عالمی خبریں

محمدخالداعظمی (کویت)

عبد اللہ بدوی کوشاہ فیصل ایوارڈ

ریاض: ملائشیا کے سابق وزیر اعظم عبد اللہ احمد بداوی کو2011ءمیں اسلام کی خدمت کے لیے شاہ فیصل  بین الاقوامی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیاہے۔ توصیف نامہ کے مطابق بداوی کا انتخاب اسلام اورمسلمانوں کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں کیا گیاہے۔ یہ خدمت انہوں نے ملائشیااور بیرون ملک دونوں جگہ کی ہے۔ سرٹیفیکٹ کے علاوہ 24قیراط پرمشتمل سونے کاتمغہ اور سات لاکھ پچاس ہزار سعودی ریال نقد بھی انعام میں شامل ہے ۔ اب تک 40 ممالک سے تعلق رکھنے والے 209محققین ، قائدین اور سائنسداں کو شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازاجاچکاہے۔

 ترکی میں احتجاج

استنبول: خلافت عثمانیہ کے عہد کے ایک سلطان کوشراب پیتے اورعورتوں کو لبھاتے دکھانے والے ایک ٹیلی سیریل سے برگشتہ ترک احتجاجیوں نے نشریاتی اسٹوڈیو پر انڈے پھینکے اورنعرہ تکبیر اللہ اکبر بلندکیا۔ حرم کے اندر اپنی بیویوں اورداشتاؤں کے ساتھ عیش کرتے ہوئے اور شراب پیتے ہوئے دکھایا گیاہے ۔ عثمانی عہد کے سلطان خلیفہ بھی ہوتے تھے اوریہ خلافت924ءتک قائم رہی ، یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمانوں میں غیرت ابھی تک باقی ہے۔

 شاہ ایران کے فرزند کی خودکشی

واشنگٹن : شاہ ایران کے سب سے چھوٹے فرزند۴۴ سالہ شہزادہ علی رضا پہلوی نے بوسٹن میں اپنے مکان میں خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔ شہزادہ 28 اپریل 1966ءکوتہران میں پیدانے والے علی رضا نے امریکہ جانے سے پہلے ایران میں اسکولی تعلیم حاصل کی تھی وہ 1979ءکے ایران انقلاب کے دوران امریکہ چلے گئے تھے۔

بوڑھے چور

ٹوکیو: جاپان میں عمررسیدہ افراد میں چوری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہاہے۔ گزشتہ بیس سالوں میں ایسے واقعات کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہواہے جن میں 65سال سے زائد عمر کے افراد چوری میں ملوث میں پاے گئے ۔ جاپان کے ایک اخبار ( japan times) کے مطابق سال 2009ءمیں 65سال سے زائد عمر کے ستائیس ہزار افراد مختلف دکانوں اورشاپنگ سینٹرز سے مختلف سامان چوری کرتے ہوئے گرفتار ہوئے جن میں سے 80فیصد افراد غذائی اشیاءکی چوری میں ملوث پاے گئے ہیں۔

بچے کی کھوپڑی پر ہیرے

لندن : بریطانیا کے45سالہ آرٹسٹDamien Hirstنے اپنے آرٹ ورک کے لئے دوہفتے کے بچے کی کھوپڑی استعمال کی ہے جسے آٹھ ہزار ہیروں سے مزین کیا گیاہے ۔For Heaven,s Sakeنامی اس آرٹ ورک کوتخلیق کرنے کے لئے کھوپڑی پر پلاٹینیم کی تہ چڑھائی گئی ہے جس کے بعد اس آٹھ ہزار سے زائد سفید اور گلابی ہیرے جڑے گئے ہیں۔باضمیر تنقید نگاروں کا خیال ہے کہ آرٹسٹ نے اپنے آرٹ ورک کے لئے انسانی کھوپڑی کوچن کر عدم حساسیت کاثبوت دیاہے۔

اسکولوں میں روبوٹ اساتذہ

جنوبی کوریا:جنوبی کوریا کے اکیس اسکولوں میں تین فٹ اونچے انڈے کی شکل کے تیس روبوٹ اساتذہ کوبچوں کو انگریزی پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جوکتابیں پڑھانے کے ساتھ موسیقی کی دھن پر رقص بھی کرسکتے ہیں۔لگتاہے کہ اب انسانوں کی قلت ہے۔

  سگریٹ نوشی سے نقصان پندرہ سے تیس منٹ میں

امریکہ: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ نوشی سے انسانی جسم پر مضر اثرات سالوں میں نہیں بلکہ منٹوں میں مرتب ہوتے ہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی میں منیسوٹا کی ٹیم کی تحقیق کے مطابق جو کیمیائی مادہ کینسر کا سبب بنتا ہے وہ کیمیائی مادہ سگریٹ نوشی کے باعث انسانی جسم میں بہت تیزی سے بنتا ہے۔

تحقیق کاروں نے اس تحقیق کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا انتباہ ان لوگوں کے لیے ہے جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔سگریٹ نوشی کے باعث دل کا مرض اور کینسر کا علم تو پہلے ہی سے ہے۔ لیکن اس تحقیق کے بعد اس بات کا علم ہوا ہے کہ مضر اثرات سالوں میں نہیں منٹوں میں مرتب ہوتے ہیں۔

اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ نوشی سے نقصان ہونے کے عمل کو محض پندرہ سے تیس منٹ لگتے ہیں۔

منیسوٹا یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیفن ہیشٹ کا کہنا ہے ’یہ تحقیق بہت اہم ہے۔ اس تحقیق سے پہلی بار یہ معلوم ہوا ہے کہ صرف سگریٹ نوشی کتنی نقصان دہ ہے۔‘

اس ریسرچ کی مالی معاونت امریکہ کے نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ نے کی تھی۔

بڑے بے آبرو ہوکر اپنے کوچے سے ہم بھاگے:

 تیونس : تیونس (افریقہ) میں سیاسی استحکام، آزاد فکری، روشن خیالی ،صنعتی ترقی اور اقتصادی مضبوطی کو روشن مثال خیال کیاجاتاتھا۔64ہزار مربع میل پر محیط ، ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھک آبادی رکھنے والا یہ مسلم ملک مغرب اورامریکہ کی آنکھ کا تارا تھا۔1955ءمیں فرانس سے آزادی حاصل کرنے کے بعدحبیب بورقیبہ تیونس کے پہلے صدر بنے۔اس کے بعد ۷نومبر1987ءکو زین العابدین بن علی نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ بن علی نے 7نومبر2010ءکو اپنی تاجپوشی کی ۳۲ ویں سالگرہ منائی ۔ یہ تیونس میں قومی تعطیل کا دن ہوتا ہے۔ تیونس میں جب بھی انتخاب ہوتے تو دھاندلی کی بنیاد پر وہ ووٹ حاصل کرتاتھا اور اکتوبر2009کے آخری انتخاب میں حاصل کردہ ووٹ 62٬ 89 فیصد تھی۔

لیکن ملک میںکچھ چیزیں ایسی تھیںجس کی وجہ سے وہاں کی عوام پریشان تھی ،بدحال تھی، ان میںسے کرپشن ، سیاسی، شہر ی اورجمہوری آزادیوں کا فقدان ،جابرانہ انداز حکمرانی، مہنگائی ، تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری اور اسلام بیزاری کی حدوں کو چھوتی ہوئی روشن خیالی۔ بالآخر قوم میدان میں نکل گئی ، پھر ۳۲سال مسند صدارت پرفائز 74 سالہ زین العابدین بن علی نے14جنوری کو اپنے عظیم الشان محل پر حسرت بھری نگاہ ڈالی اور وہ ملک سے فرار ہو گیا۔ لیکن جاتے جاتے اس کاخاندان اپنے ساتھ 66ملین ڈالر کا ڈیڑھ ٹن سونا بھی لیتا گیا ،اللہ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ۔

23سالوں کے بعد وہاں کی ٹی وی اور ریڈیو پر قرآن کی تلاوت اور اسلامی پروگرام کی گونج سنی جارہی ہے۔ اور اسلامی کتابوں کی دکانیں کھلنے لگی ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مشہور محقق اور عالم دین ڈاکٹر عائض قرنی کی کتاب لاتحزن ”غم نہ کرو“ کی مانگ بڑھ گئی ہے ۔

علامہ یوسف القرضاوی نے علم بغاوت بلند کرنے پر تیونس کے عوام کی ستائش کی ہے اور تمام تیونسیائی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مغربی طاقتوں پر بھروسہ کیے بغیر اپنے مسائل کوخود ہی حل کریں۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*