نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا طریقہ تربیت (3)

 سید عبدالسلام عمری (کویت )

abdussalamsyed@ymail.com

تحسین وہمت افزائی

نبی کریم  صلى الله عليه وسلم بلند اخلاق کی تعمیر، رذائل کی بیخ کنی اور مختلف صلاحیتوں کو پروان دینے کے لیے جہاں اوصاف حمیدہ اختیار کرنے اور رذائل سے بچنے کی تلقین فرماتے وہیں آپ پسندیدہ امور پر صحابہ رضوان الله عليهم اجمعين کی ہمت افزائی اور دل جوئی بھی فرماتے ،ان کو داد وتحسین سے نوازتے جس کی وجہ سے اچھے کاموں پر انہیں استحکام حاصل ہوتا اور راہ حق میں پیش آنے والی تلخیوں میں چاشنی محسوس ہوتی ۔

غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضرت صلى الله عليه وسلم  نے مسلمانوں کو انفاق وایثار کی تلقین کی تو حضرت عثمان غنی ؓ نے 900 اونٹ 100 گھوڑے اور ایک ہزار دینار پیش کیے ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم ان دیناروں کو اچھالتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”آج کے بعد عثمان غنی کو کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچائے گا “۔

اسی وقت کا ذکر ہے ایک غریب محنت کش انصاری نے بہت عظیم ایثار کا مظاہرہ کیا ،اس نے دن بھر پانی کھینچ کھینچ کر چار سیر چھوہارے کمائے اور دو سیر چھوہارے اہل وعیال کے لیے رکھ کر دو سیر آپ کی خدمت میں لا حاضر کیا ۔ آنخضرت صلى الله عليه وسلم ان کے حذبہ ایثار کی قدر کرتے ہوئے ان کی ہمت افزائی کی اور فرمایا : ”ان چھوہارو ں کو قیمتی مالوں کے ڈھیر پر بکھیر دو “ ۔ (محسن انسانیت )

مکی زندگی کے دورِ ابتلاءوآزمائش میں آپ صلى الله عليه وسلم کا گذر عمار بن یاسر ؓ اور ان کے گھر والوں کے پاس سے ہوا ، وہ ابوجہل کی اذیتوں کا نشانہ بنے ہوئے تھے ۔ آنحضرت صلى الله عليه وسلم  نے ان کو اس المناک حالت میں دیکھا توان کی دل جوئی اور ہمت افزائی کرتے ہوئے فرمایا : ابشروا آل یاسر فان موعدکم الجنة (طبرانی ، حاکم )

”اے یاسر کے خاندان والو ! تمہیں خوشخبری ہو ،تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے “ ۔

ذرا غور فرمائیے! رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  کی زبان پاک سے نکلے ہوئے دل جوئی کے یہ کلمات خاندانِ یاسر پر کس قدر اثر انداز ہوئے ہوں گے ،یقیناً ان کے زخموں کے لیے مرہم ثابت ہوئے ہوں گے ۔ اللہ کے رسول ا کی زبان مبارک سے اپنے بارے میں خیر کے کلمات سن کر ان سب کا دل باغ باغ ہوگیا ہوگا ، یقیناً اس خوشخبری کے بعد کفار کی ایذارسانیوں میں بھی انہیں ایک خاص قسم کی لذت محسوس ہوئی ہوگی ۔

لہذا ہمیں تحسین وہمت افزائی کے پہلو کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے کیا معلوم کہ ہماری معمولی سی ہمت افزائی کسی کی کامیابی کا ذریعہ بن جائے ۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ دل دکھانے والے صدقات وخیرات سے دل جوئی کا ایک کلمہ کہیں زیادہ بہتر ہے ﴾قَول مَّعرُوف َومَغفِرَة خَیر مِّن صَدَقَةٍ یَتَعُہَا أذى﴿ (بقرة 263)

”خیر کی بات کہنا اور معاف کردینا اس صدقہ سے کہیں بہتر ہے جس کے بعد ایذارسانی ہو “۔

ذہن سازی کے دو اہم پہلو

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی سیرت اور آپ صلى الله عليه وسلم کے اصحاب کی زندگیاں قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے تقوی شعار زندگی کا سچا نمونہ ہےں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کو کامل طور پر محفوظ کردیا ہے ۔ تاریخ کا صفحہ اس قدر صحت کے ساتھ محفوظ ہے کہ ایک شخص جو سنجیدہ ہو اور واقعی جاننا چاہتا ہووہ آج بھی پورے یقین کے ساتھ جان سکتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول صلى الله عليه وسلم  کی زندگیاں کیا تھیں ۔

بس مطالعہ  سیرت رسول وصحابہ سے ہمارا مقصود یہ ہونا چاہیے کہ ہم حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کے پیغام ،حضوراکرم ا کے ذکر وعبادت ،حضور اکرم  صلى الله عليه وسلم  کے اخلاق ،حضور اکرم ا کی تنظیم ،حضوراکرم صلى الله عليه وسلم کے کارنامے ،حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کا طریق کار ،اور حضور اکرم  صلى الله عليه وسلم کی حکمت عملی کو سمجھ کر اپنے آپ کو اس امر کے لیے تیار کریں کہ پہلے ہمارے اندر محمدی انقلاب کا آغاز ہو اور پھر ہم نہ صرف اپنے ملک اور معاشرہ کو بلکہ پوری نوع انسانی کو اسی انقلاب کی برکتوں اور سعادتوں سے بہرہ مندکریں ۔

قصص وواقعات

ذہن سازی میں قصوں کا بڑا دخل رہا ہے ،انسان کہانی کی زبان میں جو کچھ سنتا ہے اس سے اثر لیتا ہے ۔ اکثر وبیشتر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کہانیاں پڑھتے پڑھتے اتنا کھو جاتا ہے کہ بے ساختہ کبھی رونے لگتا ہے تو کبھی ہنسی کے فوارے چھوٹنے لگتے ہےں ، ہمارا یہ مشاہدہ اس بات کی دلیل ہے کہ کہانی کیسی بھی ہو اپنا ایک اثر رکھتی ہے ۔ پھر اگر قصہ سچا ہو ، قصہ گو صادق وامین ہو ،اور سامعین حق کے شیدائی ہوں تو قصہ کی اثرانگیزی بہت بڑھ جاتی ہے ۔ چنانچہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم قصص و واقعات کے ذریعہ بہت سی باتیںصحابہ کرام کے ذہن نشیں کرتے تھے ، آ پ کی قصہ گوئی محض تفریح طبع کے لیے نہ ہوتی تھی بلکہ اہم پہلوؤں کو ذہن نشیں کرانے کے لیے قصہ کا سہارا لینے تھے ۔

جب کوئی کسی فکر کو دلائل سے ثابت کرتا ہے تو سننے والا نظریاتی طور پر اس کی پیش کردہ فکر کو تسلیم کرلیتا ہے اور عقلی طور پر اس سے مطمئن بھی ہوجاتا ہے ۔ مگر جب کوئی فکر ایک واقعہ کی کڑیوں میں خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کی جاتی ہے تو انسان اس کو قابل عمل سمجھتا ہے اور واقعہ کی روح جذبہ عمل کو بیدار کرکے سننے والے کو عمل پر آمادہ کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی سے مخاطب ہوکر فرمایا :﴾ نَحنُ نَقُصُّ عَلَیکَ اَحسَنَ القَصَصِ بِمَا اوحَینَا اِلَیکَ ہَذَا القُرآن واِن کُنتَ مِن قَبلِہِ لَمِنَ الغَافِلِینَ﴿ (سورة یوسف 3)

”ہم اپنی وحی کے ساتھ جس کے ذریعہ ہم نے تجھے یہ الہام کیا ہے ایک عمدہ اور بالکل سچا قصہ سناتے ہیں کچھ شک نہیں کہ اس سے پہلے تو بے خبر تھا“ ۔

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے : فَاقصُصِ القَصَصَ لَعَلَّہُم یَتَفَکَّرُونَ (الاعراف 176) ”سو آپ ان کی ہدایت کے لیے کچھ قصے بتلایا کرو تاکہ یہ کچھ فکر کریں“ ۔

قصہ چاہے قوم عاد وثمود کا ہو ،فرعون وہامان اور نمرودکا ہو، یا تین غار والوں کا ہو یا پھرکوڑھی ،گنجا،اندھا کا ہو ۔ مقصد صرف ایک ہی ہوتا ہے کہ اخلاق واقدار کی اہمیت کو واضح کیا جائے اور عمل پر لوگوں کو ابھارا جائے چنانچہ ایک استاد،مربی،والد،داعی،امام اور خطیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاں عقلی ونقلی دلائل پیش کرنے میں پیش پیش ہوں وہیں لوگوں کے دلوں کو اپیل کرنے والے ، عمل پر ابھارنے والے اچھے اور سچے واقعات کو بھی نظر میں رکھیں۔خاص طور پر بچوں اور کم عمر طالب علموں اور کم پڑھے لکھے بوڑھے اورنوجوانوں کی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں قصہ سے بڑی مدد حاصل کی جاسکتی ہے اور بات کو بخوبی ذہن نشیں کرایا جاسکتا ہے ۔ وقت حاجت جدید ٹکنالوجی کا استعمال بھی بڑا اثرانگیز ہوتا ہے ۔ یہ پہلو بھی مدنظر رہے تو بہتر ہے ۔

تشبیہات وتمثیلات

نبی کریم ا وعظ ونصیحت کرنے اور اپنی بات کو ذہن نشیں کرانے اور مؤثر بنانے کے لیے بسااوقات ایسی چیزوں سے تشبیہ دیتے اور مثالوں میں ایسی چیز کوپیش کرتے جو لوگوں کے مشاہدے میں رہتی تاکہ آپ کی بات واضح ہوجاے ۔ آپ ا نے ارشاد فرمایا:

المؤمنُ مِرآةُ المؤمنِ”مؤمن مؤمن کا آئینہ ہے “ ۔ یہاں آپ نے ایک مومن کو دوسرے مومن کے لیے آئینہ سے تشبیہ دی ہے ۔ اور آئینہ اسی وقت آدمی کا عیب ظاہر کرتا ہے جب آدمی سامنے ہو ۔ اگر آدمی سامنے نہ ہو تو آئینہ میں کچھ ظاہر نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک مومن دوسرے مومن کی کمی صرف اسی کے سامنے بتاتا ہے ۔ پیٹھ پیچھے کچھ نہیں کہتا ۔ آئینہ دیکھنے والا بھی اپنے چہرے کے داغ دھبے دیکھ کر آئینہ کو برا بھلا نہیں کہتا ۔ اس کو توڑ نہیں دیتا بلکہ اپنے داغ دھبوں کی فکر کرتا ہے اور آئینہ کو احتیاط سے اٹھاکر رکھتا ہے تاکہ کچھ دنوں کے وقفہ کے بعد پھر دیکھے اور یہ جانکاری حاصل کرے کہ اب اس کے داغ دھبوں کا کیا حال ہے ۔

”ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہوتا ہے “ اس تشبیہ سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ایک مومن کی خوشی یا غم کو دوسرے مومن کے چہرے پر پڑھا جانا چاہیے ۔ اللہ کے رسول ا نے اس مختصر تشبیہ کے ذریعہ مخاطب کے سامنے مسلمانوں کے باہمی حقوق کی نہایت خوش اسلوبی سے وضاحت فرمادی ہے ۔

کتب احادیث میں ایسی بہت ساری احادیث پائی جاتی ہیں جن میں آپ  صلى الله عليه وسلم نے کسی تشبیہ وتمثیل کے ذریعہ اپنی بات کو کچھ اس طرح واضح کیا کہ سامع کے ذہن میں ہر پہلو سے جاگزیں ہوگئیں ۔ یہی شکل قرآن مجید میں جگہ جگہ ملتی ہے مثلاً

”کیا تو نہیںجانتا کہ اللہ تعالی نے کلمہ طیبہ کی مثال اس پاکیزہ درخت سے دی ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور چوٹی نہایت بلند آسمان پر پہنچی ہوئی ہے ۔ وہ ہروقت اپنے رب کے حکم سے پھل لاتا ہے ،اللہ لوگوں کے لیے تمثیلات بتلاتا ہے تاکہ وہ سمجھیں اور نصیحت حاصل کریں “ ۔      ( سورہ ابراہیم 25)

                                                                                          (جاری)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*