سابق امیر کویت الشیخ جابر الاحمدالجابر الصباح رحمہ اللہ

شیخ بدر الحسن قاسمی(کویت)

 ابھی کویت اپنے 20سالہ یوم آزادی اور نصف صدسالہ قومی دن کاپروقار جشن منانے کی تیاری میں ہے ، اس سنہری موقع پر سابق امیر کویت الشیخ جابر الاحمدالجابر الصباح رحمہ اللہ کی خدمات اور ان کی زندگی کے روشن پہلوو ¿ں کو نہ بیان کیا جاے تو بڑی ناانصافی ہوگی جس عظیم قائد نے تاراج کویت کو ازسرنو آبادکیا ، ایسی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں کہ دلوں کے بادشاہ بن گئے اور اپنے دینی، رفاہی، سماجی اور دعوتی کارناموں کی بنیادپر آج بھی زندہ ہیں، تو لیجیے اس سلسلے میں شیخ بدرالحسن قاسمی صاحب کی نہایت جامع اور پرمغز تحریر پیش خدمت ہے ( ایڈیٹر)

 ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔ زمین وآسمان میں کبریائی صرف اسی کوحاصل ہے اور طاقت وقوت کا سرچشمہ بھی اسی کی ذات ہے ۔وہ ہر چیز کا خالق اور پروردگار ہے تقوی اور مغفرت کا مالک بھی وہی ہے۔ میرا دل اس پر ایمان رکھتاہے اورمیرا جسم اس کے سامنے سربسجود ہے وہی اول وآخر ہے اورظاہر وباطن بھی ہے اور اس کاعلم ہر چیز کو محیط ہے ۔اس کا عظیم نور اس کی رحمت کے تقاضے سے انسانیت کی رہنمائی کے لیے کلام وپیغام کی شکل میں ناز ل ہوچکاہے ۔ ( قد جاءکم من اللہ نور وکتاب مبین)محمدا کی حیثیت برہان اور نور کی ہے اور قرآن آپ پر نازل کی جانے والی کتاب مبین اور عظیم روشنی ہے ۔ میراایمان ویقین ہے کہ اللہ تعالی تک پہنچنے کا سب سے قریب تر راستہ اور اس کی خوشنودی کے حصول کاسب سے بہترین ذریعہ قرآن کریم کی روشنی کو پھیلانااور اس سے استفادہ کی راہ کھولناہے ۔ چنانچہ میری خواہش ہوئی کہ عربی انگلش اور فرنچ زبانیں بولنے والوں کے لیے ایک ایسی کتاب تیار کرائی جائے جو آسانی کے ساتھ ان کو قرآنی حقائق ومعارف تک پہنچاسکے اور ہدایت پذیری ‘ قانون سازی ‘ اور دنیا وآخرت کے تمام مسائل میں ان کے لیے راہنما ثابت ہو ۔اور محض اللہ تعالی کی توفیق سے اس کے لیے (قاموس القرآن) کانام میری زبان پر آیا جو ایک جامع لفظ ہے اور جس کے ذریعہ قرآن سے استفادہ کی راہ آسان ہوجاتی ہے۔ ساتھ ہی میری قوم یعنی مسلمانان عالم نے جب مجھے اسلامی آرگنائزیشن تنظیم کا پانچواں سربراہ منتخب کیا تو میںنے اس قاموس القرآن کو عالم اسلام کے لیے بطور ہدیہ پیش کرنے کا عزم کرلیا تاکہ بنی نوع انسان کے لیے وہ حق اور روشنی کا مینار بنا رہے۔“

 یہ الفاظ کسی روایتی عالم دین اور شیخ طریقت کے نہیں ہیں بلکہ شیخ جابر الاحمد الصباح کے ہیں جو کویت جیسی پٹرول کی دولت سے مالامال ریاست کے حکمراں اور امیرتھے اور جن کو دنیا کی ہر نعمت حاصل تھی اور جو سربراہان عالم کے درمیان بھی ایک امتیازی شان کے حامل تھے۔ ان کے یہ الفاظ’ قاموس القرآن‘ میں پیش لفظ کے طور پر درج ہیں ۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کا دل ایمان کی روشنی سے منور اور ان کاذہن ودماغ قرآن کریم کی عظمت کے احساس سے سرشار تھا۔اور یہی چیزشیخ جابر الاحمد الصباح کودیگر حکمرانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ انہوں نے امیر کویت کی حیثیت سے دنیا کے بیشتر ملکوںکا سفرکیا۔شاہانہ تمکنت اور امیرانہ جاہ وجلال والے سفر میں وزیروں ‘ خدمت گزاروں اور میڈیا سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ایک امام کا بھی ارکان وفد میں شامل کرنا شیخ جابر الاحمد الصباح کی خصوصیات میں سے تھا تاکہ سفر اور سرکاری اجتماعات کے دوران بھی باجماعت نماز اداکرنے کامعمول برقرار رہے ۔ ایک حکمراں اور سربراہ مملکت کے لیے یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ تخت وتاج کا مالک ہونے کے باوجود اس کی پیشانی رب کائنات کے سامنے جھکی رہے اور اس کی زبان پر یَا مَن ± لا یَزُو لُ مُلکُہ  اِرحَم عَلٰی مَن  زَالَ مُلکُہ  ”اے وہ ذات جس کی بادشاہت کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے اس شخص پر رحم فرما جس کی بادشاہت جارہی ہے“ کے الفاظ رہیں ۔ یہ منظر بھی ساری دنیا نے دیکھا کہ عراقی شبخوں کے نتیجہ میں ملک چھن جانے کے سات ماہ بعد جب اللہ تعالی نے دوبارہ تخت وتاج پر واپس لوٹا دیا تو ہوائی جہاز سے اترنے کے ساتھ ہی شیخ جابر الاحمد الصباح کی پیشانی وطن کی سرزمین پر سجدہ میں تھی اور حکمرانی کانیاعہد رب کائنات کی عظمت کے احساس کے ساتھ انہوں نے شروع کیا۔ دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال بھی بمشکل مل سکے گی کہ حکمرانی ختم ہوجانے اورتخت سلطنت سے محروم اور مکمل طور پر بے دخل ہوجانے کے بعد دوبارہ پھر حکومت مل جائے اور ظلم وبربریت اور سرکشی وچیرہ دستی کے ذریعہ ملک چھیننے والا شخص اس قدر جلد اپنے انجام کوپہنچ جائے اور وہی صدام حسین جس کی فرعونیت کے سامنے پچھلے عہد کے ظالموں کی رعونت بھی ہیچ ہووہ اپنی حکومت ‘ اپنا خاندان ‘ اپنا ملک سب کچھ تباہ کرکے مجرموں کی طرح قیدیوں کی زندگی گزار رہاہو دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را چنداں اماں نہ داد کہ شب را سحر کند شیخ جابر الاحمد الصباح کی زندگی پر سکون تھی ‘ اپنی بڑائی جتلانے کے لیے انہوں نے حکومت کی مشنری کا استعمال نہیں کیا اور نہ ان کے ہا تھ ناحق خون سے رنگین ہوئے۔ موجود زمانہ کے حکمرانوں میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے ۔ سابق امیر شیخ جابر الاحمد الجابرالصباح کے کارنامے بے شمار ہیں مختصر طور پر ان کاجائزہ لیا جائے تو کہا جاسکتاہے کہ انہوں نے بڑی حکمت ودانائی کے ساتھ اور انتہائی پرخطرماحول میں رہنے کے باوجود :

 1۔ کویت کو ایک ترقی یافتہ مثالی اسٹیٹ بنا یا اور پٹرول سے حاصل ہونے والی دولت کوملک کی تعمیر اور اپنی قوم کی راحت کے لیے استعمال کیا۔

 2۔ کویتی شہریوں کے لیے مکان ‘ تعلیم ‘ علاج سب کچھ مفت فراہم کرنے کا انتظام کیا۔

 3۔پٹرول سے حاصل ہونے والی زائد آمدنی کو عیش وعشرت پر خرچ کرنے کے بجائے آنے والی نسلوں کے لیے فنڈ قائم کرکے محفوظ کردیا۔

 4۔ کویت میں مکمل آزادی کاماحول برقرار رکھا ‘ لوگوں کو بولنے اور لکھنے اور اپنی رائے کے اظہار کی آزادی دی ۔

5۔ عرب دنیا کی ترقی کے لیے کویتی فنڈ برائے عرب ترقیات قائم کیا اور تمام ملکوں کو قرضے فراہم کیے اور ان کی اعانت کی اور اربوں ڈالراس سلسلہ میں خرچ کیے ۔

 6۔ دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی اور اندرون ملک سوسے زائد ملکوں کے کارکنوں کے لیے روزگارکے مواقع فراہم کیے۔

 7 ۔ دینی جماعتوں کو اپنی دعوتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے پوری آزادی دی۔

8 ۔ غریبوں کی اعانت کے لیے نہ صرف وزارت اوقاف اور بیت الزکاة جیسے سرکاری ونیم سرکاری اداروں کوآزادی دی بلکہ عوامی تنظیموں کو بھی اہل خیر سے مال اکٹھا کرکے دنیا کے مختلف خطوں میں ضرورت مندوں کی اعانت کرنے اور مساجد ومدارس اور اسلامی مراکز قائم کرنے کی پوری چھوٹ دی۔

9 ۔ علمی وثقافتی میدان میں 45جلدوں پرمشتمل فقہی انسائیکلوپیڈیا تیار کرائی ‘ قاموس القرآن کی تدوین کرائی اور عالم اسلام کی موجودہ سیاسی وتعلیمی واقتصادی صورت حال پر تین ضخیم جلدوں پر مشتمل کتاب تیار کرائی ۔ ان کے علاوہ عربی زبان وادب اور فکروفلسفہ کی سیکڑوں کتابیں تیار کرائیں۔

 10۔ قرآن کریم کی ذاتی خرچ پر لاکھوں کی تعداد میں طباعت اور تقسیم اور قرآن کریم کے حفظ میں مقابلہ پر ایک لاکھ دینا ر کے انعام کا مختص کیا جانا بھی ا لشیخ جابر الاحمد الصباح کے کارناموں میں سے ہے ۔ جس کے نتیجہ میں سیکڑوں کویتی نوجوانوں اور لڑکیوں نے قرآن کریم حفظ کرلیے ۔ اس کے علاوہ اسلامی موضوعات پر دسیوں سمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد بھی ان کے عہد امارت کے امتیازی پہلووں میں سے ہے ۔

 11۔ نفاذ شریعت کے لیے مستقل ایک مشاورتی ادارے کا قیام اور اس کے ذریعہ مروجہ قوانین کا جائزہ لیکر ایسے قوانین کوختم کرنےکی کوشش جواسلامی تعلیمات کے منافی ہوں یہ بھی شیخ جابر الاحمد الصباح کے کارناموں کا ایک اہم حصہ ہے۔

 12۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ خود اپنے ذاتی خرچ سے دنیا کے مختلف ملکوں میں پروجیکٹ نافذ کرائے ۔ مسجدیںاور مراکز قائم کرائے لیکن اس تاکید کے ساتھ ان کانام ظاہر نہ ہونے پائے ۔

 13۔ آج بھی دنیا کے مختلف ملکوں کے ہزاروں بچے کویت اور اہل کویت کے خرچ پر تعلیم حاصل کررہے ہیں اورہزاروں یتیموں کی کفالت کا فریضہ کویت کی رفاہی تنظیمیں انجام دے رہی ہیں ۔

 14۔ مرحوم امیر شیخ جابر الاحمد الصباح کی یہ ادا توہرکسی نے دیکھی ہے کہ دنیا کے کسی خطہ میں زلزلہ آئے،سیلاب آئے ، اور قحط سالی سے لوگ مررہے ہوں‘ کویتی فوجی جہاز اشیائے خوردنی اور دیگر امدادی سامان لیکر وہاں سب سے پیش پیش نظر آتے اور خاص امیری ہدایت کے مطابق جایا کرتے تھے۔ یقینا یہ وہ کارنامے ہیں جو شیخ جابر الاحمد الجابر الصباح کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ موت سے کس کومفر ہے یہ مرحلہ تو ہر شخص کو پیش آنے والا ہے اور کویت کے حکمرانوں نے تو سیف پیلس پر حکمت وموعظت پر مبنی یہ جملہ بھی کندہ کرارکھا ہے کہ لودامت ل Éحد ما اتصلت الیک ” یہ بادشاہت کسی کے لیے دائمی ہوتی تو تمہارا نمبر ہی نہیں آتاتھا“ ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مرحوم امیر کو ان کے اچھے کاموں کا صلہ دے اور انہیں اپنی رحمت ومغفرت سے نوازے آمین ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*