مکتوبات

مکرمی ایڈیٹر صاحب  آداب و تسلیم

امید کہ آپ بخیر ہوں گے

میں مصباح کا قدیم قاری ہوں ،میں اس کو بہت پسند کرتا ہوں ،اور اس کی پسندیدگی کی بھی خاص وجہ ہے ۔ وہ یہ کہ مصباح ایک خالص دینی ،دعوتی اور اسلامی ماہنامہ ہے ۔ اس کا اول تا آخر دعوتی پیغام لیے ہوتا ہے ۔آپ اس کی شروعات ”صدائے عرش“ سے کرتے ہیں ، اس کے بعد ”آئینہ رسالت“ ہوتاہے جس میں آپ کسی حدیث کو لیتے ہیں اور اس کی تشریح وتوضیح کرتے ہیں ،اس کے بعد آپ ”ہدایت کی کرنیں“ میں نومسلم مردوخواتین کے قبول اسلام کا قصہ بیان کرتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آج دنیا کو اسلام کی سخت ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ آپ اس میں” آپ کے مسائل اور ان کا حل“ ،”مکتوبات“ اور ”دینی سرگرمیاں“ کا ذکر کرتے ہیں جس سے قاری کو پتہ چلتا ہے کہ آج امت کو کیا مسائل درپیش ہیں اور ان کا ازالہ کیسے ممکن ہے ۔ کل ملاکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا رسالہ خاموش داعی ہے جو ہمہ وقت قاری کے اندر اسلامی تحریک کو جلا بخشتا ہے ۔ اللہ تعالی رسالہ کو دیر تک اور دور تک قائم ودائم رکھے ۔ آمین ثم آمین

دعاگو

آفتاب عالم ندوی (کٹکو ،صبحان کویت )

 

محترم  ایڈیٹر صاحب صاحب

 السلام علیکم ورحمة اللہ

آج میں نے نیٹ پر آپ کا رسالہ مصباح پڑھا ، بڑی خوشی ہوئی ،رسالہ معلومات افزا ہے ، اللہ تعالی آپ کی کوششوں کو قبول فرمائے ۔ اور اسے ہم سب کی ہدایت کا ذریعہ بنائے آمین ۔ 

     مطیع الرحمن عبد الله   (ریاض ،سعودی عرب)

 

محترم جناب ایڈیٹر صاحب

ماہنامہ مصباح کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ، زندگی میں سدھار پیدا کرنے والے بہترین مضامین پر مشتمل ایک عمدہ رسالہ ہے، گذشتہ پانچ ماہ سے ہی ماہنامہ مصباح کا مطالعہ کرنے کا شرف حاصل ہورہا ہے ،لیکن جب سے اس کا مطالعہ شروع کیا ہے آنکھوں کو ٹھنڈک، دل کو سکون اور روح کو آرام سا نصیب ہوا ہے ۔ اب تو ہرماہ اس کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے ۔ اتنا اچھا رسالہ پیش کرنے پر اللہ تعالی آپ کو دنیا وآخرت میں سکون نصیب فرمائے ۔ اور اللہ تعالی مجھے اسلام میں پورا پورا شامل ہونے کی توفیق دے ۔

شہزاد سلطان کیف (فروانیہ ۔ کویت)

 

مجلہ مصباح کے محترم ذمہ داران کے نام

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالی آپ تمام شیوخ ومکرمین کو اس کارخیر کا اعلی اجر عطا فرمائے، مجلہ کے موضوعات دلچسپی سے معمور اور علمی ومعلوماتی دلائل سے بھرپور ہوتے ہیں خصوصاً محترم صفات عالم صاحب ،شیخ انور سلفی صاحب، اعجازالدین عمری صاحب اور محمد نصیرالدین صاحب کی تحریروں نے روح کو جھنجھوڑنے اور ذہن کو جلا بخشنے کا کام کیا ۔ اچھے اشعار سے مزین عنوان جادو کا سا اثر رکھتا ہے ۔ بقول شاعر

 ہے شاعر دلنواز بھی بات اگر کہے کھری   

ہوتی ہے اس کے فیض سے مزرع زندگی ہری

جبکہ درج بالا حضرات کی نثر الحمد للہ انقلاب آموز سے سرشار ہے ۔ حسرت موہانی  نے مولانا آزاد  کے متعلق لکھا تھا  “جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا “

مجلے کا انتظار اور اشتیاق اس کو معلوم ہے جو اسے دل کی آنکھوں سے بھی پڑھے ، ہم کو یہ مجلہ کبھی مسجد البسام جہرا ء سے ملا کرتا تھا ، اب نہیں ملتا ۔ کبھی IPCسے پتہ کریں تو کہتے ہیں ختم ہے، کبھی کویت سیٹی ہیڈ آفس سے، کبھی من وسلوی ہوٹل سے ساتھی حضرات لاتے ہیں،  شاید ساکنین جہرا مساکین کے درجے میں ہیں ، کبھی حصہ ملا اور کبھی مل نہ سکا

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

اللہ تعالی ہم سب کو نور مصباح سے فیضیاب ہوکر صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

 والسلام

اخوکم فی اللہ

 قمر ضیاء (کویت)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*