیوں میں اچھی اچھی جگہیں نکلتی ہیں لیکن ہماری قوم کے لوگ اچھی جگہوں پر بہت کم ہیں، کیاہماری قوم میں اس کی صلاحیت نہیں ہے یا کوئی اور وجہ ہے ؟

جواب : اللہ کا شکر ہے کہ ہماری قوم کے افراد میں صلاحیتیں توپائی جاتی ہیں لیکن انہیں بروقت اوراچھی رہنمائی نہیں مل پاتی ، جس وجہ سے وہ خلیج کی ملازمت میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ میں کہتاہوںکہ خلیج میں ٹیکنیکل پیشہ افراد کواچھی نوکری ملنے کے مواقع زیادہ ہیں ، اگر انہیں بروقت اس کی رہنمائی ملے تو وہ چھوٹی یا بڑی کسی بھی طرح کا ٹیکنیکل کورس کرکے یہاں آئیں تو ان کے لیے مفید ہے۔ دیگربرادران وطن کو اس کی پوری رہنمائی ملتی ہے ، نتیجتاً جب بھی کوئی جگہ نکلتی ہے ‘وہ اس میں پیش پیش رہتے ہیں اورہمارے افراد اس سے دور ۔

سوال :اسلام کے خلاف میڈیا آئے دن پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے،اس کے جواب کابہترین حل کیاہے ؟

جواب : اسلام کے خلاف میڈیا کا پروپیگنڈہ دائمی شکل اختیار کرچکاہے ، ہم دیکھتے ہیں کہ آئے دن ہمارے ملک میں ٹی وی چینل پر جب بھی کوئی بحث ومباحثہ ہوتاہے تواس میں مسلمانوں کی شرکت برائے نام رہتی ہے۔ افسوس کا مقام تویہ ہے کہ اگر مباحثہ کاموضوع اسلام یا اس سے متعلق کچھ ہے تو اس میں شرکاءوہ لوگ ہوتے ہیں جن کا تعلق اسلام سے برائے نام ہوتا ہے اورجن کے پاس اسلام کی معلومات بھی برائے نام رہتی ہے،چنانچہ ان کاجواب ویسا ہی رہتا ہے جیسا میڈیا چاہتاہے ۔اسی لیے میڈیا ایسے ہی لوگوں کو مباحثے میں شرکت کے لیے مدعو بھی کرتاہے۔

دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ انگلش میڈیامیں ہمارے جرنلسٹ برائے نام ہیں ، اگر کوئی غیرمسلم جرنلسٹ مسلمانوں کے حق میں بات کرتا، یا لکھتاہے تواس کی ہمت افزائی سے بھی ہم قاصرہیں ۔

 میری نظر میں اس کا پہلا حل یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی ، جماعتیں اورشخصیات بالمشافہ ملاقات کرکے یاپھرا ی میلز، خطوط اور مراسلات کے ذریعہ ٹی وی چینلز کی صحیح رہنمائی کریںاوران سے یہ بھی کہیں کہ اگر آپ کے پاس بحث ومباحثہ کے لیے اچھے مسلم اورباصلاحیت اسکالرکی ضرورت ہے توہم ایسے افراد آپ کو مہیا کریں گے جوآپ کے چینلز کی طرف سے اسلامی تعلیمات اورمسلمانوں کی سچی نمائندگی کرسکتے ہیںاور آپ کے چینلزکی طرف سے آئی ہوئی باتیں مسلمانوں میں مقبول ہونگی۔

اس کے علاوہ میں اپنے نوجوانوں سے گزارش کروںگاکہ وہ جرنلزم کی طرف راغب ہوں تاکہ میڈیا میں ہماری نمائندگی ہوسکے اور میڈیا سے عوام کے سامنے آنے والی بات صحیح ، سچی ، اورحق ہو۔

سوال : قادیانی اورعیسائی اپنے مذہب کی ترویج وتبلیغ کے لیے ہرطرح کا حربہ استعمال کررہے ہیں ، ان حالات میں اسلام کی دعوت کے لیے الیکٹرونک میڈیا کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے؟

جواب :میں نے دیکھا ہے کہ قادیانی اورعیسائی اپنے مذہب کی بھرپور تبلیغ کے لیے ہرطرح کا حربہ استعمال کرتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی تنظیمیں انہیں مالی امداد فراہم کرتی ہیں، اس کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ شہرسے دورچھوٹے چھوٹے قریوں کا انتخاب کرتے ہیںاور وہاں اپنا اسکول ، اسپتال ، اور دیگر رفاہی ادارے قائم کرتے ہیں،ان مقامات کے پسماندہ عوام کو ہرطرح کی سہولیات دیتے ہیں، اورسب سے اہم بات وقت کے ساتھ ساتھ چلنا سکھاتے ہیں جس کی وجہ سے پورامعاشرہ متاثرہوتاہے ۔

میں قارئین سے گزارش کروںگاکہ وہ مقامی سطح کی ایک سوسائٹی قائم کریں اوراپنی آمدنی کاکچھ فیصد اس میںہرماہ جمع کریںتاکہ کچھ باصلاحیت افراد کا تعاون کرسکیں، اوران لوگوںکو دورافتادہ مقامات پر بھیج کردعوت دین کا کام کرواسکیں، ایسے لوگوں سے تحقیقی کام بھی کروائیں، اورسب سے بڑی بات یہ کہ ایسے تعلیمی ادارے اوراسپتال قائم کریں جن سے ہماری قوم مستفید ہوسکے۔

سوال : ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل کی ترجمانی کے لیے اپنا کوئی خاص ٹی وی چینل ہوناچاہئے ؟

جواب :میں پوری طرح سے متفق ہوں کہ اس وقت اپنے مسائل کی ترجمانی کے لئے ٹی وی چینل ہونا اشد ضروری ہے، مسلمانوں کو یکجا ہوکر میڈیا کی طرف توجہ دی جانی چاہئے ،ہم خود ٹی وی چینل قائم کریں۔اس کا سب سے بڑااوراہم فائدہ یہ ہوگاکہ اس سے اسلام کے خلاف ہونے والے پروپگنڈوںکی تردید کرسکیںگے اوراسلام کو صحیح طور پر عوام کے سامنے پیش کرسکیںگے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر پھیلانے والوں کا سد باب بھی کیا جاسکے گا۔

میں یہ بھی کہتاہوںکہ اسلامی درس گاہوں ، کالجوں ، اور یونیورسیٹیز میں جوعالم دین فارغ ہوں ان کوالیکٹرونک میڈیا سے جوڑاجائے اوران کے سامنے الیکٹرونک میڈیا کی اہمیت کواجاگرکیاجائے یہ افراد اسلام کی دعوت اور خدمت خلق بھر پور طریقے سے کرسکتے ہیں ۔

سوال:فیڈریشن آف انڈین مسلم ایسوسی ایشن (FIMA) کے متعلق کچھ بتائیں؟

جواب : کویت میں مقیم ہندوستان کے مختلف علاقوں کے لوگوںنے اپنے اپنے علاقوں کے رہنے والوں کی فلاح وبہبود کے لیے مختلف ناموں سے سوسائٹیز قائم کیں، جن کا خاص مقصدکویت میں رہنے والے اپنے علاقوں کے باشندوں کاتعاون ، اورہندوستان میں اپنے علاقوں کے لیے رفاہی ، دینی، تعلیمی کام کوبڑھاوادیناتھا۔

اللہ کا فضل واحسان ہے کہ ۶۹۹۱ءمیں ان سوسائٹیز کے ذمہ داروں نے بیٹھ کر فیصلہ لیا کہ ہم تما م لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں،ان کی یہ مخلصانہ کوششیںکامیاب ہوئیں جسے اس وقت FIMA کی شکل و صورت میں دیکھ رہے ہیں، اس وقت FIMAکے ماتحت ۴۱ علاقائی سوسائٹیز ہیں۔اورمیں بے لاگ کہہ سکتاہوں کہ FIMA اس لیے وجود میں آئی ہے کہ مختلف مسلم کمیٹیاں آپس میں روابط استوارکرسکیں،ایک دوسرے کا حال معلوم کرسکیں، اورجو بھی مشکلات خواہ کویت میں پیش آئیں یا اپنے ملک میں‘ان کا صحیح حل نکالا جاسکے۔ FIMA کا سب سے بڑا اور خاص مقصد یہ ہے کہ ساری تنظیمیں ایک چھتری تلے جمع ہوں۔ اب تک جولوگ بھی فیما کے ذمہ دار رہ چکے ہیں ان کے نام یہ ہیں : ڈاکٹرمسعود اطہر ، مختار معروف ، شہزادچھتری والا ، ڈاکٹرغازی ، کریم عرفان ، اورصدیق ولیاقت ۔

سوال : کویت سے وطن لوٹنے کا فیصلہ کیوں کیا ، اور اگلامنصوبہ کیاہے؟

جواب :سب سے پہلے میں اللہ تعالی کامشکور وممنون ہوں جس نے ہمیں کویت میں رہنے کا زریں مواقع دیا، اس کے ساتھ ساتھ حکومت کویت اورکویتی عوام کے لوگوں کابھی ازحد ممنون ہوں کہ اس نے ہمارا ہرطرح سے تعاون کیا۔ یہ بات طے ہے کہ آدمی ہمیشہ کے لیے نہیں آیا، آج نہیں توکل جاناہے ،زندگی اللہ تعالی کی امانت ہے اس نے زندگی انسان کو اس لیے عطاکی ہے کہ وہ اللہ کی عبادت اورلوگوں کی خدمت کرسکے ، لہذامیں نے فیصلہ کیا ہے ،آج ہی اپنے وطن واپس چلاجا ؤں اورکچھ اہل وطن کے کام آسکوں ، تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ میرے لیے دعائیں کریںکہ جو زندگی بچی ہے اس میں وطن کے لوگوں کی صحیح طرح سے خدمت کرسکوں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*