مسواک کی فضیلت

 چوہدری محمد اعظم (کویت)

  اسلام میں طہارت و پاکیزگی کی حیثیت صرف یہی نہیں کہ وہ نماز،تلاوت قرآن اور طوافِ کعبہ جیسی عبادت کے لے لازمی شرط ہے۔ بلکہ یہ بذات خود بھی مطلوب ہے۔ طہارت و نظافت کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں پر خاص طورسے زور دیا اور بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے، ان میں سے ایک مسواک بھی ہے۔

فضائل مسواک:

1-     آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے “ ( ابن ابی شیبہ )

2-     سیدنا ابو ایوب انصاری رضي الله عنه  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے ارشاد فرمایا :”چار چیزیں انبیاءعلیہم السلام کی سنتوں میں سے ہیں ۔ ۱۔ ختنہ کرنا ۲۔ عطر لگانا ۳۔ مسواک کرنا 4۔ نکاح کرنا “۔( ابن ابی شیبہ )

3-     حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا :” اگر مجھے اپنی امت کی مشقت اور دشواری کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا“۔ ( مسلم ،ترمذی )

4-     آپ صلى الله عليه وسلم  کا فرمان ہے:” اگر مجھے اپنی امت کی تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان پر مسواک کرنا فرض قرار دے دیتا۔ جبکہ میں خود اس کثرت سے مسواک کرتا ہوں کہ اپنے منہ کے اگلے حصہ کے چھل جانے کا خوف ہے“۔( ابن ماجہ )

5-     ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضي الله عنها  سے روایت ہے کہ ”حضور اقد س صلى الله عليه وسلم رات یا دن کے وقت جب بھی سو کر اٹھتے تو وضو سے پہلے مسواک فرمایا کرتے تھے“ ۔ ( ابو داﺅد )

6-     سیدہ عائشہ رضي الله عنها  فرماتی ہیں کہ”نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرمایا کرتے تھے“ ۔ ( مسلم )

7-     حضرت زید بن خالد الجہنی رضي الله عنه  سے روایت ہے کہ” نبی اکرم صلى الله عليه سلم جب گھر سے نماز کے لے نکلتے تو مسواک کرکے نکلتے تھے“۔(الترغیب والترہیب)

8-     ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله عنها  فرماتی ہیں کہ” نبی کریم صلى الله عليه وسلم مسواک کرلینے کے بعد دھونے کے لے مجھے عنایت فرماتے تھے۔ میں پہلے خود اسے استعمال کرتی اور پھر دھوکر آپ صلى الله عليه وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کردیتی تھی“۔( ابو داﺅد )

9-     –  سیدنا عبد اللہ بن عباس رضي الله عنهما  فرماتے ہیں کہ ”نبی پاک صلى الله عليه سلم تہجد کی نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ہر دو رکعت کے بعد مسواک فرمایا کرتے تھے“۔

امام المنذریرحمه الله اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ”چونکہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا نماز تہجد میں قیام،رکوع اور سجود بہت طویل ہوتے تھے اس لے آپ صلى الله عليه سلم انتہائی نظافت طبع کی وجہ سے اتنی دیر میں دوبارہ مسواک کا تقاضہ محسوس فرماتے تھے“ ۔ ( الترغیب والترہیب )

10- حضرت عامر بن ربیعہ رضي الله عنه  فرماتے ہیں کہ” میں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو روزہ کی حالت میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے دیکھا کہ میں اسے شمار بھی نہیں کر سکتا“ ۔ ( ترمذی )

سلف اورمسواک : اللہ والے مسواک کا بے حد اہتمام فرمایاکرتے،یہاںتک کہ اپنے کانوں پر رکھے ہوتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه  سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کانوں پر مسواک رکھتے اور ہر نماز کے وقت مسواک کرتے تھے۔ ( بذل المجہود ) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین بازاروں میں چلتے پھرتے وقت بھی مسواک اپنے کانوں پر رکھے ہوتے تھے ۔ ( ابن ابی شیبہ )

 مسواک کے فوائد : ملا علی قاریرحمه الله  فرماتے ہیں کہ مسواک میں ستر فوائد ہیں ان میں سے چندفوائد یہ ہيں:

مسواک منہ کی پاکیزگی،مسوڑھوں کی مضبوطی،بصارت میں اضافہ،سر درد میں تسکین،معدہ کی اصلاح ،بدن کی تقویت، فصاحت و بلاغت میں اضافہ، عقل و فہم   و یادداشت میںفراوانی، قلب کی صفائی، نیکیوں میں اضافہ، ملائکہ کی خوشی اور مصافحہ کا موجب ہے۔  

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*