آپ کے مسائل اور ان کا حل

 شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازرحمه الله

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی قبر کو مسجد میں داخل کرنے کی حکمت

سوال : یہ تو معلوم ہے کہ مساجد میں مردے دفن کرنا جائز نہیں اور جس مسجد میں قبر ہو ‘ وہاں نماز جائز نہیں ۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور آپ کے بعض صحابہ کی قبروں کو مسجدنبوی میں داخل کرنے کی کیا حکمت ہے ؟

جواب : رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالی یہود ونصاری پر لعنت کرے ‘ انہوں نے اپنے انبیاءکی قبروں کو مسجد بنالیا “ ۔ اس حدیث کی صحت پر شیخین کا اتفاق ہے ۔

 نیز آپ صلى الله عليه وسلم سے یہ بھی ثابت ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام سلمہ  اور ام حبیبه رضي الله عنهما  دونوں نے رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم سے ایک کنیسہ کا ذکر کیا جو انہوں نے سرزمین حبشہ میں دیکھا تھا جس میں تصاویر تھیں، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :

اولٰئِکَ اِذَا مَاتَ فِیھِم الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوا عَلٰی قَبرِہ مَسجِداً وَصَوَّرُوا فِیہِ تِلکَ الصُّوُرَ ، اولٰئِکَ شِرَارُ الخَلقِ عِندَ اللّٰہِ (متفق علیہ ) ۔

 ”ان لوگوں میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد تعمیر کرلیتے اور اس میں بزرگوں کی تصویریں بنا دیتے ۔ یہ لوگ اللہ کے ہاں بدترین مخلوق ہیں“ ۔

اور صحیح مسلم نے بھی اپنی صحیح میں جندب بن عبداللہ بجلی ؓسے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ا کو فرماتے ہوئے سناہے :

”بیشک اللہ تعالی نے مجھے خلیل بنایا ہے جیساکہ ابراہیم علیہ السلام کو دوست بنایا اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر ؓ کو بناتا ۔ خوب سن لو! کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے انبیاءاور بزرگوں کی قبروں کو مساجد بنا لیا ۔ خوب سن لو ! تم قبروں کو مسجدیں نہ بنانا ، میں تمہیں اس کام سے منع کرتا ہوں “۔

مسلم میں جابررضي الله عنه  سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے ، ان پر بیٹھنے اور ان پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

یہ احادیث صحیحہ اور دوسری جو اس معنی میں وارد ہیں سب کی سب قبروں پر مسجدیں بنانے اور ان پر گنبد بنانے اور انہیں پختہ کرنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں ۔ کیونکہ یہ باتیں شرک اور اللہ کو چھوڑ کر قبر کے باسیوں کی عبادت کا سبب بنتی ہیں ۔ جیسا کہ پہلے بھی ہوتا رہا اور اب بھی ہو رہا ہے ۔ لہذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں ایسی باتوں سے بچیں ‘ جن سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے منع فرمایا ہے ، ورنہ وہ لوگوں کی اکثریت کے فعل سے دھوکہ میں پڑجائیں گے، کیونکہ حق مومن کی گم شدہ چیز ہے ، جہاں اسے پاتا ہے قبول کرلیتا ہے اور حق کتاب وسنت کی دلیل سے ہی پہچانا جا سکتا ہے ، لوگوں کی آراءاور اعمال سے نہیں پہچانا جا سکتا ۔

 محمد صلى الله عليه وسلم  اور آپ کے دونوں ساتھی مسجد میں دفن نہیں ہوئے تھے ، وہ تو حضرت عائشہ رضي الله عنها کے گھر میں دفن کئے گئے تھے ۔ لیکن جب ولید بن عبدالملک کے عہد حکومت میں مسجد نبوی کو پہلی صدی کے آخر میں وسیع کیا گیا تو حجرہ کو مسجد میں داخل کردیا گیا ، اور ولید کا یہ عمل مسجد میں دفن کے حکم میں معتبر نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو مسجد کی زمین کی طرف منتقل نہیں کیا گیا بلکہ حجرہ ہی کو مسجد کی توسیع کی خاطر مسجد میں داخل کردیاگیا ۔

 لہذا یہ بات کسی کے لیے قبروں پر تعمیریا ان پر مسجدیں بنانے یا مسجد میں دفن کرنے کے جواز پر حجت نہیں بن سکتی ، جیسا کہ ابھی میں نے ان احادیث صحیحہ کا ذکر کیا ہے جن میں ان باتوں کی ممانعت ہے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے ثابت شدہ سنت کے خلاف ولید کا عمل حجت نہیں بن سکتا …. اور اللہ ہی توفیق عطا کرنے والا ہے ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*