اسی باعث نہ قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے !

  مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

 دنیاکی معلوماتی تاریخ میں ہمیشہ ہی انسان کی غالب اکثریت مذہب پر یقین رکھتی ہے، اسی لے قرآن مجید نے بتایا ہے کہ اسلام اور خدا کے سامنے خود سپردگی انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے : ﴾ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیھَا ﴿(الروم : ۰3) یہ اور بات ہے کہ آدمی اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی کتاب ہدایت سے محرومی کی بنا پر جذبہ بندگی کا غلط استعمال کرے اور اس کا سر خالق کی بجائے مخلوق کے سامنے خم ہونے لگے، لیکن بہر حال مذہب سے وابستگی انسانی فطرت میں ودیعت ہے۔

پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہب اور اپنے مذہبی پیشوا سے وابستگی کا مسئلہ انسان کے لے شاید سب سے زیادہ جذباتی اور حساس مسئلہ ہوتاہے، جاں نثاری و فدا کاری اور قربانی کی جو مثالیں مذہب کی نسبت سے ملیں گی ، شاید ہی کہیں اور مل پائے، اس راہ میں کتنے ہی لوگوں نے آگ پر چلنا، شعلوں میں جلنا، سمندر میں غرقاب ہونا اور زندہ پیوند خاک کیاجانا تو قبول کیاہے، لیکن اپنے فکر و عقیدہ سے انحراف کسی طور پرگوارا نہیں کیا، اس لے ہر عہد میں عدل و انصاف کی راہ چلنے والوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ ہر شخص کو اپنے مذہب پر چلتے ہوئے دوسرے مذاہب کے متبعین کے جذبات کا پاس رکھنا ضروری ہے اور یہ تو درست ہے کہ آدمی کسی فکر اور عقیدہ پر سنجیدہ علمی تنقید کرے، لیکن کسی مذہب اور مذہبی پیشوا کے ساتھ تنقیص و تمسخر اور سب و شتم کرنا کوئی بھی مذہب اور قانون روا نہیں رکھ سکتا۔

  اسلام دین فطرت ہے ، جس نے انسانی جذبات کی تکریم کا قدم قدم پر لحاظ رکھا ہے، وہ اس پہلو سے بھی ایک مکمل اور فطرت انسانی سے ہم آہنگ دین ہے، گزشتہ انبیاءکی نسبت قرآن مجید کو ” مصدق “ قرار دیا گیا،(البقرة : 89 ) یعنی یہ کتاب گزرے ہوے پیغمبروں کی تصدیق کرتی ہے اور دنیا کی بد نصیب قوموں نے ا ن بر گزیدہ ہستیوں کی پاک زندگیوں پر تہمت اور بدگمانیوں کا جو غبار رکھ دیا تھا، یہ کتاب انہیں صاف کرتی ہے ، بائبل نے حضرت نوح، حضرت لوط، حضرت یعقوب کے صاحبزاد ے یہودا،حضرت داﺅد، حضرت سلیمان، حضرت یوسف اور حضرت مسیح و عزیر علیہم السلام پر نا شائستہ الزامات لگائے ہیں، قرآن اور حامل قرآن نے حضرات انبیاءکی پاکیزہ زندگیوں پر چڑھائی گئی بد گمانی اور تہمت اندازی کی ان دبیز چادروں کو چاک کیا اور ان کو برگزیدہ ، خدا کے یہاں مقبول اور انسانوں کے لے اسوئہ و نمونہ کی حیثیت سے پیش کیا، اسی لے ہر مسلمان پر اپنے پیغمبر کی طرح ہر پیغمبر پر ایما لانا اور ان کے احترام کو بر قرار رکھنا واجب ہے ، ایک مسلما ن محمد عربی صلى الله عليه وسلم  پر کتنا بھی یقین رکھتا ہو اور شریعت اسلامی پر عمل کرنے میں کتنا ہی پابند نظر آتا ہو، اگر اس نے ایک بھی رسول کا انکار کیا یا ان کی ہتک شان کی ‘ تو وہ مسلمان باقی نہیں رہ سکتا۔

  پھر قرآن مجید نے ایک اصولی بات کہی ہے جو ہر مسلمان کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اسلام سے پہلے کے تمام مذہبی پیشواﺅں کا احترام کریں اور ان کے بارے میں محتاط لب و لہجہ اختیار کریں، قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالی نے بے شمار انبیاءبھیجے ہیں، ہر قوم میں اپنا پیغمبر مبعوث کیا ہے ( فاطر : 24) اور ہر زبان میں اپنا صحیفہ ہدایت نازل فرمایاہے، ( ابراہیم : 4)

یہ عقیدہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتاہے کہ مختلف اقوام جن مذہبی پیشواﺅں پر ایمان رکھتی ہیں ، عجب نہیں کہ وہ اپنے زمانہ میں اللہ کے رسول رہے ہوں اور ان کی تعلیمات میں انسانی تحریف اور ملاوٹ نے ان کو توحید سے دور کردیا ہو، رام جی ہوں یا کرشن جی، بودھ جی ہوں یا کنفیوشس، مسلمان ان کے بارے میں بد گوئی نہیں کرسکتے، حضرت مسیح اور پیغمبر اسلام  کے درمیان صرف پانچ سو ستر سال کا فاصلہ ہے، اس کے باوجود بائبل( عہد جدید) میں کیا کچھ تحریف نہیں ہوئی، خود عیسائی علماءاور محققین کو اس کا اعتراف ہے، تو ان بزرگوں کا عہد تو اسلام سے بہت پہلے کاہے، ان کی تعلیمات میں انحراف و تبدیلی کا پایاجانا بالکل عجیب نہیں !

  یہ تو ان برگزیدہ ہستیوں کا ذکر ہے ، جو مقام نبوت پر فائز ہیں یا جن کے بارے میں اس کا احتما ل موجود ہے کہ وہ اپنے عہد کے پیغمبر رہے ہوں، قرآن نے تو معبودان باطل کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرمایا کہ اس سے انسانی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور رد عمل کی نفسیات جاگ اٹھتی ہے ( الانعام :108) قرآن کا مطالعہ کیجئے اور احادیث پر نظر ڈالے ! عقیدئہ توحید کا اثبات اور شرک کی تردید قرآن و حدیث کی تمام تعلیمات کا لب لباب اور خلاصہ ہے لیکن انبیاءو رسل کے احترام میں کہیں کوئی کمی نہیں ، نہ مخالفین کی دل آزاری ہے اور نہ جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی زبان اور بیان ۔

  اسلام جو رویہ دوسرے مذاہب کی بابت اختیار کرتاہے ،چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ بھی اسی سلوک کو روا رکھا جائے، نظریاتی تنقید نے کبھی مسلمان علماءیا عوام کو مشتعل نہیں کیا، مسلمانوں نے بلند حوصلگی اور علمی بلند نگاہی کے ساتھ ان کا سامنا کیا، اسلامی تھیالوجی جو ” علم کلام“ کے نام سے علوم اسلامی کا ایک اہم شعبہ مانا جاتا ہے، کا موضوع ہی یہی ہے کہ اعتقادات کے بارے میں اسلام کے نقطئہ نظر کو مدلل طور پر پیش کیاجائے اور اسلامی معتقدات پر کئے جانے والے شبہات کا جواب دیا جائے ، خودہندوستان میں اسلام کے خلاف ایسی کتابیں لکھی گئیں، جن کی سرحد دل آزاری اور دریدہ دہنی سے جاملتی تھی، جیسے پنڈت دیانند سرسوتی جی کی ” ستیارتھ پر کاش “ لیکن مسلمانوں نے ایسی تحریروںپر بھی صبر کا دامن نہ چھوڑا اور اس کا دندان شکن اور مسکت علمی جواب دیا ۔

  لیکن ظاہر ہے کہ کوئی بھی مذہب اور اس مذہب کے متبعین کے لے یہ بات گوارا نہیں ہوسکتی کہ اس کے  بار ے میں سب و شتم اور یا وہ گوئی کا طریقہ اختیار کیا جائے بلکہ کوئی بھی معقول قانون ایسے طرز عمل کو برداشت نہیں کر سکتا ،جس سے لاکھوں انسانوں کے جذبات مجروح اور احساسات زخمی ہوں ، آج منشیات کی اسمگلنگ کی سزا قتل ہے ، کسی ملک کے جھنڈے کی توہین کی جائے تو یہ سخت قابل مواخذہ ہے ، تو کیا مذہبی پیشواﺅں کی توہین اس درجہ کاجرم بھی نہیں ؟ اسی لے اسلام میں رسولوں اور پیغمبروں کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی سزا قتل ہے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اس سنگین جرم کی یہی سزا منقول ہے،(فتح القدیر :626) حقیقت یہ ہے کہ اگر اس سے بڑی بھی کوئی سزا ہو سکتی اور ایک مجرم کو ایک سے زیادہ دفعہ قتل کیا جانا ممکن ہوتا تو ایسا شخص اس کابھی سزا وار تھا، کیوں کہ ایک انسان کے قتل کی سزا قتل ہے ، حالاں کہ اس سے ایک خاندان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ، ایک ملک سے بغاوت کی سزا قتل ہے، حالاں کہ اس سے بھی ایک محدود گروہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے ، تو ایک ایسی شخصیت کی بے احترامی جس سے کروڑوں انسانوں کے احساسات مجروح ہوتے ہوں اس کا مجرم یقینا اس سے بڑی سرزنش کا مستحق ہے ۔

  فقہاءکے یہاں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں، فقہ کے چاروں دبستان حنفیہ،مالکیہ،شوافع اور حنابلہ اس بابت متفق ہیں ( دیکھئے : رد المختار:2903، المغنی:339) اور علامہ ابن تیمیہ رحمه الله نے تو اس موضوع پر مستقل کتاب  ’ سیف اللہ المسلول علی شاتم الرسول‘ نام سے لکھی ہے، بلکہ بعض حنفی فقہاءنے یہ بھی لکھا ہے کہ رسول صلى الله عليه وسلم  کے ساتھ گستاخی کرنے والے شخص کی دنیا کے احکام کے اعتبار سے توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی، چاہے آخرت میں اس کی توبہ قبول ہوجائے، اگرچہ اس رائے کو نا معتبر سمجھا گیا ہے، علامہ عبد الرشید طاہر بخاری ممتاز فقہاءمیں ہيں ، لکھتے ہیں : ” جس نے رسول صلى الله عليه وسلم  کو برا کہا،آپ صلى الله عليه وسلم  کی اہانت کی،آپ صلى الله عليه سلم  کے دین، آپ صلى الله عليه وسلم  کی شخصیت یا آپ  کے اوصاف کی نسبت سے بدگوئی کی، تو چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ،یہودی،عیسائی ہو مشرک،مسلم ملک کا باشندہ ہو یا دار الحرب کا، اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔“ ( خلاصة الفتاوی : ۶۸۳۴)

  شاید یہ اس لے کہ اگر اس معاملہ میں ایسی سختی کو روا نہ رکھا جائے تو اندیشہ ہے کہ بد قماش اور بد دہن قسم کے لوگوں کو موقع مل جائے کہ وہ بد گوئی کریں اور پھر سزا سے بچنے کے لے اپنے تائب ہونے کا اظہار کریں ۔ اس طرح حضرات انبیاءکرام ، جو انسانیت کے لے چراغ راہ اور خضر طریق تھے، کی حیات طیبہ بازیچئہ اطفال بن کر رہ جائے گی۔

 یہ بھی ایک طرفہ تماشہ ہے کہ امریکہ و برطانیہ میں عیسائیت اور حضرت مسیح کی اہانت قابل سرزنش جرم ہوتو یہ غیر منصفانہ نہیں،یورپ میں اگر کوئی شخص یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے واقع ہونے کی تاریخی حقائق کی روشنی میں تردید کرے تو یہ قابل سرزنش جرم ٹھہرے اور اس پر تحقیق کی اجازت بھی نہ ہو ، مصر والجزائر میں مغرب نواز حکومتیں کسی معقول سبب کے بغیر سیکڑوں علماءکو آئے دن پھانسی دیتی رہیں، تو مغرب کے کانوں پر جوں نہ رینگے، بوسنیامیں انسانوں کو اتنی بے دردی سے ذبح کیا جائے کہ لوگ سانپ اور درندہ جانوروں کے ساتھ بھی شاید ایسا رویہ نہیں برتتے ہوں، تو اس ” عیسائی دہشت گردی “ پر زبانی جمع خرچ سے آگے کوئی قدم نہ اٹھایا جائے، اسرائیل میں جبراً عربوں سے ان کا مکان خالی کرالیا جائے اور عین مسجد میں مسلمانوں کا قتل عام ہو تو مغربی اقوام کو  خوابِ خرگوش سے فرصت نہ ہو لیکن کروڑوں انسانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے ایک مجرم کے حق میں انسانیت اور تہذیب کے نام نہاد علمبردار ایک زباں ہوکر کھڑے ہوجائیں، افسوس کہ مغرب نے اپنے جسم سے حیا کا لباس تو اتارہی پھینکا تھا، انصاف و غیر جانبداری کا جو مصنوعی غازہ اپنے چہرہ پل مل رکھا ہے، یہ بھی معمولی واقعات ہی سے اتر جاتاہے اور اندر کا مکروہ چہرہ دیکھنے میں ذرا مشکل پیش نہیں آتی ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*