آپ کے مسائل اور ان کا حل

صفات عالم محمد زبير التيمي (كويت)

کیا محمد صلى الله عليه وسلم نور سے پیدا ہوئے ؟

سوال : کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی پاک صلى الله عليه وسلم نور سے بنائے گئے جب کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کی تخلیق بھی عام انسانوں کے جیسے ہوئی تھی ۔ کونسی بات صحیح ہے ؟
جواب: جہاں تک آپ  صلى الله عليه وسلم کو نور کہنے کی بات ہے تو واقعی آپ نور ہیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا: قَد جائَکُم مِنَ اللّٰہ نُور  وَکِتَاب  مُبِین ( المائدہ15 ) ”تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے“ ۔بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ نور سے مراد محمد  صلى الله عليه وسلم ہیں،البتہ یہ نور ذات کے اعتبار سے نہیں بلکہ ہدایت ورسالت کے اعتبار سے ہے ،اس نور کے ذریعہ اللہ پاک نے بندوں کو ہدایت دی ۔ اللہ پاک نے فرمایا وَلَکِن جَعَلنَاہُ نُوراً نَّہدِی بِہِ مَن  نَّشَاء مِن  عِبَادِنَا (شوری 52) ”لیکن ہم نے اس کو نُوربنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں“۔
باقی رہا آپ کا جسم مبارک تو وہ خون گوشت اور ہڈیوں ہی سے بنا تھا ،قانون فطرت کے مطابق اپنے ماں باپ کے گھر آپ کی ولادت ہوئی ،ولادت سے قبل آپ کی تخلیق نہیں ہوئی،اوریہ جو کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے نبی پاک کا نور پیدا کیا گیا اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُورَ نَبِیِّکَ یَا جَابِرُ ”اے جابر! سب سے پہلے اللہ پاک نے تیرے نبی کا نور پیدا کیا “ تو یہ حدیث موضوع اور من گھڑت ہے۔ (جیساکہ دکتور احمد مرتضی نے اپنی کتا ب[ حدیث اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُورَ نَبِیِّکَ یَا جَابِرُ بین الحقیقة والخیال ]میں صراحت فرمائی ہے )گویا پیارے نبی ا گوسیدولدآدم ہیں،ساری مخلوق سے افضل ہیں،یہاں تک کہ فرشتوں سے بھی جو نور سے پیدا کیے گئے اس کے باوجود آپ ابشریت سے خارج نہیں اللہ تعالی نے فرمایا ﴾ قُل اِنَّمَا ا نَا بَشَر مِّثلُکُم  یُوحَی الَی﴿ (الکھف 110) ”آپ فرمادیجئے کہ میں تمہارے ہی جیسے ایک انسان ہوں فرق یہ ہے کہ میری طرف وحی آتی ہے “۔

بچوں کو دودھ پلانے کی مدت

سوال:کیا بچے کو دو سال سے زیادہ دودھ پلاسکتے ہیں ؟
جواب: اللہ پاک نے بچے کو دودھ پلانے کی مدت دو سال طے کی ہے ،اللہ تعالی نے فرمایا: وَالوَالِدَاتُ یُر ضِعنَ ا و لاَدَہُنَّ حَو لَینِ کَامِلَینِ لِمَن  ا رَادَ ا َن یُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ﴿ (البقرة233 )”اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اُس شخص کےلئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے“۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ رضاعت کی مدت دوسال مقرر کی گئی ہے البتہ دوسال مکمل کرنا نہ ضروری ہے اور نہ ہی دوسال سے زائد دودھ پلانے میں ممانعت ہے ،بچے کی مصلحت کودیکھتے ہوئے مدت میں کمی اور بیشی بھی کی جاسکتی ہے ۔ کیونکہ آیت میں مدت کی تحدید استحبابی ہے واجبی نہیں ۔

شادی کے بغیرجسمانی تعلقات

 

سوال : ایک غیرمسلم لڑکی کو مسلمان بناکر اس کے ساتھ رہ رہا ہوں،کورٹ میں شادی کرنے کے لیے گیا تو قاضی نے کاغذات کا مطالبہ کیا،اب مجھے کیا کرنا چاہیے ؟
جواب: یہ بہت بڑا جرم ہے جس کا آپ ارتکاب کررہے ہیں، غیرمسلم لڑکی جسے اللہ پاک نے ہدایت دی تھی اسے زنا میں ملوث کررکھاہے اور خود زنا میں پڑکر اللہ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں ۔ اسلام میں زناکارمرد وعورت کی سزا اگر شادی شدہ ہے تو سنگسار ہے،اور اگر شادی شدہ نہیں تو سوکوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔
پھرایک مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ زانیہ سے شادی کرے اور نہ کسی مومنہ کے لیے جائز ہے کہ وہ زانی سے شادی کرے ۔ (سورة النور 3)
لہذا پہلی فرصت میں آپ دونوں پر لازم ہے کہ اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں،اپنے عمل پر نادم ہوں،اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پختہ عزم کریں ۔سچی توبہ کے بعد دونوں علیٰحدہ ہوجائیں اور ایک مہینہ تک علیٰحدہ رہیں ، اس بیچ کویت کے نظام کے مطابق اپنے ملک سے لڑکی کے غیر شادی شدہ ہونے کا سرٹیفکٹ منگوالیں، پھر کورٹ میں جاکر شرعی شادی کرکے جائز طریقے سے شہوت کی تکمیل کریں اور خوشگوار ازدواجی زندگی گذاریں ۔

خطہ برصغیر میں اسلام کی آمد

سوال : ہندوستان میں سب سے پہلے اسلام کی دعوت کس نے دی ؟
جواب : وفات نبوی کے چار سال بعد حضرت عمرفاروق رضي الله عنه کے زمانہ  خلافت میں سن 15 ہجری میں اسلام ہندوستان پہنچ گیا تھاجبکہ امیرالمو ¿منین عمرفاروق  نے حضرت عثمان بن ابوالعاص رضي الله عنه کو بحرین اور عمان کا والی مقرر کرکے بھیجا تو حضرت عثمان بن ابوالعاص رضي الله عنه  نے اپنے بھائی حکم بن ابوالعا ص کو ہندوستان کی ایک بندرگاہ ”تھانہ کی طرف روانہ کیا۔ اور موجودہ جغرافیائی اعتبار سے یہ بندرگاہ بمبئی کے قریب واقع ہے۔ عصرحاضر کے مشہور مؤرخ محمداسحاق بھٹی صاحب کے مطابق خطہ ¿ برصغیر میں پچیس صحابہ  کرام تشریف لائے ، ظاہر ہے کہ جب انہوں نے ہندوستان میں قدم رکھا تو اسلام کی طرف اپنے قول وفعل سے دعوت بھی دی ۔ گویا ہندوستان میں سب سے پہلے دعوت دینے والے صحابہ  کرام ٹھہرتے ہیں ۔ البتہ پوری قوت کے ساتھ اسلام اس سرزمین پر سن 93 میں آیا جس وقت محمد بن قاسم  نے سندھ پر حملہ کیا ۔

خودسوزی کا حکم

سوال :جمہوری ممالک میں غم وغصہ کے اظہار اور مظلوموںکے حقوق کی بازیابی کے لیے خودسوزی یا بھوک ہڑتال کا کیا حکم ہے؟
جواب: یہ بات بالکل مسلم ہے کہ دنیا میں انسانوں پر بڑی زیادتیاں ہورہی ہیں جن پر سکوت اختیار کرنا جائز نہیں، بلکہ انفرادی واجتماعی طورپر اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے ۔ تاہم اس کے لیے خودسوزی کرنا یا بھوک ہڑتال کرنا قطعاً مناسب نہیں ،ایشیائی ممالک میں اس قبیل کی خودسوزی کی جو کوششیں ہورہی ہیں یہ قطعاً جائز نہیں اور کتاب وسنت کی روشنی میں کبیرہ گناہ ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے ﴾ وَلاَ تَقتُلُوا  ا نفُسَکُم ان َّ اللّہَ کَانَ بِکُم   رَحِیماً﴿(سورة النساء29) ” اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے“ ۔
ارشاد ربانی ہے  وَلاَ تُلقُوا بِا یدِیکُم اِلَی التَّہلُکَةِ ﴿ (سورة البقرة 195) ”اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو “۔ کیونکہ اپنے نفس کا مالک وہ نہیں ہے بلکہ اسے یہ نفس بطور امانت ملی ہوئی ہے جس کے تئیں اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ موت تک اس کی حفاظت کرتا رہے اور شرعی قاعدہ ہے الغَایَةُ الشَّر عِیَّةُ لاتُبَرِّرُالوَسِیلَةَ المُحَرَّمَةَ شرعی مقصد کے حصول کے لیے حرام وسیلہ اختیار کرنا جائز نہیں۔
اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم خودکشی کرنے والے کے جنازے کی نماز نہیں پڑھتے تھے جیساکہ صحیح حدیث میں حضرت جابربن عبداللہ   سے روایت ہے کہ ا ُتِیَ النَّبِیَ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفسَہ بِمَشَاقِصَ فَلَم  یُصَلِّ عَلَیہِ (مسلم)
”اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کے پاس ایک ایسے آدمی کو لایاگیا جس نے خود کو چھری سے قتل کرلیا تھا ‘آپ نے اس کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی “۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*