عالمی مشاعرہ 2011

زیر اھتمام  انجمن فروغ ارد و اد ب- کویت

 بانی و صد ر عبداللہ عباسی

 14 جنوری 2011 کی خوبصورت شام کو اردو ادب سے بے پناہ لگاو رکھنے والی کویت کے ادبی ،سماجی حلقوں کی مشہور ومعروف شخصیت اور ریڈیو کویت کی جانی پہچانی آواز  عبداللہ عباسی نے   سو‏ئس بیل پلازہ ھوٹل میں عالمی  مشاعرے کا اھتمام کیا ۔

عبداللہ عباسی اس سے قبل 19جون 2009 کو کویت کے مقامی منتشر شعراء کوانجمن فروغ اردو ادب کے  پلیٹ فارم پر یکجاء کرکے ایک  شاندار اور تادیر یاد رکھنے والے مشاعرے کی داغ بیل ڈال چکے تھے

ھردم ھنستی مسکراتی شخصیت  عبداللہ عباسی نےانجمن فروغ اردو ادب کے بینر تلے 13نومبر 2009 کو سوئس پلازہ ھوٹل میں شیخ الجامعہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کے اعزاز میں ایک پرّوقار ادبی شام کا انغقاد  کیا

مقامی قلمکاروں کو عالمی سطح تک لے جانے کے خواب د یکھنے والے عبداللہ عباسی کی ھمیشہ یہی خواھش رھی کہ کویت میں مقیم ساری ادبی شخصیات کو ساتھہ لیکر چلیں ۔اور ایک حقیقی ادبی ماحول  بنایا جاۓ

                         اردو ادب کو حیات جاوید بخشنے میں مشاعروں نے بہت اھم کردار ادا کیا ھے، دلی میں مغل شہنشاھوں کے دربار سے لیکر عبداللہ عباسی کی انجمن فروغ اردو ادب  کے مشاعروں تک یہ سب اسی خوبصورت روایت کا حصہ ھیں ۔انجمن کا بنیادی مقصد اردو ادب اور اردو زبان کی بقاء اور ترویج اور احیاء ھے

 اصناف سخن میں شاعری کو وھی مقام حاصل ھے جو حیات انسان میں دل کی دھڑکن کو ھے ۔ دھڑکتا ھوا دل  زندگی کی علامت ھے۔ محبت کا استعارہ ھے اور یہی وہ جذبہ ھے جس نے کائنات میں دل کش رنگ بھرے ھیں

شاعری ایک محبت بھری دعا ھے

شاعری زندگی کی تلخ حقیقتوں کی عکاس ھے، پردیس میں رھنے والے حساس انسان جب اپنے احساسات کو ، اپنے دکھوں کو اپنی محرومیوں کو

 شاعری ۔ شاعر ۔ اورمشاعرے ھماری خوبصورت تہذ یبی روایات کا حصہ ھیں ،

 14جنوری2011 کی خوبصورت شام کو انجمن فروغ اردو ادب کے صدر اور بانی عبداللہ عباسی نے سوئس بیل پلازہ ھوٹل میں  عالمی مشاعرے کا

انعقاد کیا ، اس منفرد ادبی شام کی خاص بات مقامی شعراء کے علاوہ عالمی طور پر مشہور و معروف تین مہمان شعراء کی آمد بھی تھی اس عالمی مشاعرے کے لیے لندن سے خاص طور پر تشریف لاۓ  مشہور ومعروف شاعر، ادیب ، مححق۔ اسکالر۔ صداکار، محترم صفدرھمدانی صاحب۔

ادب محبت اور تہذیب کی سرزمین ھندوستان سے خاص طور پر مدعو مہمان مزاحیہ شاعر مرزا مصطفی علی بیگ ، اور عالمی شہرت یافتہ فکاھیہ شاعر غوث خوامخواہ حیررآبادی نے اھل کویت کو اپنی مہمان نوازی کا شرف عطا کیا

اس عالمی مشاعرے کی صدارت  کویت کی ادبی سماجی حلقوں کی مشہور و معروف ھستی محترمہ ڈاکٹر صالحہ جواد موسی نے کی جن کی پروقار شخصیت کسی تعارف کی محتاج نیہں ھے۔ مشاعرہ ھویا کتابوں کی رونمائ کوئ بھی تقریب انکی سرپرستی کے بغیر ادھوری رھتی ھے۔ انکی موجودگی کسی بھی پروگرم کا اضافی حسن سمجھا جاتاھے  اور سب کا حوصلہ بھی بڑھاتی ھے ۔

 مہمان خصوصی محترم ھوشدار خان کویت کی سیاسی سماجی ادبی ،مذھبی حلقوں کی نامور شخصیت ھیں مشاعرے میں شریک بہت سارے سامعین و ناظرین کے لیے یہ بات بہت باعث فخر تھی کہ گذشتہ کئ  دھايئوں سے انکے دفتر میں ھر اتوار کے دن کوئ نہ کوئ عالم دین گفتگو کرتے ھیں

 مہان خصوصی محترم مللک نور محمد صاحب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نیہں ،فرینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے بانی اور چیرمین ،ھر ایک کی سرپرستی کرنے والے ۔اور کویت میں  قائم پاکستانی مدارس کے طلبہ و طلبات کے لیے

فری میڈیکل کیمپ کا گاھے بگاھے انعقاد کرتے ھیں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لےی ھمہ وقت تیار رھتے ھیں ۔

معتدد ھلیتھہ سینٹر کے علاوہ پاکستان میں راولپنڈی کے مقام پر ایک ھسپتال بھی زیر تعمیر ھے جو تیزي سے تکیمل کے مراحل عطا کر رھا ھے ۔ان کے بارے میں کچھہ کہنا سورج کو چراغ دکھانا ھے

 پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قران الکریم کی تلاوت سے ھوا جس کا شرف قاری عرفان اکرمی کو ملا۔

اس کے بعد کویت کی کم عمر شاعرہ بےبی ماھا جو عبداللہ عباسی کی صاحبزادی بھی ھیں ۔ جن کو شاعری باپ سے ورثے میں ملی ھے

 کویت میں سب سے کم عمر شاعرہ بنے کا خطاب حاصل کرنے والی مھا عباسی نے اپنی نظم پر بھر پور داد پائ

 بابانے مجھکو شاپنگ کرائ

پنک کلر کی میکسی دلائ 

 مھا عباسی کے بعد انکے چھوٹے بھائ احمد عباسی عرف لٹل ماسٹر  نے ایک خوبصورت نظم پڑھی اور انکا استقبال بھرپور تالیوں سے کیا گیا ۔

 اس کے بعد کویت کی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار اور کمپئر شاھین رضوی جو اس عالمی مشاعرے کی نظامت بھی کررھی تھیں ۔ انھوں نے اپنی مختصر نظم اور ایک غزل کے چند اشعار پڑھے اور بہت داد پائ

 فروغ جبر سکوت شہر کی گویائ

وہ کشت خون کے سہمی ھوئ ھے انگنا‎ئ

بہارآئ تو تتلی کے پر بھی جلنے لگے

لپٹ کے شاخوں سے رونے لگی ھے تنہائ

شاھین  رضوی کے بعد اصغر علی چشتی کو دعوت سخن دی گی۔وہ زیادہ تر حمد ونعت کہتے ھیں

اور یہ سعادت بہت کم لوگوں کو ملتی ھے

اس کے بعد بدر سیماب بدر نے اپنا کلام پیش کیا

کبھی ماں کی جنیھں لوگوں دعایئں بھول جاتی ھیں

وہ صحرا میں بھٹکتے ھیں گھٹایئں بھول جاتی ھیں

اس کے بعدصفدرعلی صفدر نے اپنا کلام پیش کیا وہ روائتی غزل گوئ سے ھٹ کر اپنی الگ شناخت بنا چکے ھیں

 تمھارے قرب س لےکر جدائ کے زمانے تک

بڑے صدمات جھیلے ھیں تمھیں پاکر گنوانے تک

 اے صفدر لوگ کیا جانیں کہ کتنا کرب سہتے ھیں

غزل کو ذھن میں رکھہ کر اسے کاغذ پہ لانے تک

 

  محترمہ ڈاکٹر صالحہ جواد موسی کی فرمائش پر فیاض وردگ کو دعوت سخن دی گی

انکی وہ غزل جو فراز کی زمین میں کہی گی ھے

سنا ھے ھم کو وہ نظریں چرا کے دیکھتے ھیں

یہ بات ھے تو نظر ھم ملا کے دیکھتے ھیں

 

سب کی فرمائش پر اپنی غزل کے اشعار بھی انھوں نے سناۓ

۔ فیاض وردگ کے بعد کویت میں عرصہ دراز سے مقیم شاہ جہاں جعفری حجاب سے انکی شاعری سننے کی فرمائش کی گی

انھوں نے اپنی غزل سنائ ۔ انکے بعد کویت میں  مقیم معروف شاعر اور محکمہ عدل میں کام کرنے والے، عربی زبان کے ماھر اور بہت اچھے شعر کہنے والے منظر عالم منظر کو دعوت دی گی

محبت کا ھم نے شجر جو لگایا تمھاری زمیں پر اکھاڑو تو جانیں

وہ بستی جو الفت کی ھمنے بسائ ھے دل میں تمھارے اجاڑو تو جانیں

 

 محترمہ شاھیں رضوی نے بہت خوبصورت انداز میں تقریب کی نظامت کی ۔

مقامی شعراء میں سب سے آخر میں مسرت جیبن زیبا نے اپنا کلام پیش کیا

  وہ خلیج کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ھیں

انھوں نے شہزادی کونین جناب فاطمہ زھرآّ کی شان میں منقبت سنائ

مقامی شعراء کے بعد کویت میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی شصیت کو

خاکہ ّپڑھنے کی دعوت دی گی جو اس تقریب کے لیے خاص طور پر تشریف لاۓ تھے جناب شاھد حنائ صاحب جو اپنی طرز کے منفرد خاکہ نگار ھیں اور متعدد کتابوں کے خالق اور سندھی زبان کی کہانیوں کو اردو کے قالب میں ڈھالنے والے شاھد حنا‎ ئ نے بہت بہترین خاکہ پڑھا اور اس دوران کی خوشی ظرافت اور شوخی تحریر کی وجہ سے مغزز مہمان مسلسل مسکراتے رھے۔

لوگوں نے انکو بہت دل سے داد دی ۔

پروگرام کے دوسرے مرحلے سے پہلے انجمن فروغ اردو ادب کی جانب سے شلیڈ دی گی

صفدرھمدانی صاحب کو مللک نور محمد نے شلیڈ دی اور محترمہ ڈاکٹر صالحہ موسی صاحبہ  نے ڈالرز کے ھار تینوں مہمان شعراء کو پہناۓ

ھوشدار خانصاحب  کے ھاتھوں جناب غوث خواہ مخواہ کو شلیڈ پیش کی گی 

محترم مرزا مصطفی علی بیگ کو ڈاکٹر ریاض خآن صاحب نے شلیڈ پیش کی

محترم محمد ھوشدار خان کو محترمہ صالحہ موسی نے شلیڈ پیش کی

ملک نورمحمد صاحب کو افضل نور نے شلیڈ پیش کی بدر سیماب بدر کو محمد عارف بٹ نے شلیڈ پیش کی گی

شاھین رضوی کو منشاء یاد صاحب نے شلیڈ پیش کی اور سب سے آخر میں محترمہ ڈاکٹر صالحہ جواد نے انجمن فروغ اردو ادب کے بانی اور صدر محترم عبداللہ عباسی کی خدمات اور دن رات کی محنت اور غالمی مشاعرے کی کامیابی پر بہت مبارک باد اور شلیڈ پیش کی گی

 

اور کویت میں مقیم کیمونٹی کی ادب پرور اور ادب شناس معزز شخصیات کا شکریہ ادا گیا

ڈاکٹر عمیر بیگ  ۔ محمد عارف بٹ صاحب۔ میاں الیاس ۔ ڈاکٹر ظفر۔ ڈاکٹر شجاع ۔ میاں ارشد۔ مللک حبیب ۔ احسان الحق۔ ڈاکٹر ریاض خان ،رانا عبدالستار۔اور دیگر مہانوں کا شکریہ ادا کیا گیا

کہ جنکی سرپرستی اور تعاون کے بغیر اس طرح کی خوبصورت تقریب کا انعقاد ممکن نیہن تھا،

اب لوگ بیرون مللک سے آۓ مہمان شعراء کو سننے کے لیے بیقرار تھے۔

ایک قدیم مقولہ ھے کہ ھنسی علاج غم ھے ۔ اور اس عہد بے مہر میں جہاں دکھہ زیادہ اور خوشی کم ھے جہاں لوگ ھسنے کو ترستے ھیں مجھے اس عالمی مشاعرے کا سب سے دل فریب لمحہ یہی لگا جب مہمان شعراء کی مزاحیہ شاعری پر معزز مدعوین ھنس رھے تھے مسکرا رھے تھے

سب سے پہلے مرزا مصطفی علی بیگ کو دعوت سخن دی گی

 یہ آرزو   عجب ھے دل بیفرارمیں

پیٹرول کی طرح جلوں انکی کار میں

سوئس بیل پلازہ ھوٹل کے ھال میں موجود معزز مہمانان گرامی کے چہروں پر خوشی اور مسکراھٹ تھی مزاحیہ شعراء کو بھرپور داد مل رھی تھی

 بھارت سے تشریف لاۓ دوسرے مزاحیہ شاعر محترم غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی تھے جو تقریبا آدھی دنیا میں

اپنی مزاحیہ شاعری کی وجہ سے معروف ھیں اور آدھی دینا کا سفر کرچکے ھیں ھال میں موجود لوگ انکو خوب داد دے رھے تھے ۔

 میں ایک انسان ھوں آخر عاشقی کب تک نیہں کرتا

میرے سینے میں جو دل ھے کیا وہ دھک دھک نیہن کرتا

مجھے اس عاشقی میں اس لیے بھی لطف آتا ھے

بڑھاپے کی وجہ سے کوئ مجھہ پر شک نیہں کرتا

 جناب خواہ مخواہ حیدرابادی کے بعد لندن میں مقیم شاعر 7 کتابوں کے خالق۔اور ریڈیو پاکستان اور بی،بی،سی کی معروف شخصیت محترم صفدر رضا ھمدانی صاحب کو دعوت سخن دی گی

 صفدرمیری رگوں میں لہو کربلا کا ھے

بیعت یزید وقت کی کرنا محال ھے

نفرت منافقت سے رھی عمر بھر مجھے

صفدر میں چل سکا نہ زمانے کے ساتھہ ساتھہ 

انکو حاضرین نے دل کھول کر داد دی

 آخر میں انجمن فروغ اردو ادب کے بانی اور صدر ھر وقت ھسنتے مسکراتے رھنے والے عبداللہ عباسی کو اظہار خیال کی دعوت دی گی اور انھوں نے اپنے اختتامی کلمات میں اس خوبصورت اور یارگار تقریب کے انعقاد پر اپنے سرپرست دوستوں کاشکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے اس منفرد اور مدتوں یاد رھنے والے عالمی مشاعرے کا انعقاد ممکن ھوسکا تھا – بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ھے کہ عبدالل عباسی بہت اچھے شاعر بھی ھیں

آدھی رات سے زیادہ کا وقت ھوچکا تھا اس لیے انھون نےبہت مختصر بات کی  اورسب کا شکریہ ادا کیا ،

اور کویت کی ادبی سماجی سیایسی اور مذھبی حلقے کی نامور شخصیت اور اپنی موجودگی سے اس محفل میں چار چاند لگانے والے بہت محترم ومخلص دوست ، سرپرست جناب محمدھوشدار خان صاحب کو بہت محبت سےاظہار خیال کی دعوت دی ۔ ابھوں نے اپنی تقریر میں عبداللہ عباسی کی کا وشوں کی بہت تعریف کی کہ کویت کی تاریخ میں اتنا پر وقار عالمی مشاعرے کے کامیاب انعقاد پر ان کو مبارک باد دی عبداللہ عباسی کی حوصلہ افزائ کی اور آئندہ بھی اپنے بھرپور تعاون کا اعادہ کیا

عالمی مشاعرے کے اختتام پر پّر تکلف عشائیے کا انتظام کیا گیا تھا

ھم اس یارگار عالمی مشاعرے کے انعقاد پر محترم عبداللہ عباسی کے شکر گذار ھیں جن کی شب وروز محنت نے عالمی مشاعرے کو کامیاب اور یارگار بنایا

فروغ اردو ادب کی خاطر

یہ کام کرنا ھے ھم کو آخر

اگر مناسب ھوتو تم بھی آو

قدم سے آکر قدم ملاو

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*