باتیں! چھ حقوق کی

علاءالدین عین الحق مکی (کویت)

 حضرت ابوہریرہ  رضي الله عنه  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ،آپ نے ان کی تفصیل معلوم کرنے پر فرمایا:

٭تمجب بھی ملو اسے سلام کرو٭ جب بھی دعوت دے تو اسے قبول کرو٭جب کوئی نصیحت اور مشورے طلب کرے تو اس میںکوئی کمی کوتاہی نہ کرو(پوری پوری نصیحت کرواور مشورہ دو) ٭جب چھینکنے کے بعد الحمدللہ (شکر ہے اللہ کا ) کہے تو اس کا جواب دو٭جب وہ بیمارہو تو اس کی تیمارداری کرو٭اور اگر مرجائے تواس کے جنازہ میں شامل ہو۔“ (مسلم شریف)

تشریح : یہ حدیث انتہائی جامع اور اسلامی بنیا دی حقوق سے متعلق ہے ،اس میں وہ تعلیمات دی گئی ہیں جو ہماری روزمرہ کی زندگی میں شب وروز پیش آتی رہتی ہیں ، انہیں اپنی عملی زندگی میں برتنے سے دینی اخوت جہاں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی رہتی ہے وہیں معاشرہ محبت والفت اور اسلامی بھائی چارہ کا گہوارہ بن جاتا ہے ۔ انسانی حقوق کے مغربی بے جان نعروں سے متاثر ہوکر کوئی آدمی شیطانی گمراہی کا شکار نہ ہو کہ دین اسلام مذکورہ چھ حقوق کے معاملے میں کیوںمسلم اور غیر مسلم کے درمیان امتیاز اور تفریق کا لحاظ کرتا ہے ؟ انسانی مساوات کی بنیاد پر ان حقوق میں کیا تمام انسان مساوی نہیں ہیں ، ہرگز نہیں بلکہ یہاں ایک لطیف نکتہ باور کرانا مقصود ہے اور وہ یہ کہ مذکورہ چھ حقوق کا حقدارکوئی آدمی صرف ایمان واعتقاد اور دین کی بنیاد پرہی ہوسکتا ہے اور یہ حقوق العباد میں سے بھی خاص طرح کے حقوق ہیں جو دین اسلام سے وابستگی کی بنیاد پر ملتے ہیں ۔ جہاں تک عام انسانی حقوق کی بات ہے تو دین اسلام نے اس چیز کا ایسا اہتمام کیا ہے جس کی مثال دنیائے انسانیت میں ملنا مشکل ہے ۔ اور اسلام کے علمبرداروں کو یہ ذہن نشیں کرانا بھی مقصودہے کہ ان حقوق کی ادائیگی میں ہرگز کسی نسل ، زبان،ملک،خاندان وقبیلہ ،رنگ،اپنے بیگانے اور کسی سابقہ تعارف یا عدم تعارف کی کوئی قیمت نہیں ہے بلکہ اس باب میں اعتبار صرف اسلام کا ہی ہوگا ۔

ان چھ حقوق میں سے ایک ایک حق کی مستقل تشریح ،ان کی افادیت اور حکمت ومصلحت کی تفصیل معلوم کرنے کے لیے بڑی بڑی کتابوں کامطالعہ کرنا چاہیے تاہم چند سطور مزید وضاحت کے لیے پیش خدمت ہیں :

(1) سلام وجواب :اسلام سراپا سلامتی اور امن کا دین ہے ،”السَّلام“ کا لفظ بول کر آدمی صاف شفاف آئینہ کی طرح اپنے آپ کو اپنے بھائی کے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے تاکہ دونوں یاسب کے سب آپس میں بالکل محفوظ ومامون ہوجائیں ۔ یہ ایک زبردست دعائیہ جملہ ہے جو اپنے آغوش میں محبت والفت کا پیغام لے کر آتا ہے ۔ محبت ایمان کے لیے جلا بخشنے اور اضافے کا باعث بنتاہے اور ایمان دخول جنت کا سبب ہے ۔ پیارے حبیب ا نے فرمایا :” قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اس وقت تک جنت میں نہیں جاسکتے جب تک کہ ایمان نہ لاؤ اور اس وقت تک کامل ایمان سے ہمکنار نہیں ہوسکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرو ۔ تو کیا میں تمہیں کوئی ایسانسخہ نہ بتادوں کہ جب اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو۔ ہاں!وہ یہی ہے کہ آپس میں سلام کو خوب فروغ دو“ ۔(ابوداؤد شریف)

سلام کا جواب دینا واجب اور لازمی ہے ورنہ آدمی گنہگار ہوگابلکہ سلام کرنے سے اس کے جواب کا حکم زیادہ مؤکد ہے ۔ ”اور جب تمہیں سلام کیا جائے تواس سے اچھا جواب دو یا انہیں الفاظ کو لوٹادو ، بیشک اللہ تعالی ہرچیز کا حساب لینے والا ہے“(النساء86 )  

 (2) قبول دعوت:کھانے پینے کی دعوت کے علاوہ ہرقسم کی جائز دعوت بھی اسی حق کے تحت آتی ہے ۔ بھلا اس سے زیادہ تعظیم وتوقیر اور اکرام کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک بھائی اپنے بھائی کو دعوت دے ۔ چنانچہ اگر کوئی جائز عذر شرعی نہ ہو تو بہرحال دعوت قبول کرنا چاہیے ۔ خاطر داری میں آپ کی صرف حاضری ہی کسی کے لیے باعثِ افتخار واعزاز ثابت ہوسکتی ہے ۔

(3) نصیحت ومشورہ : دین تونصیحت ہی کا نام ہے اور مشورہ دینے میں پوری امانت داری سے کام لینا چاہیے ۔ یوں تو نصیحت کرنا آدمی کی دینی واخلاقی ذمہ داری ہے ۔ لیکن اگر کوئی ازخود نصیحت یا مشورہ طلب کرے تو یہ ذمہ داری دوچند ہوجاتی ہے ۔ ہر پہلو سے زیر غور مسئلے کا جائزہ لے کر صحیح مشورہ دینے کی پوری کوشش کرنی چاہیے ۔  آپ انے فرمایا: ”جوکوئی دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ( مسلم ) ۔

(4) چھینک اور اس کا جواب : چھینک آنا طبی نقطہ نظر سے بہت بڑی نعمت ہے ۔ اگریہ نہ آئے یا رک جائے توانسان بڑی بڑی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے ۔ اسی لیے بطور شکر ”الحمدللہ“ کہنے کی تعلیم دی گئی ہے اور سننے والے کو دعائیہ جملہ ”یرحمک اللہ “ (اللہ آپ کے ساتھ رحم کا معاملہ فرمائے) کہناچاہیے ۔پھرپہلے شخص کو جواباً یہ کہنا چاہیے : ” یھدیکم اللہ ویصلح بالکم “ (اللہ تعالی آپ کو صحیح شعور دے اور آپ کی زندگی درست رکھے )۔

(5) عیادت مریض : محبت اور خلوص کے اظہار کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہوتاہے ،مصیبت اور بیماری کی حالت میں دوسرے کو دیکھ کر خود اپنی صحت کی قدر وقیمت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے ۔ اور شکرالہی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کی بڑی فضیلتیں اور برکتیں بھی ہیں ۔ بیمار کے پاس بیٹھ کر خوش کرنے والی پیاری پیاری باتیں کرنا اس کے لیے صحت بخش ثابت ہوتا ہے ۔

(6) جنازہ اور تدفین میں شرکت:میت کے حق کی ادائیگی کے ساتھ اس کے اعزہ واقارب کے حقوق کی ادائیگی بھی ہوجاتی ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں اس کی فضیلت اس طرح بیان کی گئی ہے ۔ ”جو کوئی جنازہ کے ساتھ نکلا پھر نماز پڑھی تو اسے ایک قیراط کے برابر اجروثواب ملتا ہے ، اور جو کوئی تدفین تک شامل رہتا ہے تو اسے دو قیراط کے برابراجرملتاہے “۔( بخاری ومسلم )

عام طو رسے آدمی صرف اپنے حقوق لینے کی بات یاد رکھتا ہے اور دوسروں کے حقوق یکسر بھول جاتا ہے ۔ یاد رکھیے ! اگراپنے حقوق صحیح طور سے لینا چاہتے ہوں تو پہلے دوسروں کے حقوق ادا کرنا سیکھیے ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*