کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

 یہ فروری کا شمارہ ہے اور ماہ رواں کی 25،26 تاریخ کویت کے قومی تہواراوریومِ آزادی کا پُرمسرت دن ہے ، جہاں ایک طرف کویت اپنے قومی تہوارکے پچاس سال مکمل ہونے پر نصف صد سالہ جشن منانے کی تیاری میں ہمہ تن مشغول ہے تودوسری طرف IPCنے جنوری کے اواخر میں بڑے تزک واحتشام کے ساتھ اپنا 33سالہ جشن منایا ہے، اس طرح اگر کویت نے اپنے قومی تہوار کے پچاس سال مکمل کرلیے ہیں تو IPC نے اپنی عمر کی 33 بہاریں دیکھ لی ہیں ،چونکہ یہ ادارہ کویت کے خیروبرکات ہی کا ایک پرتو ہے، اوراس نے ایک قلیل عرصہ میں محیرالعقول خدمات انجام دی ہیں ،اس مناسبت سے ہم سردست ادارہ کے آغاز سے اب تک کا ایک معروضی خاکہ پیش کرناچاہیں گے پھر اصل موضوع کی طرف لوٹیں گے۔

 IPC کویت کی سرزمین پرتعارفِ اسلام کی مرکز ی کمیٹی ہے جو کویت کے معروف رفاہی ادارہ جمعیة النجاة الخیریہ کی ایک شاخ ہے ۔ IPC کی تاسیس سن 1978 میں عمل میں آئی ، کام کی شروعات ایک چھوٹے سے کمرے سے ہوئی جس کا پس منظر یہ ہے کہ کویت کے چند باہمت نوجوانوں نے جب دیکھا کہ اس سرزمین پرروزگارکے لیے بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں کی معتدبہ تعداد موجود ہے جن تک اسلام کا پیغام پہنچانا ایک مسلمان کی واجبی ذمہ داری ہے ، پھران میں کام کرنے کے لیے ماحول بھی سازگارہے۔

 چنانچہ تارکین وطن کو مختلف زبانوں میں دین کی معلومات بہم پہنچانے کی عملی شکل یہ اپنائی گئی کہ ان کو عربی زبان سکھائی جائے جو خلیجی ممالک میں ان کی ملازمت سے جڑی ہوئی زبان ہے ۔ اور اسی کے ساتھ ان کے سامنے اسلام کا تعارف بھی کرایا جاسکتا ہے ۔ اس کے لیے ہفتہ میں جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا کیوں کہ یہی دن بالعموم ملازمت پیشہ افراد کی تعطیل کا ہوا کرتا تھا، اسی مناسبت سے کمیٹی شروع میں ”مدارس الجمعة “کے نام سے یاد کی جاتی تھی۔

 حاضرین کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا ، چناںچہ اوقاف کی عمارت میں ایک روم کرایا پر حاصل کرلیا گیا۔ مرورایام کے ساتھ کویت کے اہل خیرکی دعوتی رغبت بڑھتی گئی جسے دیکھتے ہوئے کمیٹی کے ذمہ داران نے دعوتی کاز کو آگے بڑھانے کا منصوبہ بنایا ، دعوت کے دائرے کو وسیع کیا یہاں تک کہ اس کامرکزی دفتر فہد سالم روڈ مسجد ملا صالح کے تہہ خانہ میں قرار پایا۔ آج بفضلہ تعالیٰ کویت کے مختلف حصوں میں  ipcکی 15 شاخیں دعوتی کاموں میں سرگرم ہیں، اسے 14 زبانوں میں 74 سے زائد مبلغین کی خدمات حاصل ہيں۔ ذمہ داران اور مبلغین کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں سن تاسیس سے لے کر اب تک مختلف زبانوں کے 51 ہزارسے زائد مرد وخواتین مشرف باسلام ہوچکے ہیں۔

اس کے علاوہ ipc ہمیشہ ماہر اساتذہ کرام کی خدمات حاصل کرکے عربی بول چال کے کورسیز کراتی ہے ، دنیا کی مشہور زبانوں میں غیرمسلموں کے سامنے عصری اسلوب میں حکمت ودانائی کے ساتھ اسلام کا مثبت انداز میں تعارف کراتی ہے ، ہفتہ وار کلاسیز کے ذریعہ نومسلموں کی تربیت کرتی ہے ، مختلف زبانوں میں دعوتی کتابیں، کیسٹس اور پمفلٹس شائع کرتی اور مفت تقسیم کرتی ہے۔  ipcکو cams کے نام سے ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کی خدمت بھی حاصل ہے جوخلیجی ملکوں میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے ۔ اس کے زیراہتمام مبلغین اور عام لوگوں کے لیے ٹیکنیکل اورٹریننگ کورسیز چلتے رہتے ہیں۔

آٹھ سال سے عربی زبان میں ماہنامہ’البُشریٰ‘ بھی نکل رہا ہے جوخاص دعوتی میگزین ہے، اس نے دعوت کے تئیں اہل کویت کی ذہن سازی میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں شاید لجنة التعریف بالاسلام کو یہ امتیاز حاصل ہوگا کہ وہ چھ زبانوں ( تلگو، تمل ،ملیالم ، اردو، فلیپائن اور بنگالی ) میں بھی اپنا ماہانہ آرگن شائع کررہی ہے جو خالص دعوتی اور اصلاحی مجلات ہیں ۔

  یہ رہی IPC کی مختصرتاریخ اوراس کی موجودہ سرگرمیوں کی ایک جھلک‘ جس میں آپ نے دیکھا کہ کویت کی سرزمین پر غیرمسلم تارکین وطن کے وجود نے سکولوں میں زیرتعلیم چند کویتی نوجوانوں کے اندردعوت کاغیرمعمولی احساس پیدا کیا ،ان کے سمند ہمت کو تازیانہ لگایا، چناں چہ انہوں نے اس احساس کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کام کی شروعات کی، ابتداء میں تصور بھی نہیں کیاجا سکتا تھاکہ ان کی کوششیں اس قدر رنگ لائیں گی کہ کویت کے چپہ چپہ بلکہ پورے عالم میں اس کی گونج سنی جائے گی اور اس چمن کے لالہ وگل کی عطربیزیوں سے پورا عالم معطر ہوجاے گا۔ اس ادارہ سے فیض پانے والے کتنے  چراغِ ہدایت ہیں جن کے ہاتھوں پر ہزاروں نے اسلام قبول کیا ہے ، کتنے یورپ وامریکہ کی تاریک فضاؤں میں روشنی پھیلارہے ہیں ۔ظاہر ہے یقین محکم ،عمل پیہم اور منظم پلاننگ نے اس ادارے کو اس مقام تک پہنچایا ہے ،اس بیچ کتنی رکاوٹیںآئی ہیں، کتنے صبرآزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے، نازک اورسنگین حالات سے نبردآزمائی کرنا پڑی ہے لیکن ہرجگہ حکمت ودانائی کے ساتھ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے کہ آج یہ ادارہ شگفتہ و شاداب ہے اور مسلسل برگ وبار لارہا ہے۔

ایک طرف اس دعوتی مرکز کی خدمات ہیں تودوسری طرف یہ خبرکہ پچھلے دنوں پیرس میں عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مغربی مفکرین اور سیاست دانوں نے شرکت کی، کانفرنس کا موضوع تھا ”یورپی ممالک میں اسلام کا فروغ اوراس کے سدباب کی تدابیر “ واقعہ یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ میں اسلام کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات نے  اہلِ مغرب کو گویا باؤلا بنادیا ہے، لیکن فرزندانِ توحید کے لیے یہ کوئی نیا چیلنج نہیں ہے ، اعدائے اسلام نے تاریخ کے ہردور میں اسلام کی شمع فروزاں کو اپنی پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کی ہے اور تا صبح قیامت کرتے رہیں گے ،اس سے ہراساں ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے،اس طرح کی ناکام کوششوں کا نتیجہ ہردورمیں خیر کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور ہوتا رہے گا کیوں کہ اسلام کی فطرت ہے کہ ” جتنا ہی دباؤگے اتنا ہی یہ ابھرے گا “ البتہ ایسے کشیدہ حالات میں غیرمسلموں میں کام کرنے والے دعوتی اداروں کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے، ہرملک اورہر علاقے میں ایسے ادارے اور افراد ہونے چاہئیں جو غیرمسلموں کی زبان میں ان تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے یکسو ہوں ، ipc نے ہمیں غیرمسلموں میں کام کرنے کا تصور دیا ہے ، ہماری ذہن سازی کی ہے، اصلاح امت کے ساتھ غیرمسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ لیکن ہے یہ راستہ ‘ بڑاصبرآزما اورحوصلہ طلب، کیونکہ ع

خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا –

 

صفات عالم محمد زبیر تیمی

 safatalam12@yahoo.co.in

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*