محبت رسول صلى الله عليه وسلم

نسیم احمد زاہد ریاضی (کویت )

محبت کے معنی میلان نفس اوردلی کشش کے ہیں ۔ یہ انتہائی درجے کا پاکیزہ جذبہ ہے جو ہمیشہ پسندیدہ چیزوں اور شخصیتوں کے لیے ہوا کرتا ہے ۔ انسانی زندگی میں اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس کی اہمیت میں اس وقت چارچاند لگ جاتا ہے جب اس کا تعلق رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  سے ہو ۔ کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم  سے محبت کرنا ایمان کا درجہ رکھتا ہے ۔ جیسا کہ آپ صلى الله عليه وسلم  کا فرمان ہے:

 لایومنُ احدُکم حتی اکونَ احبَّ الیہِ من والدہ وولدہ والناسِ اجمعین” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور باقی تمام لوگوں سے زیادہ پیارا نہ بن جاوں“۔ (بخاری )

ایک بار حضرت عمرفاروقرضي الله عنه نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  سے فرمایا: یارسول اللہ! آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہرچیز سے زیادہ عزیز اور محبوب ہیں “ تو آپ صلى الله عليه وسلم  نے جواب دیا: ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا نہ بن جائے “۔ یہ سن کر حضرت عمررضي الله عنه نے فرمایا: ”آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں “۔ تب آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا: الآنَ یَا عُمرُ ”اے عمر! اب تم پورے مومن ہوگئے “۔ (صحیح بخاری )

ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم  کی محبت تمام اقرباء اور متعلقین حتی کہ اپنی جان سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ اگر ایسا ہے تو ایمان مکمل ہے ورنہ نہیں ہے ۔ ایمان کی تکمیل کے لیے آپ صلى الله عليه وسلم  کی مطلوبہ محبت ضروری ہے ۔ اگر کسی آدمی کو اپنے قرابت داروں اور جان ومال کے مقابلہ میں نبی صلى الله عليه وسلم  کی محبت کم ہے تو وہ منافق ہے اور اگر بالکل نہیں ہے تو کافر ہے ۔

جس طرح نبی اکرم صلى الله عليه وسلم  سے محبت کرنا عین ایمان ہے اسی طرح یہ محبت ثمرآور بھی ہے ۔ جولوگ نبی صلى الله عليه وسلم  سے سچی محبت کرتے ہیں وہ جنت میں جائیں گے اور وہا ں آ پ صلى الله عليه وسلم  کے ساتھ رہیں گے ۔ فرمان نبوی صلى الله عليه وسلم  ہے من احبنی کان معی فی الجنة ”جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا“ (ترمذی )

اس شخص کی خوش نصیبی کا کیا کہنا جس کو آپ صلى الله عليه وسلم  سے سچی محبت ہو ۔ لیکن آپ صلى الله عليه وسلم  سے سچی محبت ہے کیا؟ یہ محبت کیسے ثابت ہوگی ؟ بعض نادان یہ سمجھتے ہیں کہ صرف زبانی اظہار واقرار اور دعوی‘ محبتِ رسول صلى الله عليه وسلم  کے ثبوت کے لیے کافی ہے لیکن یہ غلط ہے ۔ محبت رسول صلى الله عليه وسلم  کے ثبوت کے لیے آپ صلى الله عليه وسلم  کی سنت پہ عمل ضروری ہے ، قرآن اور حدیث کے مطابق زندگی گذارنا لازمی ہے۔

ہرکام نبی صلى الله عليه وسلم  کو آئیڈیل مان کر کرنا واجب ہے۔ جو کام آپ صلى الله عليه وسلم  نے کیا ہے وہ کیا جاے اور جن چیزوں سے دور رہے ان سے دور رہا جاے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم  کے احکام پہ عمل کیا جاے اور نواہی سے بچاجاے ۔ یہی آپ صلى الله عليه وسلم  سے سچی محبت ہے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم  کا فرمان ہے :

من احب سنتی فقد احبنی”جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی “۔ (ترمذی )

گویا جس کو آپ صلى الله عليه وسلم  کی سنت سے محبت نہیں ہے اس کو آپ صلى الله عليه وسلم  سے بھی محبت نہیں ہے اگر چہ وہ زبانی اظہارو اقرار اور دعوی کررہا ہو۔

اگر نبی صلى الله عليه وسلم  کی محبت کے لیے زبانی اظہار واقرار اور دعوی کافی ہوتا تو اللہ رب العالمین منافقین کی نبی اکرم صلى الله عليه وسلم  کی نبوت کی گواہی کو جھوٹا نہیں کہتا ۔ فرمان الہی ہے : ا ذَا جَاءکَ المُنَافِقُونَ قَالُوا نَشہَدُ  ِانَّکَ لَرَسُولُ اللَّہِ وَاللَّہُ یَعلَمُ اِنَّکَ لَرَسُولُہُ وَاللَّہُ یَشہَدُاِنَّ المُنَافِقِینَ لَکَاذِبُون

”جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه سلم اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں پھر بھی اللہ تعالی گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں“ ۔ (المنافقون 1)

غورکیجئے جب منافقین گواہی دے رہے ہیں کہ حضرت محمد صلى الله عليه سلم اللہ کے رسول ہیں اس کے باوجود اللہ تعالی کیوں کہہ رہا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں ۔ اس کا جواب يہی ہے کہ منافقین صرف زبانی اظہار واقرار اور دعوی کررہے ہیں ، ان کا عمل آپ ا کی سنت کے مطابق نہیں ہے ۔

لہذا یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه سلم  کی محبت آپ صلى الله عليه وسلم کی سنت پر عمل کرنا ہے نہ کہ زبانی جمع خرچ ۔

اللہ تعالی ہمیں زندگی کا ہرلمحہ سنتِ رسول صلى الله عليه سلم  کے مطابق گذارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*