زندگی کے بدلتے ڈگر

اعجازالدین عمری (کویت)

جب میں چھوٹا تھا ، شاید دنیا،بہت بڑی ہوا کرتی تھی چھوٹی چھوٹی نظروں میں گاؤں کی گلیاں،شہر کے نُکّڑ سب پھیلے پھیلے رہتے تھے مجھے یاد ہے ملے جلے مکانوں میں سیدھے سادھے لوگ تھے رہتے اپنی ادا سے جیتے تھے اپنی ریت کے رکھوالے تھے اب ڈھنگ ہے اُن میں غیروں کے اپنی بھاشا بھول کے سب انگریزی کے متوالے ہیں اور مجھے یاد ہے گھر سے ’سکول‘ تک کا راستہ ، کیا کیا نہیں تھا وہاں!!؟ چاٹ کے ٹھیلے ، جلیبی کی دکان ، برف کے گولے اور سب کچھ اب وہاں! ”موبائل شاپ “ ”ویڈیو پارلر “ہیں، پھر بھی سب سونا سونا ہے شاید اب زندگی بدل رہی ہے جب میں چھوٹا تھا، شاید شامیں بہت لمبی ہوا کرتی تھیں جھلساتے دن کے بعد شام کی سنہری فضاؤں میں کتنی ٹھنڈک ہوتی تھی!؟ اب شام نہیں ہوتی ! دن ڈھلتا ہے اور سیدھے رات ہوجاتی ہے ! اور رات کے آنچل میں بھی اب چمکتے تارے نہیںملتے ! سکھ بھری وہ نیند نہیں آتی شایداب وقت سمٹ رہا ہے جب میں چھوٹا تھا ، شایدکھیل بھی عجیب ہوا کرتے تھے اک بس ہوتی تھی رسی کی آگے ڈرائیور اورپیچھے ہوتا کنڈکٹر آنکھ مچولی ،گلی ڈنڈا ، یا پھرہوتاکرکٹ ،کبڈّی کھیل سے بڑھ کر ہوتی نٹ کھٹ! کچھ نہ سہی پرمٹی کا کھلونا تو ہوتا اب مٹی سے تو ہے ناطہ ٹوٹا ! بند حُجرے ہیں اب کھیل کے میداں لاپ ٹاپ ویڈیو گیم ، انٹرنٹ اور موبائل یہ سب ہیں آج بچوں کے کھلونے شاید بچوں کی اب فطر ت بدل رہی ہے جب میں چھوٹا تھا، شایددوستی، بہت گہری ہوا کرتی تھی نوک جھونک، چھینا جھپٹی کانا پوسی ، ہاتھا پائی سب کچھ ہوتا مگر دوستی رہتی دوست تومیرے اب بھی کئی ہیں پر دوستی جانے کہاں ہے!؟ رہگذروں پہ جب ملتے ہیں ہاتھ ہلا کر ایک ”ہائی “ ہوتی ہے اوراپنے رستے چل دیتے ہیں ! عید ہو ، یا ہو کوئی تہوار شادی ، میت یا کوئی اتوار اک ”کال “ آتاہے یا پھر یس یم یس پر بس ہوتا ہے شاید اب رشتے بدل رہے ہیں جب میں چھوٹا تھا دل میں معصوم سے ارمان مچلتے تھے بادل سے برستے پانی میں ، بجلی کی گرج میں اور چمکی میں، تاروں سے چَھنتی سفیدی میں ، ساحل سے لگتی موجوں میں، نرم ہواکے جھونکوں میں، پھولوں سے بکھرتی خوشبو میں ، خوشیوں کا بادہ چھلکتا تھا جس میں نشّہ بھی تھا نغمہ بھی تھا اب ارمانوں میں زہر گھلا ہے خوشیوں پر ماتم کی چھایا ہے شاید انساں سے اب اُس کا دل ہی روٹھ چکا ہے جب میں چھوٹا تھا شاید بچے ، اپنا بچپن سمجھتے تھے تب سارے بڑوں کی عزت ہوتی تھی اُن کے ادب کاپاس بھی تھا اُن کا ڈر اُنہیں سیدھا رکھتا تھا اُن کے پیار سے من بھرجاتا تھا فرق مٹا ہے اب چھوٹے بڑوں کا پیار ، ادب سب چھوٹ چکاہے مستی ہے ہر سو من مانی ہے ! بیٹا ، باپ کو حکم ہے کرتا اور ماں پر بیٹی کا زور ہے چلتا دل سے جو ایمان گیا رشتوں کا بھی مان گیا شاید اب کوئی بچہ چھوٹا ہوتا ہی نہیں ہے! جب میں چھوٹا تھا شاید دھرتی کا رنگ نرالا تھا سحر کا نور من کو بھاتا ، شام کی ٹھنڈک دل کو لبھاتی رات کے حسن کی بات ہی اور تھی دریا کی روانی کہتی کہانی لہروں سے دل بہلا کرتا اب لہریں دل سے اُٹھتی ہیں ! چھونے کو مگر ساحل نہیں ملتاہے برسات کا پانی گھر آنگن میں گرتا تھا کسی بانجھ کی خالی گود کی مانند اب گھروں کا کوئی آنگن نہیں ہوتا مٹی کی وہ سوندھی خوشبو نہیں ہوتی کانٹوں کے بیچ سے گُل کھلتا تھا اب خار ہی خار ہے گل نہیں ہوتا شاید دھرتی نے اب روپ بدل دیا ہے جب میں چھوٹا تھا شاید تتلی اور دنیا ، دونوں جدا جدا ہوتی تھیں حسن کا پیکر ، رنگیں تتلی، جب کسی پھول پہ دل ٹہراتی ہم بچوں کے بھی وہ من موہک ہوتی پاس بلاتی آس بندھاتی پیاس بڑھاتی پھر ہم سے چھٹ کر وہ اُڑ جاتی اور مسوس کے دل ہم رہ جاتے اب لگتا ہے دنیا بھی تتلی جیسی ہے ،سج دھج کے آتی ہے اور من کو ترساتی ہے رنگوں کا جال بچھاکر ’ ایماں ‘کی ڈکیتی کرتی ہے پھرتھک ہار کے’ انساں‘ بھی مسوس کے دل رہ جاتا ہے شاید ’دنیا‘ یہ ہوتی ہی ایسی ہے جب میں چھوٹا تھا شاید آنسو کا کچھ تو مطلب ہوتاتھا ننھے سے دل کوچوٹ کوئی لگتی یا پھر اپنی شرارت خود ہم کو سزا دلواتی آنکھوں سے پانی کا سیلاب اُمڈ آتا تھا اور اس جادوئی پانی سے کوئی تو دل پگھل جاتا ، یا ماں اپنے آنچل میں ہم کو سمیٹا کرتی تھی یا پھر ابو کافولادی دل بہہ جاتا تھا ، یا بھائی بہناکی نظرِ کرم ہی مل جاتی تھی یا سوز سے پُر کوئی تو ملتاجو زخمِ دل پہ مرہم رکھتا اب سب دل پتھر ہے، اپنا بھی اور اپنوں کا بھی! سوزو خلش سے خالی دل ہیں ! بے درد اور بے حس دل ہیں ! یہاں آنسو کی قیمت کیا ہوگی ؟ شاید لا حاصل ہے اب یہاں آنسو بہانا بھی

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*