نہیں تیرا نشیمن قصرسلطانی کے گنبد پر

           صفات عالم محمدزبیرتیمی

         safatalam12@yahoo.co.in

 کویت میں اردو داں طبقہ کے لیے محترم جناب ہوشدارخان صاحب کے اتوار کے دن کا  ہفت روزه اجتماع اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور امتیازی شان رکھنے والا اجتماع ہے جہاں ہرمسلک ومشرب کے ممتاز علماء ودانشوران اور ہند و پاک سے کویت تشریف لانے والے سفراء اپنے پُرمغز خطابات سے سامعین کو محظوظ کرتے اور خوشگوار ماحول میں سنجیدگی کے ساتھ قوم و ملت کے مسائل پر تبادلہ  خیال کرتے ہیں ۔خان صاحب ہر دلعزیز شخصیت کے مالک ہیں، خاکسار ، متواضع اور منکسر مزاج ہیں، علماء اور ماہرین فن کے قدردان ہیں ، اس کی واضح مثال ان کا یہ اجتماع ہے جو سالوں سال سے پابندی کے ساتھ جید علمائے کرام کے زیرنگرانی ہرہفتہ خان صاحب کی آفس مرقاب میں منعقد ہوتا آرہا ہے، محترم مولانا بدرالحسن قاسمی حفظہ اللہ نے ایک عرصہ تک اس مجلس کی صدارت فرمائی ہے ، اس اجتماع کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ کویت میں مقیم معروف شخصیات جب اپنے وطن لوٹنے لگتی ہیں تو ان کے اعزاز میں الوداعی تقریب رکھی جاتی ہے۔ اسی روایت کے مطابق پچھلے دنوں کویت میں مقیم دو تارکین وطن محترم جناب ڈاکٹر احمد حسین غازی صاحب اور محترم جناب محمد عزیزالرحمن صاحب کی وطن واپسی کی مناسبت سے ان کے اعزاز میں جمعیة الاصلاح الاجتماعی کے وسیع ہال میں خان صاحب نے الوداعی تقریب منعقد کی ، جس میں ہند و پاک کی مسلم کمیونٹیز کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی، ان دو تارکین وطن میں اول الذکرجنت نظیر کشمیر (سرینگر) سے تعلق رکھتے ہیں اور کویت کے عدان ہاسپیٹل میں NDODONIST E کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کے ساتھ ایک عرصہ تک FIMA کے صدر رہ چکے ہیں، ڈاکٹر موصوف مرنجان مرنج طبیعت کے حامل ہیں، آپ نے طبابت کے پیشہ میں ہمیشہ خدمت خلق کو پیش نظر رکھا، ہروقت ان کی آفس میں مریضوں کی بھیڑلگی رہتی ،علاج معالجہ کے لیے کتنے لوگ رہائش گاہ پربھی پہنچ جاتے تاہم آپ کسی طرح کی ناگواری کا اظہار نہ فرماتے اور بطیب خاطر ان کا علاج کرتے ۔ آپ تعلیمی ایام سے ہی دینی مزاج رکھتے ہیں، نوجوانوں کے اندر دینی حمیت وغیرت دیکھنا چاہتے ہیں،عالمی سطح پر اسلام کے خلاف ہورہی دسیسہ کاریوں کے تئیں بیدار ذہن رکھتے ہیں اور عالمی شہرت یافتہ داعیان دین کی ایک ایسی ٹیم تشکیل دینے کے قائل ہیں جو عالمی میڈیا کے سامنے اسلام کی صحیح ترجمانی کرسکیں اور اسلام کے خلاف پیدا کیے جانے والے آئے دن کے شبہات کا مثبت اور سنجیدہ جواب دے سکیں ۔

 ثانی الذکر حیدرآباد (انڈیا) سے تعلق رکھتے ہیں، عصری تعلیم یافتہ ہیں ،اقتصادیات میں بی اے کررکھا ہے ، تلگو میڈیم سے تعلیم حاصل کی ،تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ تلگو میڈیم سے بی اے کرنے والا انسان دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کردے گا لیکن اللہ جس سے کام لیناچاہتا ہے اسے توفیق سے بھی نوازتا ہے چنانچہ موصوف بی اے کرنے کے بعد وظیفہ کی تلاش میں نکلے تو ایک دینی ادارے میں نوکری مل گئی ،علماء اور صالحین کی صحبت سے فیضیاب ہوئے تو سمند شوق کو تازیانہ لگا، اس طرح دینیات کے مطالعہ میں لگ گئے، لیکن اس وقت تلگو زبان میں دینی کتابیں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور تھیں، ظاہر ہے علم كى پیاس بجھانے کے لیے ان کے سامنے ایک ہی راستہ تھا کہ اردو زبان سیکھ لیں۔ چنانچہ انہوں نے الف با سے اردو زبان سیکھی،دینی کتابوں کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیا ،دینی معلومات میں اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ حیدرآباد سے تلگو زبان میں شائع ہونے والے ہفتہ واری رسالے  ” گیٹورا ئے“ کے معاون ایڈیٹر بن گئے ، تقاریر اور خطبات کی ایسی مشق کی کہ ریاست میں  تلگو زبان کے مایہ ناز مقرر کی حیثیت سے اپنی پہچان بنالی ۔ تلگو رسائل ومجلات میں سیکڑوں مقالات لکھ ڈالے اور ستر سے زائد کتابوں کا اردو سے تلگو میں ترجمہ کرڈالا ۔ سات سال پیشتر IPC میں تشریف لائے تو تلگو ماہنامہ” الہلال “ کی داغ بیل ڈالی اور اس کے چیف ایڈیٹر بنے، جو اب تک مسلسل شائع ہورہا ہے، اور انہیں کي ایماء پر مزید کئی زبانوں میں رسائل کا اجراء عمل میں آیا ، اسی اثناء انہوں نے تفسیر احسن البیان کے تلگو ترجمہ کی سعادت بھی حاصل کی ، آپ نے منظم پلاننگ کے ساتھ کویت میں قیام فرمایا ،آج جبکہ اپنا ہدف پورا کرکے کویت سے جا رہے ہیں ایسے افراد پیدا کرچکے ہیں جو ان کی خلا کو پُر کرسکیں ،ان کی آئندہ کی پلاننگ میں امام بخاري اور امام مسلم رحمهما کی صحیحین ، سید سلیمان ندوی اورشبلی نعماني رحمهما الله کی ”سیرة النبی “ اور  فتنہ  قادیانیت کی سرکوبی پرمشتمل کتابوں کا ترجمہ شامل ہے جسے وطن لوٹ کر یکسوئی کے ساتھ انجام دینا چاہتے ہیں ۔ تلگو چینلز پر بھی اسلام کی نمائندگی کا عزم لیے جارہے ہیں ،اللہ ان کو اپنے ہدف میں کامیاب بنائے ۔ آمین

عزیز قاری ! یہ چند سطور ان دوشخصیات کے وطن لوٹنے کی مناسبت سے نوکِ قلم پر آگئی ہیں جو ہمارے ہی جیسے دیار غیر میں ملازمت کے لیے تشریف لائے تھے۔ اب ذرا تصور کیجئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اسی کویت میں آئے دن لوگ آتے ہیں اورایک مدت گذار کر یہاں سے لوٹ بھی جاتے ہیں تاہم نہ آتے وقت انہیں کوئی جانتا ہے نہ جاتے وقت، سوائے چند اشخاص کے جنکی ان کے ساتھ نشست وبرخواست ہوتی تھی، جبکہ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو جہاں جاتی ہیں اپنا نقش چھوڑ جاتی ہیں ۔ ظاہر ہے اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جسے شاعر مشرق علامہ اقبال نے ”شاہین “ کا نام دیا ہے

 نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

 جی ہاں! یہی وہ خوبی ہے جسے ہم عزم ،ہمت ، حوصلہ، جذبہ، اولوالعزمی اور بلندخیالی کا نام دیتے ہیں، چنانچہ اسی ہمت مردانہ نے مذکورہ دونوں شخصیات کو ملازمت تک محصور نہ رکھا بلکہ شخصیت کی تعمیر، قوم کی شیرازہ بندی اور اپنی ذات سے قوم کو فائدہ پہنچانے پرآمادہ کیا ۔ الحمدللہ ہماری قوم میں ایسی بے شمار شخصیات ہیں جنہوں نے دینی مدارس میں رسمی تعلیم حاصل نہیں کیں تاہم اپنی محنت ، لگن اور جذبہ سے دعوت کے میدان میں عالمی شہرت یافتہ شخصیات کی فہرست میں جگہ بنالی ہیں جن میں احمد دیدات ڈاکٹر عبدالرحمن السمیط اور ڈاکٹر ذاکر نائک قابل ذکر ہیں ۔

ہم بھی کویت میں ملازمت کے لیے تشریف لائے ہیں ، یہاں آکر ہماری مالی حالت تو اچھی ضرور ہوئی ہے تاہم ہماری اکثریت نے اپنے خول میں رہ کر جینا سیکھا ہے حالانکہ ایک مسلمان عزم وہمت کا پیکر ہوتا ہے ، وہ شاہین صفت ہوتا ہے ، وہ دوسروں کے لیے جیتا ہے ، سب سے پہلے اپنی ذات کی تعمیر کرتا ہے اور اس سے اپنی قوم کو فائدہ پہنچاتا ہے ۔

تو آئیے! اگر ہم سے اس سلسلے میں کسی طرح کی کوتاہی ہوئی ہے تو ابھی بھی وقت باقی ہے، صبح کا بھولا ہوا شام گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے ۔ اگرہم ڈاکٹر اور انجنئیر ہیں تو ڈاکٹر غازی صاحب کو اپنا نمونہ بنائیں اور ملازمت کے ساتھ قوم مسلم کے مفاد کے لیے بھی کام کریں اور اگر ہم ایک عام عصری تعلیم یافتہ ہیں تو محمد عزیز الرحمن صاحب کو اپنا رول ماڈل بنائیں ، اپنی شخصیت کی تعمیر کریں اوردین کی جیسی خدمت کرسکتے ہوں اس کے لیے تیار ہوجائیں کیونکہ یہ وقت کا اہم ترین تقاضا اورضرورت ہے ۔ رہے نام اللہ کا

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*