قصے کہانیاں اور ہماری ذمہ داریاں

 كرم الله عبدالروؤف التيمي (كويت)

 انسان قصے کہانیاں اورحکایات و واقعات سننے کا پرانے زمانے سے عادی رہا ہے اور امتداد زمانہ کے باوجود آج بھی اس میدان میں پیش پیش ہے ، بالخصوص کم پڑھے لکھے لوگ تو شروع ہی سے اس کے رسیا ہیں ، قرب و جوار کا سرشام جا ئزہ لینے سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ہمارے یہاں اس کا کس قدر زورو شور ہے ، عموما ًیہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ چھوٹے بڑے کسی عمر دراز شخص کے اردگرد حلقہ نماں بیٹھ کر قصہ پارینہ بسرو چشم سماعت فرماتے ہیں، رات ڈھلتے ہی معصوم بچوں کے کان قصوں سے پر ہونے لگتے ہیں، اور مائیں اپنی اپنی علمی لیاقت کے اعتبار سے پرانی داستان بیان کرکے پریشان کن بچوں کے لیے سامان اطمینان فراہم کرتی ہیں ، دیہاتوں میں تو یہ ٹھنڈی کے ایام میں وقت گذاری کا انمول تحفہ بھی ہوتا ہے چنانچہ کہیں اکبر و بیربل کا تذکرہ ہوتا ہے، تو کہیں حسین و یزید کا،کہیں فرعون ملعون کے انا کی داستان دہرائی جاتی ہے، تو کہیں نمرود کے آتش کدہ کی، اور کہیں بزرگان دین کے حالات کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے اور زمان و مکان کے اعتبار سے اس کے لیے جدید وسائل بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

 بہر حال انداز بیان جو بھی ہو خواہ پرانے ہی طرز پر لوگ کار فرما رہیں یا آلات طرب کے ساتھ فرحت و نشاط کی مجلس سجاکر داستان اولیاءبیان کریں یا ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے والے واقعاتی پروگرام ہوں یا اس کو گوش گذار کرنے کے لیے اور بھی کوئی طریقہ اختیار کیا جاے، اس سے قطع نظر کہ کونسا طریقہ مشروع اور کونسا غیر مشروع ہے ہرحال میں اس کی سحر آفریں تاثیر کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے

قرآن مجید میں قصوں کی ایک جھلک

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں جہاں ایک طرف اسلامی احکامات ، دینی واجبات اور شرعی اصول و مبادیات کا ذکر کیا ہے وہیں دوسری طرف انبیاء و رسل بالخصوص اولو العزم انبیا ءو رسل کے حالات ، ان کے ساتھ پیش آمدہ واقعات اور ان کی ابتلاءو آزمائش کی صبر آزما زندگیوں کی بھی تصویر کشی کی ہے، ان کی دعوت و تبلیغ کے پر عزیمت ابواب و مراحل اور اعلاءکلمة اللہ کے لیے ان کے شبانہ روز کی سعی پیہم کو ہمارے لیے اسوہ  حسنہ بناکر پیش کیا ہے، اور جگہ جگہ مختلف اسالیب و پیرائے میں گزشتہ قوموں کے حالات و واقعات بھی بیان کیا ہے۔موسی علیہ السلام کی پیدائش ، پرورش و پرداخت، دعوت و تبلیغ، جادوگروں کے ساتھ مقابلہ آرائی اور ان سے فرعون کی عداوت و دشمنی کی کہانی نہایت ہی مفصل انداز میں واضح کیا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوتی زندگی کے درخشندہ ابواب ، غیروں سے بڑھ کر اپنوں تک کی مخالفت و رخنہ اندازی اور بڑھاپے میں معصوم بچہ کی قربانی کابے مثال قصہ بھی قرآن کریم کا ایک اہم جزءبنا دیا ہے۔ستارہ پرستی، چاند پرستی اور سورج پرستی کے خلاف ان کی آواز حق کو خود ہی ایک الگ قصہ کی حیثیت دے دیا ہے۔ایک منظم پلاننگ کے تحت حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ کے سایہ عاطفت سے دوری ، بھائیوں کی عداوت و دشمنی،کنویں میں ڈالے جانے کی کہانی، جیل خانہ میں ایک لمبی مدت تک قیدو بند کی زندگی اور پھر تخت نشینی کے عبرت آمیز واقعات سے مکمل سورہ یوسف کو لالہ زار بنا دیا ہے، اور ہمارے رسول اکرم ا کے اسراءو معراج کے برق رفتار پروازکو بھی اس باب کا رخ دے دیا ہے۔

 اس طرح اگر دیکھا جائے تو قرآن کریم قصوں سے بھراپڑا ہے،کہیں انبیا ءو رسل کی بعثت و توحید کی دعوت عام کرنے کے لیے ان کی انتھک جدو جہد کا قصہ مذکور ہے تو کہیں انکی دعوت کے جواب دہی کا تذکرہ اور کہیں فراعنہ کی طغیانی و سرکشی کی سر گزشت بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ بہت ساری سورتوں کے نام ہی سے قصوں کی ایک جھلک دل ودماغ کے پردے پر جھلکنے لگتی ہے تو اسمیں چنداں مبالغہ نہ ہوگا،بقرہ، یوسف، ابرہیم،اسراء، کہف اور مریم جیسی سورتوں کے نام سنتے ہی ہماری روحانی کیفیت کیسی ہونے لگتی ہے ؟ اور ہمارے قلب و جگر پر کس طرح کے قصے نقش ہونے لگتے ہیں؟ ہرصاحب بصیرت اور دینی امورسے واقفیت رکھنے والے اہل ایمان سے یہ مخفی نہیں۔

قرآن مجید میں قصوں کے ذکر کے اسباب

(1)نبی محمد صلى الله عليه وسلم کی نصرت و حمایت:یہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ نبی اکرم انے جب اپنی نبوت و رسالت کا اعلان کیا ، کفار مکہ کے صنم کدہ میں آواز حق بلند کیا اور اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا تو انہوں نے جہاں ایک طرف آپ کی باتوں کو ٹھکرایا ، وہیں دوسری طرف آپ کی صداقت کا پورح طرح پتہ لگانے کے لیے آپ سے طرح طرح کے سوالات کیا، کبھی قیامت کے بارے میں پوچھا تو کبھی روح کی حقیقت معلوم کرنا چاہا، کبھی اصحاب کہف اور کبھی ذوالقرنین کی بابت آپ کی صداقت کا پتہ لگانا چاہا۔

 ظاہر تھا کہ ایسے نازک موقعوں پر آپ کی مدد کیجائے، آپ کی نبوت و رسالت پر دھبہ نہ آنے دیا جائے، حق کی صدائے بازگشت ان کے کانوں تک پہنچائی جائے اور ان کے مذکورہ سوالات کا منھ توڑ جواب دیا جائے، تاکہ حق کا بول بالا ہو، اسلام کا پرچم ان کے بتکدوں میں لہراے اور اعداءاسلام کشاں کشاں اس دین محمدی سے قریب تر ہوتے چلے جائیں ، چنانچہ اللہ تعالی نے وقتا فوقتا حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھیج کر ان کے سوالات کا جواب دیا اور آپ کا ہر موقع پر بھر پور تعاون کیا جیساکہ آخر الذکر تینوں سوالوں کے بارے میں علامہ قرطبی ؒنے لکھا ہے کہ سورہ کہف کا نزول کفار مکہ کے مذکورہ تینوں سوالوں کے جواب میں تھا، البتہ آپ کے ان شاءاللہ نہ کہنے کی وجہ سے پندرہ روز تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا، پھر کفار مکہ کے مذکورہ سوالات کا جواب لے کر حضرت جبرئیل امین آپ کے پاس آئے اور کسی کام کا عزم کرتے وقت ان شاءاللہ کہنے کی تعلیم دی۔    (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۱۰/ ۳۸۵)

(2)داعیان حق کے لیے تسلی: اللہ تعالی نے ابتداءآفرینش لے کر حضرت محمد صلى الله عليه وسلم كي بعثت تک بے شمار انبیاءو رسل کو مبعوث فرمایا،ان کی دعوتی زندگی کیسے پائے تکمیل کو پہنچیں؟ ان کی قوموں نے ان کی لائی ہوئی شریعت پر کہاں تک عمل کیا ؟ اور پھر ان کو اللہ کے بندوں تک پیغام الہی پہنچانے میں کن کن دشوار گذار گھاٹیوں کا سامنا کرنا پڑا یہ ایسے امور ہیں جن کے بارے میں ہر داعی کو جانکاری رکھنا ضروری تھا تاکہ دعوت کے میدان میں داعی قدم رکھتے ہوئے ناامیدی کا شکار نہ ہو،دعوت کے دشوار گزار مراحل کو دیکھ کر دل برداشتہ نہ ہونے پائے، معاندین و مخالفین کی ایذا رسانیوں سے تنگ آکر جاده حق سے اس کا قدم نہ ڈگمگائے اور نہ ہی غیروں کی اسلام دشمنی اس کےلیے سد راہ بن جائے،بلکہ اس کی راہ میں جب مصائب و مشکلات آجائیں تو سیرت ابراہیمی کو اپنے سامنے رکھ لے، دشمنان اسلام کی ریشہ دوانیاں سر چڑھ کر بولنے لگیں تو سیرت نبوی کو اپنا اسوہ حسنہ بنالے اور حکمت عملی کا دامن نہ چھوڑے جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے”

”یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ(موجود) ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالی کو یاد کرتا ہے“۔        (الاحزاب/ ۲۱)

 آپ محمد صلى الله عليه وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ کو ہمیشہ اپنی امت کی رشدوہدایت اور دائمی فلاح و نجات کی فکردامنگیر رہتی تھی، انہی کے غم میں آئے دن مضطرب و پریشان رہتے تھے، ساتھ ہی کفار کے اعراض و گریز سے کافی تکلیف زدہ اور سراسیمہ بال رہنے لگے تھے جس کا ذکر اللہ تعالی نے یوں کیاہے: ”پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کرڈالیں گے“۔(الکہف/۶)

چنانچہ اللہ تعالی نے آپ کوگذشتہ امتوں کے حالات سے باخبر کیا، ان کی طرف بھیجے گیے انبیاءو رسل کی داستان بتائی اور یہ باور کرایا کہ ان کے ساتھ بھی تکذیب و توہین کا معاملہ پیش آیا ، ان کا بھی مذاق اڑایا گیا اور ان کے خلاف بھی سازشیں کی گئیں جس پر انہوں نے صبر و شکیبائی سے کام لیا یہاں تک کہ نصرت الہی ان تک آپہنچی جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:”اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر کیا، ان کی تکذیب کی گئی اور انکو ایذائیں پہنچاگئیں یہاں تک کہ ہماری امداد ان کو پہنچی اور اللہ کی باتوں کوکوئی بدلنے والا نہیں اور آپ کے پاس پیغمبروں کی بعض خبریں پہنچ چکی ہیں“۔          (الانعام۳۲)

(3) غیبی امور کے ذریعہ نصرت محمدی: عہد نبوی میں مختلف عقائد و نظریات کے حامل لوگ موجود تھے۔کفار و مشرکین اور یہودو نصاری کا دور دورہ تھا،جن کے باطل معتقدات کا ہر سو جال بچھا تھا اور جنہوں نے اپنے دین میں تحریف کرکے حضرت عیسی اور عزیر  علیہما السلام جیسے اللہ کے برگزیدہ بندوں کو اللہ کا فرزند تسلیم کرلیا تھا اور اپنے اس غلو آمیز عقیدہ سے ٹس مس نہ ہورہے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ کوئی دوسرا حربہ اپنایا جاتا اور ان کے اس باطل نظریہ کی نفی کی جاتی ، چنانچہ اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کی حقیقت سے ان کو مطلع کیا اور نبی انے روگردانی کی صورت میں ان کو مباہلہ کی بھی دعوت دی، جس کا ذکر اللہ تعالی نے یوں کیا ہے :

“اللہ تعالی کے نزدیک عیسی علیہ السلام کی مثال ہو بہو آدم علیہ السلام کی مثال ہے جسے مٹی سے بناکر کہہ دیا کہ ہو جا!پس وہ ہو گیا!تیرے رب کی طرف سے حق یہی ہے ،خبردار شک کرنے والوں میں نہ ہونا،اس لیے جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آجانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے توآپ کہہ دیں کہ آؤ ہم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص کر اپنی اپنی جانوں کو بلالیں، پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں ،صرف یہی سچا بیان ہے اور کوئی معبود برحق نہیں بجز اللہ کے، اور بے شک غالب اور حکمت والا اللہ تعالی ہی ہے“۔ (آل عمران ۵۹۔۶۲ )

اسی طرح حضرت مریم علیھا السلام کی کفالت اور دیکھ بھال لوگوں کے درمیان متنازع فیہ امر بنا ہوا تھا جس میں اللہ تعالی نے انہیں راہ حق دکھایا اور صدیوں قبل وقوع پذیر واقعہ کی حقیقت سے آپ ا کو روشناس کرایا جیساکہ فرمان الہی ہے: ’ ’یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں، تو ان کے پاس نہ تھا جبکہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا؟اور نہ تو ان کے جھگڑنے کے وقت ان کے پاس تھا“۔           (آل عمران/۴۴)

لیکن تعجب ہوتا ہے کہ آج کل کے بدعت پرستوں پر جنہوں نے آپ کو عالم الغیب کہا اور ہر جگہ آپ کے موجود ہونے کا عقیدہ گڑھ لیا،جبکہ مذکورہ آیت سے اس کی نفی ہوتی ہے کہ آپ ا اگر واقعی عالم الغیب ہوتے تو پھر اللہ تعالی یہ ہرگز نہ فرماتا کہ “ہم غیب کی باتیں آپ کو بتلارہے ہیں” اور نہ ہی قرعہ اندازی کے وقت آپ کی عدم موجودگی کی نفی ہی کرتا کیونکہ حاضر و ناظر کو ہر چیزکی خبر ہوتی ہے ،وہ کسی اور کے بیان کا محتاج نہیں ہوتا ہے لیکن یہاں تومعاملہ کچھ اور ہی ہے،طائف میں آپ کو لہولہان کیا جارہا ہے،جنگ احد میں آپ کے دندان مبارک شہید کیے جارہے ہیں،جنگ مریسیع سے واپسی پرآپ کی بیوی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان طرازی کی جارہی ہے اور خیبرمیں زہرآلود گوشت پیش کیا جارہا ہے پھربھی آپ کو کچھ خبر نہیں، اگر آپ عالم الغیب ہوتے تو یہ ساری مصیبت کی گھڑیاں پیش نہ آتیں،بلکہ اللہ تعالی نے تو صرف چند غیبی امور سے آپ کو مطلع کیا تھاجو آپ کی رسالت کے لیے ضروری تھے اور جن کا تعلق آپ کی دعوتی زندگی سے تھا جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

”وہ غیب جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اس کے جسے وہ پسند کرے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتاہے“۔ (الجن ۲۶۔۲۷)

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں”یعنی اپنے پیغمبروں کو بعض امور غیب سے مطلع کردیتا ہے جن کا تعلق یاتو ان کے فرائض رسالت سے ہوتا ہے یا وہ اس کی رسالت کی صداقت کی دلیل ہوتے ہیں اور ظاہر بات ہے کہ اللہ کے مطلع کرنے سے پیغمبرعالم الغیب نہیں ہوسکتا، کیونکہ پیغمبر بھی اگر عالم الغیب ہو تو پھر اس پر اللہ کی طرف سے غیب کے اظہار کا کوئی مطلب ہی نہیں رہتا اللہ تعالی اپنے غیب کا اظہار اسی وقت اور اسی رسول پر کرتا ہے جس کو پہلے اس غیب کا علم نہیں ہوتا ،عالم الغیب صرف اللہ ہی کی ذات ہے جیساکہ یہاں بھی اس کی صراحت فرمائی گئی ہے”  ( قرآن کریم اردوترجمہ وتفسیر ص:۱۹۴۳)

(4)عبرت آموزی کا درس : یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ انسان ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنی زندگی سنوارنے اور ماضی کے تناظر میں مستقبل کو تابناک بنانے کی کوشش کرتا ہے، پرانے واقعات و حادثات اور روایات سے سبق سیکھتا ہے اور مؤمن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈساجاتا کی عملی تصویر بننا چاہتا ہے،چنانچہ اللہ تعالی نے اسی لیے قرآن کریم میں مختلف مقامات پر گزشتہ قوموں کے حالات کو بیان کیا ہے، ان کی انبیاءدشمنی اور پھر اس پر مرتب ہونے والے دردناک عذاب کا ذکر کیا ہے،قوم ہوداور قوم صالح کی طغیانی و سرکشی کا نقشہ کھینچا ہے،طوفان نوح کا دردناک منظر پیش کیا ہے اور فرعون کی انانیت کو توڑتے ہوئے اس کو ہمارے لیے سامانِ عبرت بنادیا ہے جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے”سو آج ہم صرف تمہاری لاش کو نجات دیں گے تاکہ تو ان کے لیے نشان عبرت ہو جو تیرے بعد میں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں“۔

اسی طرح اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کے فرزند کی غرقیابی، حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی نامرادی اور حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کی حسرت و ندامت کے عبرت انگیزقصے بیان کرکے ہمیں ہرطرح کے امتیاز و تفریق سے روک رکھا ہے، اور یہ درس دیا ہے کہ اس کے بارگاہ میں حسب و نسب اور کنبہ و قبیلہ کا کوئی فرق نہیں بلکہ آسیہ بھی حکم الہی بجاکر بلندو بالا مقام کو حاصل کرسکتی ہے اور نبی کے خویش و اقارب شیطانی اعمال کرکے جنت سے دور ہوسکتے ہیں گویا یہ واقعات عبرت آموزی کے لیے بہترین دلیل راہ ہیں جن کو پڑھ کر ہم اپنی عاقبت کو ان شاءاللہ عمدہ سے عمدہ بناسکتے ہیں اور اللہ کے انعامات واکرامات کے مستحق ہوسکتے ہیں اور انہیں پس پشت ڈال کر شیطان کو اپنا امام و پیشوا بناکر جہنم کی کھائی میںانسان پہنچ سکتا ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*