قصے کہانیاں اور ہماری ذمے داریاں (2)

کرم اللہ عبدالرؤف تیمی (کویت )

msd_abu@yahoo.com

  سنتِ نبوی میں قصوں کا مقام

 نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے راہِ حق سے بھٹکے ہوئے انسانوں کی ہدایت کے لیے جہاںا یک طرف دن رات کی مشقتیں برداشت کی ہیں وہیں دوسری طرف ہمیں نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ موقع و محل کی رعایت کرتے ہوئے اپنے بلیغانہ کلام سے بھی نوازا ہے،کہیں تو مختصراور جامع و مانع بات کہی ہے توکہیں مخاطب کے اعتبارسے تشریح و توضیح کا طریقہ اختیار کیا ہے تاکہ سائل کو اپنا جواب حاصل ہوجاے اور دوبارہ و سہ بارہ سوال کرنے کی حاجت نہ رہ جاے اور کہیںگزشتہ امتوں کے قصوں کو مفصل انداز میں بیان کیاہے۔

 آپ  صلى الله عليه وسلم کا ان مستندواقعات کے بیان کا مقصد صرف قصہ گوئی نہیں تھا بلکہ ان سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دینا اور ان کی روشنی میں اپنی اصلاح خو دآپ کرناتھا۔

قصوں کے فوائد

۹مسائل کی تفہیم میں آسانی :

قصوں کے ذریعہ مشکل سے مشکل چیز کا فہم آسان ہوجاتا ہے آپ نے سورہ بقرہ میں اس شخص کا قصہ پڑھا ہوگا جس کا گزر گری پڑی بستی سے ہوا، اسے چھت کے بل اوندھی پڑی دیکھ کر گویا ہوا کہ اللہ تعالی دوبارہ اس کو کس طرح زندہ کر ے گا؟ چنانچہ اللہ تعالی نے اس کو سوسال تک موت کی نیند سلادیا اور دوبارہ زندہ کرکے پوچھا کہ تجھ پر کتنی مدت گزری ہے ؟ کہنے لگا: ایک دن یا دن کاکچھ حصہ، فرمایا :بلکہ تو سوسال تک سویا رہا ،ذرا اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو دیکھ کہ ہم اس کی ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں پھر ان پر کیسے گوشت چڑھاتے ہیں۔ جب یہ سب ظاہر ہوچکا توکہنے لگا :میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالی ہرچیز پر قادر ہے“۔ (دیکھئے سورہ بقرہ :259)

راہِ حق کی طرف رہنمائی

 زمانہ  قدیم سے لوگ بزرگوںکی شان میں غلو کرتے آرہے ہیںچنانچہ قومِ نوح کے پانچ بزرگان دین ‘ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کی شان میں غلو ہی کا نتیجہ تھا کہ ان کے بعد آنے والی نسلوں نے ان کو معبود کے مقام پر لاکھڑا کردیا اور حضرت عیسی ں کو نصاری نے اللہ کا بیٹا مان لیا ۔ اسی اندیشہ کی وجہ سے محمد عربی ا نے ہم سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا :

 ” میری شان میں غلو مت کرنا جس طرح عیسائیوںنے عیسیںکی شان میں غلو کیا،میں تو ایک بندہ ہوں اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہنا“۔(بخاری و مسلم)

چناںچہ اللہ تعالی نے اپنے کلام مقد س میں اور اس کے رسول  صلى الله عليه وسلم نے احادیثِ صحیحہ میں ہماری اس ضرورت کو پورا کیا اور صداقت و حقانیت پرمبنی قصے بیان فرمائے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے”ہم آپ کے سامنے بہترین بیان پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا ہے اور یقینا آپ اس سے پہلے بے خبروں میں سے تھے“۔ (سورہ یوسف:3)

اپنی اصلاح آپ:

جب کوئی شخص کتاب و سنت میں مذکور قصوں کو پڑھتا ہے ، ان کے پس منظر اور پیش منظر پر غوروفکر کرتا ہے اور دل کی گہرائی میں ڈوب کر یہ سوال کرتا ہے کہ بنواسرائیل کے تین شخصوں کو بند غار سے نجات کیسے ملی؟حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا انجام کیا ہوا؟ فرعون و ہامان اور نمرود کو اللہ کی نعمتیں پاکر ناشکری کا صلہ کیا ملا؟زندہ بلی کو ستانے کا نتیجہ کیا ہوا؟ اور ابولہب و ابوجہل کو اسلام دشمنی پر کیسی سخت سزا ملی؟ اور سچے توحید پرستوں تک اللہ کی مدد کیسے پہنچی؟ یہ ایسے تاریخ اسلام کے زندہ و جاوید آثار و نقوش ہیںجن پر سچے دل سے سوچنے سے ہمارے قلب و جگر خود بخود زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے کی طرف مائل ہونگے،غیبت و چغل خوری ، بوڑھے والدین کی نافرمانی، پیشاب کے چھینٹوں سے لاپرواہی اور دوسروں کی آبروریزی جیسے اعمال بد سے نجات ملے گی اور ان شاءاللہ ہمارا ہر عمل خلوص وللہیت کے ساتھ انجام پذیر ہوگا اور دل سے یہ آواز نکلے گی ع  

   اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی

  اللہ کی عظیم قدرت کا اعتراف

قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے اندروارد قصوں کے پڑھنے سے جہاںا یک طرف ان کی حقانیت سے آگاہی ہوتی ہے وہیں دوسری طرف ہمیں اللہ تعالی کی عظیم قدرت کا اعتراف بھی کرنا پڑتا ہے جس نے سالہا سال تک اپنے بندوں کو دشمنانِ توحید کے جبرواستبدادسے محفوظ رکھا، سوسال تک اشیائے خوردونوش کو حوادثِ دہر سے بچایا،آدمی اور اس کے گدھے کو از سرے نو زندہ کیا،ٹکڑے ٹکڑے پر ندے کو پھر سے حیات بخشی اور مردہ مچھلی کو زندہ کیا جو سمندر میں سرنگ کی طرح راستہ بناتے ہوئے اندر چلی گئی تھی۔

بے سروپا قصوں کی حقیقت

 ہمارے یہاں کچھ ایسے قصے اور حکایتیں مشہور ہیں جن کاصداقت وحقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیںلیکن افسوس کا مقام ہے کہ ان کی صدائے بازگشت دور دور تک سنائی دیتی ہے اور عا م مجالس سے لیکر منبر و محراب تک ان کا چرچا ہوتاہے جبکہ وہ سب بے بنیاد اور غیر قابل قبول ہیں جیساکہ محدثین کرام کے اقوال سے پتہ چلتاہے ،ان کی سندوں میں کذاب اور مجروح رواة موجود ہیں جنہوں نے ا یسے ایسے واقعات گڑھ کر رسول اللہ ا ، ان کے جانثار صحابہ  کرام اور ائمہ عظام کی طرف منسوب کر ڈالا ہے جن سے اگر ایک طرف کذب و افتراءکو فروغ ملا ہے تو دوسری طرف دین کے مختلف واضح مسائل باعثِ فتنہ بن چکے ہیں چنانچہ کہیں تبرک کا مسئلہ موضوعِ بحث بنا ہے تو کہیں بزرگانِ دین کے آثار و نقوش سے فیوض و برکات کا ،کہیں مزارات و مشاہد کا فتنہ بپا ہے تو کہیں قبر کے آستانوں سے تقرب کا، کہیں صحابہ   کرام کی متفقہ شخصیت کے خلاف آوازیں اٹھائی جارہی ہیں توکہیںایک امام کو دوسرے امام سے نیچے دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ہماری اور آپ کی ذمے داریاں

 قصے اور کہانیاں بیان کرتے وقت ہم سب کے ارادے نیک ہوتے ہیں لیکن محض ارادہ کا نیک ہوناکافی نہیں ہے قصوںکی صحت اہم چیز ہے،بے سروپا قصوں کی وجہ سے وقتی طورپر ہماری تقریر و تحریر سحر آفریں ہوسکتی ہے لیکن چند دنوں میںہماری سطحیت واضح ہوجائے گی،پھرہم شعوری یاغیرشعوری طورپرشریعت اسلامیہ میں زیادتی کرکے گستاخ رسول بھی بن بیٹھتے ہیں جس کے بارے میں صریح وعید موجود ہے”جس نے عمدا ً مجھ پر جھوٹ بولا تو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے“۔ (بخاری و مسلم)

اس لیے ہمیں چاہیے کہ تقریر وتحریر میں حسبِ استطاعت محقق کتابوں سے استفادہ کریں، آیات و احادیث سے متعلقہ واقعات کے بیان سے قبل ان کی تحقیق کرلیں، ضعیف اور موضوع احادیث پر مبنی قصے کہانیوں کا اپنے معاشرے سے بائیکاٹ کریں اور ان کی جگہ صاف و شفاف کتاب و سنت کا گلدستہ پیش کریں۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*