بعثت کا مقصد: اخلاق حسنہ کی تکمیل

شیخ ولید عمری (کویت )

عَن جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ :” اِنَّ اللّٰہَ بَعَثَنِی لِتَمَامِ مَکاَرِمِ الاخلاقِ وَکَمَالِ مَحَاسِنِ الاَفعَالِ“ ( شَرحُ السُّنُّةِ )

ترجمہ: حضرت جابر رضي الله عنه  سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے اخلاقی خوبیوں اور اچھے کاموں کی تکمیل کے لیے بھیجا ہے “ ۔

تشریح : اس میں شک نہیں کہ دنیا کے سارے مذاہب کی بنیاد اخلاق ہی پر ہے، لیکن مذہب کے دوسرے ابواب کی طرح اس باب میں بھی محمد صلى الله عليه وسلم  کی بعثت تکمیلی حیثیت رکھتی ہے ۔ جیسا کہ آپ صلى الله عليه وسلم  نے ارشاد فرمایا: اِنما بعثتُ لاُتمم مکارمَ الاخلاق(مسند احمد/موطا / الادب المفرد) ”میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہو ں “ ۔

چناں چہ آپ صلى الله عليه وسلم  نے اپنی بعثت کے ساتھ ہی اس فرض کو انجام دینا شروع کر دیا، ابھی آپ صلى الله عليه وسلم  مکہ ہی میں تھے کہ ابوذر رضي الله عنه  نے اپنے بھائی کو اس نئے پیغمبر کے حالات اور تعلیمات کی تحقیق کے لیے مکہ بھیجا ۔ انہوں نے واپس آکر آپ صلى الله عليه سولم  کے بارے میں اپنے بھائی کو جن الفاظ میں اطلاع دی وہ یہ تھے : رایتُه یامرُ بمکارمِ الاخلاقِ ( مسنداحمد۱/۲۰۲)  ” میں نے اس نبی کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو اخلاق حسنہ کی تعلیم دیتا ہے “۔

اسلام میں ارکانِ اربعہ کا ایک اہم مقصد انسان کے اخلاق حسنہ کی تربیت اور تکمیل ہے ، قرآن میں یہ نقطہ نظر ہرجگہ نمایاں طریقہ سے واضح کیا گیا ہے ۔ چناںچہ نماز کا ایک فائدہ قرآن کریم نے یہ بتایا کہ وہ بُری باتوں سے باز رکھتی ہے ، روزے کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ تقوی کی تعلیم دیتا ہے ، زکاة سرتاپا انسانی ہمدردی اور غمخواری کا سبق ہے ، اور حج بھی مختلف طریقو ں سے ہماری اخلاقی اصلاح وترقی کا ذریعہ ہے ۔

اسلام میں اخلاق کو جو اہمیت حاصل ہے وہ اس سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نماز میں جو دعا مانگتے تھے اس کا ایک فقرہ یہ بھی ہوتا تھا …. وَاھدِنِی الاحسَنِ الاخلَاقِ لَا یَھدِی لاحسَنِھَا اِلَّا انتَ وَاصرِف عَنِّی سَیِّئَھَا لایَصرِفُ عَنِّی سَیِّئَھا اِلَّا انتَ    ( مسلم)

”اے میرے اللہ ! تو مجھ کو بہتر سے بہتر اخلاق کی رہنمائی کر، تیرے سوا کوئی بہتر سے بہتر اخلاق کی رہنمائی نہیں کرسکتا ، اور بُرے اخلاق کو مجھ سے پھیر دے ، ان کو تیرے علاوہ کوئی دوسرا نہیںپھیر سکتا “۔

نیز رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے اپنے ارشادات عالیہ میں حسن اخلاق کی فضیلت واہمیت بتاتے ہوئے فرمایا:  “میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ کوئی چیز بھاری نہیں ہے”۔ (احمد، ابوداود) اسی کے ہم معنی ایک اور حدیث ہے ” قیامت کی ترازو میں حسن خلق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہوگی ، کہ حسن اخلاق والا اپنے حسن خلق سے ہمیشہ کے روزے دار اور نمازی کا درجہ حاصل کرسکتا ہے “ ۔ ( ترمذی )

عہد نبوی میں دو عورتیں تھیں ، ایک رات بھر نماز پڑھتی ،دن میں روزہ رکھتی اور صدقہ وخیرات کرتی تھی مگر اپنی زبا ن درازی سے پڑوسیو ں کے ناک میں دم کیے رہتی تھی جبکہ دوسری فرائض کی پابندی کرتی اور غریبوں کو چند کپڑے بانٹ دیتی تھی مگر کسی کو تکلیف نہ دیتی ۔ رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم  سے ان دونوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم  نے پہلی کی بابت فرمایا: ”وہ جہنمی ہے“ اور دوسری کی بابت فرمایا : ” وہ جنتی ہے “ ۔ (الادب المفرد ، صحیح)

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*