نفع ونقصان کا مالک کون ؟

 ڈاکٹرحافظ محمد اسحاق زاہد (کویت)

ہرمسلمان کو اِس بات پر پختہ یقین ہونا چاہیے کہ نفع ونقصان کا مالک اللہ تعالی ہے ۔ اس کے سوا یہ اختیار کسی کے پاس نہیں ،نہ کسی ولی کے پاس نہ کسی بزرگ کے پاس ۔ نہ کسی پیر ومرشد کے پاس اور نہ کسی نبی کے پاس ، حتی کہ سید الانبیاء حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم ) جو تمام بنوآدم کے سردار اور سارے انبیاء ورسل کے امام ہیں وہ کسی کے نفع ونقصان کے مالک تو کجا اپنے نفع ونقصان کے مالک بھی نہ تھے ۔

 اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴾ قلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (18 سورة الأعراف الآية 188           

”آپ کہیے کہ میں تو اپنے نفع ونقصان کا مالک بھی نہیں سوائے اس کے جو اللہ چاہے اور میرے پاس غیب کا علم ہوتا تو بہت ساری بھلائیاں اکٹھی کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی ۔ میں تو صرف ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں ۔ “

اس آیت کریمہ میں غور کیجئے کہ جب امام الانبیاءحضرت محمد (صلى الله عليه وسلم )  اپنے نفع ونقصان کے مالک بھی نہیں تو ان سے کمتر کوئی ولی یا کوئی بزرگ یا کوئی پیر جن کی قبروں کی طرف لوگ قصداً جاتے ہیں ‘وہ کسی کو نفع ونقصان پہنچانے کا اختیار کیسے رکھتے ہیں ؟

اور جن سے لوگ حصولِ نفع کی امید رکھتے اور ان کی طرف سے نقصان پہنچنے کا خوف کھاتے ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ  (الزمر 38)

”آپ کہہ دیجئے کہ تمہارا کیا خیال ہے جن معبودوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا وہ اللہ کی طرف سے آئے ہوئے نقصان کو دور کردیں گے ؟ یا وہ مجھے اپنی رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک لیں گے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ،بھروسہ کرنے والے صرف اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔

اس آیت کریمہ میں گویا اللہ تعالی نے چیلنج کیا ہے کہ اگر کسی بھی غیر اللہ کے پاس نفع ونقصان کا اختیار ہے تو جس کو اللہ تعالی نقصان پہنچانا چاہے ، وہ اسے اس نقصان سے بچاکر دکھائیں ،یا جس کو اللہ تعالی اپنی رحمت سے نوامنا چاہے تو وہ اس سے اس رحمت کو روک کر دکھائیں ، یعنی وہ ایسا نہیں کر سکتے ۔ اور جب وہ ایسا نہیں کرسکتے تو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی کو نفع ونقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتے ۔

اسی طرح اللہ تعالی فرماتے ہیں:  ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ     ُ ﴿(سورہ فاطر2)    

”اللہ جو رحمت لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ روک دے اس کے بعد اسے کوئی جاری رکھنے والا نہیں ۔ اور وہ سب پر غالب اور بڑی حکمت والا ہے ۔ “

اور اسی لیے اللہ تعالی نے اپنے علاوہ کسی اور کو پکارنے سے منع فرمایا ہے ۔ اللہ تعالی کافرمان ہے :  ولاَ تَدْعُ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَنفَعُكَ وَلاَ يَضُرُّكَ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ  )سورہ یونس ) (107 )

”اور اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو مت پکارنا جو تجھے نہ نفع پہنچا سکے اور نہ نقصان پہنچاسکے ۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے ۔ اور اگر آپ کو اللہ تعالی کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے علاوہ اسے کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر آپ کو کوئی خیر پہنچانا چاہے تواس کے فضل کو کوئی ہٹانے والانہیں ۔وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کردے ۔ اور وہ بڑا معاف کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ “

اس آیت کریمہ میں جہاں اللہ تعالی نے غیراللہ کو ”جونفع ونقصان کا مالک نہیں ‘ ‘پکارنے سے منع فرمایا اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اے محمدا! اگر آپ ایسا کریں گے تو (نعوذباللہ ) ظالموں میں سے ہوجائیں گے ،وہاں اللہ تعالی نے یہ بھی واضح کردیا کہ اگر وہ اپنے پیارے نبی حضرت محمد اکو کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو اسے کوئی دور نہیں کرسکتا اور اگر وہ اسے اپنے فضل سے نوازنا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ اختیار ہے ہی صرف اللہ تعالی کے پاس ۔ اور ذرا سوچیں ! اگر امام الانبیاءحضرت محمدا کو سوائے اللہ کے اور کوئی نقصان سے بچانے والا نہیں تو عام مسلمانوں میں سے کسی شخص کو سوائے اللہ کے کون نقصان سے بچا سکتا ہے ؟ ۔

لہذا کسی بھی غیراللہ سے نہ نفع کی امید رکھنی چاہیے اور نہ ہی اس سے کسی نقصان کا خوف کھانا چاہیے ۔ کیونکہ غیراللہ سے اس بات کا خوف کھانا کہ وہ اپنے ارادے اور اپنی قدرت سے جس کو چاہے اور جو چاہے نقصان پہنچا سکتا ہے یہ شرک اکبر ہے ۔

اسی لیے حضرت ابراہیم ںنے فرمایا تھا:

  وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلاَّ أَن يَشَاء رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ

 وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا  (81) (سورہ الانعام )

 ”اور میں ان معبودوں سے نہیں ڈرتا جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہومگریہ کہ میرے رب کی ہی کوئی مشیت ہو۔ میرے رب کا علم ہر چیز کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے ۔ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟ اوران سے میں کیسے ڈروں جنہیں تم اللہ کا شریک بناتے ہوحالانکہ تم ان باتوں سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک ایسی چیزوں کوبنارکھا ہے جن کی اللہ نے تم پر کوئی دلیل نہیں اتاری ۔“

اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی پیر فقیر اور بزرگ سے قطعاً خوف زدہ نہیں ہوناچاہیے اور اس بات پر پختہ یقین ہوناچاہیے کہ اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر کوئی کسی کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتا ۔ ایسا خوف صرف اللہ تعالی ہی سے ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی ہی وہ ذات ہے جو اپنے ارادے سے نقصان پہنچانے پر قادر ہے اور اگر وہ نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ کرے تودنیا کا کوئی بزرگ یا پیر یا سجادہ نشیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے : قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلاَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ  َ (سورہ التوبة 51)  ”آپ کہہ دیجئے کہ ہمیں ہرگز کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے حق میں لکھ دی ہے ۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو تو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے “۔

اسی طرح رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم ) کا ارشاد گرامی ہے :

”اور اس بات پر یقین کرلو کہ اگر پوری امت جمع ہوکر تجھے نفع پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے ۔ اور اگر پوری امت جمع ہوکرتمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچاسکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے ۔ “     ( ترمذی 2516 صحیح الجامع للالبانی 7957)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*