میٹھے بول میں جادو ہے

 زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جب ہمیں دوسروں کو سمجھانے بجھانے اور نصیحت کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ جب ہم دوسروں کو سمجھاتے یا نصیحت کرتے ہیں تو دراصل ان کے دلوں سے مخاطب ہوتے ہیں ۔ نصیحت کرتے وقت آپ اس بات کا خاص خیال رکھیے کہ آپ کا لہجہ تحکمانہ نہ ہوناچاہیے ۔ آپ کا اسلوب مشاورانہ ہونا چاہیے ۔

ایک روز رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز تہجد کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا:” عبداللہ !تم فلاں کی طرح نہ ہونا ۔ وہ رات کو قیام کرتا تھا ، پھر اس نے رات کا قیام ترک کردیا “ ۔(صحیح بخاری ، حدیث :1152 صحیح مسلم ، حدیث :1159)

 دوسروں کو اُن کی غلطی کا احساس یوں دلائیں کہ انھیں محسوس بھی نہ ہو ۔ عبداللہ بن مبارک رحمه الله  کے پاس ایک آدمی کو چھینک آئی تواُس نے الحمدللہ نہیں کہا۔ ابن مبارک رحمه الله  نے اُس سے پوچھا:”جب کوئی آدمی چھینکے تو کیا کہے ؟“ اُس نے کہا: ”الحمدللہ “۔ اس پر عبداللہ بن مبارک رحمه الله  نے کہا: ”یرحمک اللہ “ ۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  کا طرز عمل بھی یہی تھا ۔

آپ صلى الله عليه وسلم  کا معمول تھا کہ عصر کی نماز کے بعد یکے بعد دیگرے تمام بیگمات کے ہاں تشریف لے جاتے ۔ حال احوال دریافت کرتے ،کوئی ضرورت ہوتی تو اُس کا بندوبست کرتے ۔

ایک دن عصر کے بعد زینب بنت جحش رضي الله عنها  کے ہاں گئے ۔ زینب رضي الله عنها  سے باتیں بھی کرتے رہے ۔ اس وجہ سے ان کے ہاں ذرا دیر ہوگئی ۔ حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھما کو اس پر غیرت آئی ۔ ان دونوں نے طے کیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  آئیں تواُن سے کہنا ہے کہ آپ کے منہ سے مغافیر (کھانے کا گوند جس سے میٹھا شربت بنتاہے لیکن ہلکی بو آتی ہے ) کی بو آتی ہے ۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ منہ یا بدن سے بو نہ آئے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم  حفصہ رضي الله عنه  کے پاس تشریف لے گئے ۔ انھوں نے پوچھاکہ آپ نے کیا کھایا ہے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ زینب کے ہاس سے شہد پیا ہے ۔حفصہ رضي الله عنها بولیں: ”مجھے آپ سے مغافیر کی بو آتی ہے “۔آپ صلى الله عليه وسلم نے کہا: ”نہیں، میں نے شہد پیا ہے لیکن آیندہ کبھی نہیں پیوں گا“۔                      (صحیح البخاری ،الطلاق،حدیث :5267)

ان سے رخصت ہوکر آپ عائشہ رضي الله عنها  کے ہاں گئے تو انھوں نے بھی وہی طے شدہ باتیں کہیں ۔ چند دن گزرے ۔ اللہ تعالی نے سارا معاملہ کھول کر آپ کو بتا دیا ۔

 ایک دن آپ نے حفصہرضي الله عنها  سے کوئی بات رازدارانہ کہی لیکن انھوںنے اُسے افشا کردیا ۔ آپ اُن کے ہاں گئے ۔ وہاں شفا بنت عبداللہ  بیٹھی تھی جنہوںنے طب سیکھ رکھی تھی اور لوگوں کا علاج کرتی تھیں ۔ آپ نے حفصہ رضي الله عنها کو اُن کی غلطی باور کرانے کی خاطر شفا  سے مخاطب ہوکر فرمایا: ”جس طرح تم نے اسے لکھنا پڑھنا سکھایااُسی طرح اسے چیونٹی کا منتر (رقیة النملة) کیوں نہیں سکھاتیں ؟“۔(سنن ابی اداو د ، حدیث : 3887)

چیونٹی کا منتر چند بول تھے جو عرب خواتین کہا کرتی تھیں ۔ یہ کلام نہ نفع دے سکتا تھا نہ نقصان ۔ اس کے بول یہ تھے : ”دلہن تیار ہورہی ہے ۔ مہندی لگا رہی ہے ۔ آنکھوں میں سرمہ ڈال رہی ہے ۔ تم ہر کام کرنا لیکن شوہر کی نافرمانی نہ کرنا “۔

ایک اور واقعہ سنیے ۔ اسلاف کے کسی بزرگ سے ایک آدمی نے کتاب پڑھنے کے لیے لی ۔ چند دن بعد اُس نے کتاب لوٹائی تواُس پر سالن اور پھلوں وغیرہ کے نشان تھے ۔ کتاب کا مالک خاموش رہا ۔ کچھ عرصے بعد وہی آدمی پھر ایک کتاب لینے آگیا ۔ اُن بزرگ نے اُسے کتاب ایک پلیٹ میں رکھ کر پیش کی ۔ ”مجھے صرف کتاب چاہیے ۔“اُس نے کہا: ”اس پلیٹ کی کیا ضرورت ہے ؟ “ اُنھوں نے جواب دیا: ”کتاب اس لیے کہ آپ اسے پڑھیں اور پلیٹ اس لیے کہ آپ اس میں کھانا سالن وغیرہ رکھ لیا کریں“۔

اُس آدمی نے کتاب لی اور چلا گیا ۔ بات اُس تک پہنچ چکی تھی ۔ نصیحت کا یہ طریقہ بہت مناسب ہے ۔

مختصر بات: الکَلِمَةُ الطَّیِّبَةُ صَدَقَة”اچھی بات صدقہ ہے “۔ (صحیح البخاری : 6023)

            (زندگی سے لطف اٹھائیے ۔ دکتورمحمدعبدالرحمن العریفی صفحہ 381۔384)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*