استحقاق خلافتِ ارضی کیوں اورکیسے؟

شیخ حافظ صلاح الدین یوسف

وَعَدَ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنکُم وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَستَخلِفَنَّہُم فِی الاَرضِ کَمَا استَخلَفَ الَّذِینَ مِن قَبلِہِم وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُم دِینَہُمُ الَّذِی ارتَضَی لَہُم وَلَیُبَدِّلَنَّہُم مِّن بَعدِ خَوفِہِم اَمناً یَعبُدُونَنِی لَا یُشرِکُونَ بِی شَیئاً وَمَن کَفَرَ بَعدَ ذَلِکَ فَاُو لَئِکَ ہُمُ الفَاسِقُونَ ﴿ ( سورة النور 55 )

ترجمہ: ”جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اُن سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اُن کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا اُن سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور اُن کے دین کو جسے اُس نے ان کے لیے پسند کیا ہے مستحکم و پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا(۱)، وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے(۲) اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں(۳) “۔

تشریح :

(۱) بعض نے اس وعدہ الہی کو صحابہ کرام کے ساته یا خلفائے راشدین کے ساتھ خاص قراردیا ہے لیکن اس تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ۔ قرآن کے الفاظ ہیں اور ایمان وعمل کے ساتھ مشروط ہیں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ عہد خلافتِ راشدہ اور عہد خیرالقرون میں‘اس وعدہ الہی کا ظہور ہوا، اللہ تعالی نے مسلمانوں کو زمین میں غلبہ عطا فرمایا، اپنے پسندیدہ دین اسلام کو عروج دیا اور مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دیا ۔ پہلے مسلمان کفار عرب سے ڈرتے تھے ، پھر اس کے برعکس معاملہ ہوگیا ۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے بھی جو پیشین گوئیاں فرمائی تھیں ‘ وہ بھی اس عہد میں پوری ہوئیں ۔ مثلاً آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا تھا کہ:

” حیرہ سے ایک عورت اکیلے تنِ تنہا چلے گی اور بیت اللہ کا  طواف کرے گی، اسے کوئی خوف اور خطرہ نہیں ہوگا، کسری کے خزانے تمہارے قدموں میں ڈھیر ہوجائیں گے“ ۔ چناںچہ ایسا ہی ہوا ( صحیح البخاری ، کتاب المناقب ،باب علامات النبوة فی الاسلام ) نبی صلى الله عليه وسلم  نے یہ بھی فرمایا تھا ” ان اللّٰہَ زوی لی الارضَ فرایتُ مشارقَھا ومغاربَھا واِنَّ امتی سیبلغُ ملکُھا ما زُوی لی منھا ( صحیح مسلم ،کتاب الفتن واشراط الساعة ۔ باب ھلاک هذہ الامة بعضھم ببعض ) ”اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سکیڑ دیا ‘ پس میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصے دیکھے ‘ عنقریب میری امت کا دائرہ اقتدار وہاں تک پہنچے گا ‘ جہاں تک میرے لیے زمین سکیڑ دی گئی “ ۔ حکمرانی کی یہ وسعت بھی مسلمانو ں کے حصے میں آئی اور فارس وشام اور مصر وافریقہ اور دیگر دور دراز کے ممالک فتح ہوے ، کفر وشرک کی جگہ توحید وسنت کی شمعیں ہر جگہ روشن ہوگئیں اور اسلامی تہذیب وتمدن کا پھر یراچار دانگ عالم میں لہرایاگیا۔  لیکن یہ وعدہ چوں کہ مشروط تھا ‘ جب مسلمان ایمان میں کمزور اور  عمل صالح میں کوتاہی کے مرتکب ہوے تو اللہ نے ان کی عزت کو ذلت میں ‘ ان کے اقتدار اور غلبے کو غلامی میں اور ان کے امن واستحکام کو خوف اور دہشت میں بدل دیا ۔

(۲) یہ بھی ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ایک اور بنیادی شرط ہے جس کی وجہ سے مسلمان اللہ کی مدد کے مستحق اور اس وصف توحید سے عاری ہونے کے بعد وہ اللہ کی مدد سے بھی محروم ہوجائیں گے ۔

(۳) اس کفر سے مراد ‘ وہی ایمان ،عمل صالح اور توحید سے محرومی ہے جس کے بعد ایک انسان اللہ کی اطاعت سے نکل جاتا اور کفر وفسق کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*