سیرت رسول صلى الله عليه وسلم

چوہدری محمد اعظم ۔ مدیر تجاری (کویت )

 سیرت ايک خاص لفظ ہے جو صرف نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی ذات بابرکات کے علمی صحیفہ  زندگی کا نام ہے ۔ جس ميں سرور کائنات صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ کی ایک ایک جھلک ‘ ہر کیفیت اور حالت کو بالتفصیل بیان کیا جاتا ہے۔ اس لیے سیرت مبارکہ آپ صلى الله عليه وسلم کے اقوال طیبہ ‘ اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کوکہتے ہيں۔ آہستہ آہستہ علمائے دین اپنی عقیدت مندی سے سیرت کے پھیلاﺅ کو بڑھاتے گئے اور آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی کے دیگر پہلووں پر بھی سیرت کو محیط کر لیا جس کے تحت وہ تمام تر معلومات فراہم ہوئی ہيں۔  آپ صلى الله عليه وسلم  کا خاندان اور حسب ونسب کون سا تھا ؟  آپ صلى الله عليه وسلم  کی نبوت سے پہلے کی زندگی کیسی تھی ؟  آپ صلى الله عليه وسلم  کو نبوت کس طرح ملی؟  آپ صلى الله عليه وسلم  پر وحی کيسے نازل ہوئی تھی؟  آپ صلى الله عليه وسلم  نے اسلام کی دعوت کیسے دی؟  مخالفتوں اور مزاحمتوں کا مقابلہ کس طرح کیا ؟  آپ صلى الله عليه وسلم  نے ساتھیو ں کی تربیت کیسے فرمائی؟  اپنے گھر ميں آپ صلى الله عليه وسلم کس طرح رہتے تھے؟  اپنی بیویوں اور بچوں سے آپ صلى الله عليه سلم کا برتاﺅ کیسا تھا ؟  اپنے دوستوں اور دشمنوں سے آپ صلى الله عليه سلم کا معاملہ کیسا تھا؟   کس اخلاق حمیدہ کی تعلیم آپ صلى الله عليه وسلم  دیتے تھے اور آپ صلى الله عليه سلم کا اپنااخلاق کیا تھا؟  آپ صلى الله عليه وسلم کس درجے کے پیغمبر تھے؟  آپ صلى الله عليه وسلم  کس چیز کا حکم دیتے تھے؟  کس کام سے آپ صلى الله عليه وسلم  نے منع کیا؟  کس کام کو آپ صلى الله عليه وسلم  نے ہوتے دیکھا اور منع فرمایا اور کس چیز کو آپ صلى الله عليه وسلم نے ہوتے دیکھا اور منع نہ کیا۔ غرض کہ ذرا ذرا سی بات اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کی تفصیلات حدیث اور سنت کی شکل ميں سیرت کی کتابوں ميں موجودہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم  کی حیات طیبہ اور آپ کا اسوئہ حسنہ ہمارے لیے مشعل راه ہے۔

آپ صلى الله عليه وسلم  غزوات لڑتے ہوئے فوجی جنرل بھی تھے۔ آپ صلى الله عليه سلم کی قیادت ميں جتنی بھی لڑائیاں لڑی گئیں ‘ ان سب کا مفصل حال ہميں ملتا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم  ایک حاکم بھی تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم ایک قاضی اور منصف بھی تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم  کے سامنے پیش ہونے والے مقدمات کی پوری پوری رودادیں ہميں ملتی ہيں۔  اوریہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کس مقدمہ ميں آپ صلى الله عليه وسلم  نے کیا فیصلہ فرمایا۔  غرض کہ زندگی کا کوئی شعبہ یا کوئی مسئلہ ایسا نہيں جس کے متعلق آپ صلى الله عليه وسلم  نے تفصیلی ہدایات نہ دی ہوں۔ اس طرح حضورصلى الله عليه وسلم کی زندگی کا ہر پہلو معروف ہے۔ تمام انبیاء اور پیشواﺅں ميں سے صرف آپ صلى الله عليه وسلم  ہی وہ ہستی ہيں جنکی طرف نوع انسانی ہدایت و رہنمائی کے لیے رجوع کرسکتی ہے۔ اس کا واحد سبب يہ ہے کہ جو مقدس کتاب آپ صلى الله عليه وسلم  پر اتاری گئی ‘ اسکی حفاظت کی ضمانت اللہ تعالی نے خود اپنے ذمے لی ہے۔ اور چونکہ آپ صلى الله عليه وسلم  کی زندگی اس کتاب الہی کی شرح ہے ۔ لہذا شرح کی حفاظت بھی کتاب کے ساتھ لازمی ہے۔ اس طرح رسول اکرم صلى الله عليه وسلم  کی عملی زندگی اور حالات حیات طیبہ ‘ بفضلہ تعالی صحابہ کرام کے سینوں ميں محفوظ تھے۔ جس کے تحت آپ صلى الله عليه وسلم  کی سیرت ایک جامع شخصیت کی علمبردار ہے اور جس ميں آپ کے شمائل ‘ خصائل اور فضائل سب صفات محصور ہيں۔  کلام پاک ميں آنحضور صلى الله عليه وسلم  کا تفصیلی تعارف آیات قرآنی کی شکل ميں کیا گیا ہے-

آپ صلى الله عليه وسلم  آخری نبی ہيں۔  آپ صلى الله عليه وسلم  آخری رہنما ہيں-  آپ صلى الله عليه سلم پوری انسانیت کےلئے واجب الاتباع قائد ہيں۔  آپ صلى الله عليه وسلم  نے لوگوں کو راہ ہدایت دکھائی – آپ صلى الله عليه وسلم  نے ان کو ایک ابدی نظام حیات عطا فرمایا ۔

قرآن پاک نے سیرت النبی صلى الله عليه وسلم  کے نفاذ کےلئے جو ضابطہ عمل تجویز فرمایا ہے‘ وہ ہے :

” وہ ذات ہے جس نے امیوں ميں ان ہی ميں سے ایک رسول بھیجا جو ان پراسکی آیات تلاوت کرتاہے۔ انہيں پاک و صاف کرتا ہے اور انہيں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے “ ۔ ( سورہ جمعہ: ۲)

اس سلسلے ميں چار باتیں بیان ہوئيں ۔ تلاوتِ آیات یعنی قانون ربانی کا ابلاغ و اعلان ۔ دوسرے: تعلیمِ کتاب یعنی الفاظ کے معانی و مطالب اور اس کے اسرار و رموز سکھلائے ۔ تیسرے: تعلیمِ حکمت یعنی رسول صلى الله عليه وسلم  کے اسوئہ حسنہ کا عملی نمونہ بتائے۔  چوتھے: تزکیہ نفس ‘ ذہن سازی اور تعمیر سیرت فرمائے۔ یعنی لوگوں کی روحانی تربیت فرماکر انکے عقائد و اعمال اور اخلاق کا تزکیہ فرمایا ۔ يہ تعلیم کے چار پہلو ہيں ۔  تمام عالم کو اس وجود مقدس کی  سوانح عمری کی ضرورت تھی اور تا قیامت رہے گی ۔ جس کا مبارک نام ” محمد “ ہے۔ اللہم صل علیہ وسلم صلوة کثیرا کثیرا ۔

يہ ضرورت صرف مذہبی ضرورت نہيں ہے بلکہ ایک عملی ضرورت ہے ‘ ایک اخلاقی ضرورت ہے ‘ ایک تمدنی ضرورت ہے‘ ایک ادبی ضرورت ہے ‘ایک عملی ضرورت ہے، غرضیکہ سیرت النبی صلى الله عليه وسلم  کا مجموعہ ضروریات دینی و دنیوی مقاصد کے لیے ہے۔ عالم کائنات کا سب سے مقدم فرض اور اہم خدمت يہ ہے کہ نفوس انسانی کے اخلاق و عادات کی تعلیم و تربیت کی جائے ‘ اور صالح معاشرہ کی تشکیل کی جائے ‘ اس غرض کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم  کا عملی نمونہ سیرت کی شکل ميں ایک واحد ذریعہ ہے۔ چونکہ حیات طیبہ کتاب اللہ کی شرح اور عملی تفسیر ہے ۔ اس لیے قرآن کے مطابق ” سیرت النبی “ کے تحت درج ذیل موضوعات آتے ہيں ۔ آپ صلى الله عليه وسلم  کا تعارف اور ابتدائی زندگی،  آپ صلى الله عليه وسلم  کی بعثت، آپ صلى الله عليه سلم کے فرائض، آپ صلى الله عليه وسلم کی نبوت کے دلائل، آپ صلى الله عليه وسلم  کی دعوت تبلیغ، آپ صلى الله عليه وسلم کی کشمکش حق و باطل، آپ صلى الله عليه وسلم  کی مخالفت و اعتراضات،آپ صلى الله عليه وسلم  کی اذیت رسانی، آپ صلى الله عليه وسلم  کا واقعہ معراج، آپ صلى الله عليه وسلم  کی ہجرت ، آپ صلى الله عليه وسلم  کے غزوات ، آپ صلى الله عليه وسلم  کی ازواج مطہرات و اولاد ،آپ صلى الله عليه وسلم  کا وصال، آپ صلى الله عليه وسلم  کا مقام و شخصیت ،آپ صلى الله عليه وسلم  کی آئینی و قانونی حیثیت ، آپ صلى الله عليه وسلم  کے اخلاق و عادات اور آپ صلى الله عليه وسلم  کی عالمگیریت ۔

سیرت مبارکہ احکامات الہی کی تشریعی حیثیت رکھتی ہے یعنی سیرت پاک قرآن کی شرح ہے ۔ اور اللہ تعالی نے قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے ۔ ” تحقیق کے ہم نے ہی ذکر( قرآن) کونازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “ ۔

جب اللہ تعالی نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے تو سیرت پاک رسول صلى الله عليه وسلم  تشریع کی حیثیت سے خود بخود محفوظ ہے۔ اس طرح سیرت پاک کی ابدیت ميں کوئی شائبہ نہيں ۔

سیرت طیبہ کی ابدیت کا دوسرا نمایاں ثبوت يہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم  کی سیرت پوری جامعیت اور کاملیت کے ساتھ آغاز سے لیکر آج تک موجود و محفوظ ہے۔

 

 

zv7qrnb

أضف تعليقك