اہل کویت کی خوشی ہماری خوشی ہے

 محمدخالداعظمی (کویت )

taleem95@hotmail.com

3جنوری1999ءکوریڈیو کویت سے ایک بیان نشر ہواکہ:

 ”کویت دنیا کے دیگرممالک میںپٹرول کے ساتھ رفاہی خدمات بھی ایکسپورٹ کرتا ہے ، کویت کی رفاہی اور اسلامی خدمات تمام لوگوں کے لیے عام ہیں، یہ ہم پر   اللہ تعالیٰ کاعظیم احسان ہے کہ ہمارے پاس ایکسپورٹ کرنے کے لیے پٹرول اور رفاہی کاموں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔“ یہ بیان شیخ عبد اللہ المطوع رحمه الله کا تھا

   کویت کوآزادہوئے 50سال ہوگئے ہیں ۔جس وقت اس ملک پر غاصب عراق نے اپنا خونی پنجہ جمایا ، بیرون ملک کے باشندگان کو یہاں سے نکلناپڑا، ساتھ ہی باشندگان کویت کو بھی ہرطرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ، مگر یہ جانباز قوم اپنی آزادی کی خاطر لڑتی رہی یہاں تک کہ ملک آزاد ہوگیا، اس پر اللہ کا جتنا بھی شکر اد ا کیا جاے کم ہے۔

        آج یہ ملک آزادی کی پچاسویں ،عراقی افواج کے انخلاءکی بیسویں اور امیر کویت الشیخ صباح الاحمد الصباح کے اقتدار کی پانچویں سالگرہ منارہا ہے ۔کویت کی آزادی کی تاریخ 19جون 1961ءسے شروع ہوتی ہے جب اس نے مغربی استعمار سے آزادی حاصل کی ،اس کے بعد سے مستقل ملک ترقی کرتا رہا ، آج صورتحال یہ ہے کہ اس نے اپنے دامن میں 103ممالک کے لوگوں کو پناہ دے رکھی ہے ۔

   اس چھوٹے سے ملک میں رزق ومعاش کی تلاش میں آنے والوں میں سے آدھے سے زیادہ لوگ برصغیر ہندو پاک کے ہیں ، لہذاہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کویت کی اس سالگرہ کی تقریبات میں ہم بھی برابر کے شریک ہوں ، ان کی خوشی ہماری خوشی ہواور ہمیں اس ملک اور باشندگان ملک کا ممنون ومشکور ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں اپنے دامن میں پناہ دے رکھی ہے۔کیونکہ اللہ کے رسول ا کا فرمان ہے: لا یشکر اللہ من لایشکر الناس ”جو لوگوں کا شکرگزار نہیں ہوتا وہ اللہ تعالی کا بھی شکر گزار نہیں ہوسکتا“ ۔ (سنن ابی داؤد )

   اس ملک میں امن وسکون، دین اسلام کا فروغ اور خیر کے کام کرنے والی تنظیموں کا پھلنا پھولنا اور ترقی کرنا اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ دین کے کام کرنے والوں کویہاں پرکھلی آزادی ہے ،اور کویت جیسے چھوٹے سے ملک میں جتنے رفاہی ادارے ہیں شاید دنیا کے کسی ملک میں اتنے زیادہ رفاہی ادارے ہونگے۔ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین ” اللہ تعالی محسنین کے اجروثواب کو ضائع نہیں کرتا“۔

       اگر ہمارے افراد اہل کویت کے لیے اچھا جذبہ رکھتے ہیں اور ان کے کام آتے ہیں تویہ قوم اس کا اعتراف بھی کھل کر کرتی ہے اس کی ایک مثال دیتا ہوں کہ عراق کے غاصبانہ قبضہ کے دوران کویت میں مقیم محمد ہوشدار خان صاحب نے کافی تعاون کیاتھا اور مصائب میں پھنسے ہوئے لوگوں کی دامے درمے قدمے سخنے ہرطر ح سے مدد کی تھی ، اس کی اطلاع شیخ جابر الاحمد الجابر الصباح رحمہ اللہ کو ملی تو انہوں نے طائف (سعودی عرب) سے دیوان امیری کی جانب سے ایک خط محمد ہوشدارخان کے گھرحیدرآباد کے پتے پربھیجا جس میں شیخ جابر الاحمد الجابر الصباح رحمہ اللہ نے اپنی حکومت اور عوام کی طرف سے ان کی تعریف کی اور دوران جنگ ان کی خدمات کوسراہا ۔        

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*