نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا طریقہ تربيت

  تربیت سید عبدالسلام عمری (کویت )

 abdussalamsyed@ymail.com

 رسول پاک صلى الله عليه وسلم   ماہر تعلیم تھے، اور ایک ماہر تعلیم اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ جو بات وہ کہنا چاہتاہے آیا مخاطبین کی ذہنی استعداد کے مطابق ہے یا نہیں، وہ کوئی ایسی بات نہیں کرتا جو مخاطب کی ذہنی استعداد سے بالاتر ہو، رسول پاک صلى الله عليه وسلم ان باتوں کا بڑا خیال فرماتے تھے۔ اگر ایک شخص نومسلم ہوتااور دوسراپُرانامسلم تو دونوں کو سمجھانے میں فرق رکھتے تاکہ دونوں اپنی ذہنی استعداد کے مطابق سمجھ سکیں۔ یہی فرق آپ ا صلى الله عليه وسلم  ایک شہری اور ایک دیہاتی کی تعلیم میں ملحوظ رکھتے۔ حضرت ابو موسی اشعری رضي الله عنه  فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے اپنے علاقے کی مخصوص لب و لہجہ میں رسول پاک صلى الله عليه وسلم  ا سے سفر کے دوران روزے کا حکم پوچھا، اس کے لب و لہجہ میں حرف ” لام ” کو میم سے بدلا جاتاتھا اس کا سوال تھا ا من امبر امصوم فی امسفر ؟ [اصل عبارت تھی ا من البر الصوم فی السفر؟ ”کیاسفرمیں روزے رکھنا نیکی کاکام ہے؟“آپ صلى الله عليه وسلم  نے اسے اسی مخصوص لہجہ میں جواب دیا۔ لیس من امبر امصوم فی امسفر [لیس من البر الصوم فی السفر]”سفرمیں روزے رکھنا نیکی کا کام نہیں“۔(جمع الفوائد)

  رسول پاک صلى الله عليه وسلم  کے طریقہ  تعلیم و تربیت کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ جو چیز زبانی طورپر سمجھا نے سے سمجھ میں نہ آتی‘ عملی طورپرسمجھانے کی ضرورت پڑتی تو آپ صلى الله عليه وسلم  اسے عملی طورپر سمجھاتے۔ رسول پاک صلى الله عليه وسلم  اپنی بات کو واضح کرنے کے لے بسا اوقات ہاتھ کے اشاروں سے مدد لیتے،کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ صلى الله عليه وسلم  صحابہ کے سامنے کچھ لکیریں کھینچتے اور ان کے ذریعہ اپنی بات کو واضح کرتے۔ اس طرح مخاطب کے ذہن میں اپنی بات کو اتارتے کہ بات کا مالہ وما علیہ اس پر پوری طرح واضح ہوجاتا۔  مثلا رسول پاک صلى الله عليه وسلم  نے ارشاد فرمایا: ا نا وکافل الیتیم فی الجنة کھاتین وا شار بالسبابة والوسطی ( بخاری) ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا بہشت میں یوں ہوں گے۔ پھر آپ نے اپنی شہادت اور بیچ والی انگشت مبارک سے اشارہ فرمایا“ ۔ غور کیجے جب اللہ کے حبیب صلى الله عليه وسلم نے اپنی شہادت کی اور بیچ کی انگلی اٹھا کر صحابہ رضي الله عنهم سے یہ فرمایا ہوگا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دونوں انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ یعنی ایک دوسرے سے بالکل قریب ہوں گے دونوں کے درمیان کوئی حائل نہ ہوگاتو وہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جو حصول جنت کے لے اپنی جان و جہاں تک کو داﺅ پر لگانے کے لے تیار تھے ، اور رسول پاک صلى الله عليه سلم  کا قرب انہیں ہر نعمت سے زیادہ قیمتی اور محبوب تھا تو کیا اس ارشاد اور اشارے کے بعد ہر صحابی کے دل میں یہ عزم پیدا نہیں ہوا ہوگا کہ مجھے یتیم کی کفالت کرکے اس نعمت عظمی کو ضرور حاصل کرنا چاہے۔

  ایک بار رسول پاک صلى الله عليه وسلم  صحابہ رضي الله عنهم کے درمیان تشریف فرما تھے، آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے دست مبارک سے زمین پر ایک لکیر کھینچا اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر اس سیدھی لکیر کی دائیں جانب دو لکیر کھینچی اور دو لکیریں بائیں جانب اور فرمایا کہ یہ لکیریں شیطان کے راستے ہیں :

  اس کے بعد آپ صلى الله عليه سلم  نے سیدھی لکیر پر دست مبارک رکھا اور یہ آیت تلاوت فرمائی : ﴾وَا َنَّ ہَذَا صِرَاطِی  مُستَقِیماً فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُوا  السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُم  عَن سَبِیلِہِ ذَلِکُم  وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُم  تَتَّقُون﴿ ( انعام: 154) ”اور یقینا یہی میری سیدھی راہ ہے لہذا اسی پر چلتے جاﺅ اور دوسری راہوں کے پیچھے نہ جاﺅ ،ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کردیں گے، اللہ نے تمہیں اپنی باتوں کا حکم دیا ہے شاید کہ تم بچ جاو ( تقوی شعار بن جاﺅ)“۔

  آپ صلى الله عليه وسلم  نے لکیریں کھینچ کر نہایت عام فہم انداز میں اس آیت کی تشریح فرمائی اور ذہنوں میں یہ بات جاگزیں کردی کہ عزت و سربلندی اور جنت تک پہنچانے والا راستہ صرف یہی ہے،اور اس کے علاوہ باقی تمام راستے خواہ وہ باطل ادیان ہوں یا دوسرے افکار و نظریات سب شیطانی راستے ہیں ، جو ہلاکت و بربادی اور جہنم تک پہنچانے والے ہیں۔

  آپ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سینوں میں اللہ اور اس کے رسول اسے محبت کی ایسی بھٹی شعلہ زن کی کہ جس میں وقتی مصلحت و خود غرضی کا ہر شائبہ جل کر خاکستر ہوگیا، آپ صلى الله عليه وسلم نے اسلامی افکار و عقائد کو دلوں میں اس طرح راسخ کیا کہ کسی بھی غیر اسلامی تصور کے ابھر نے یا پنپنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ گئی۔

  اب رہی بات ہم مبلغین اور مصلحین کی توہماری دعوتی اور اصلاحی کوششوں کا ہدف دل سے زیادہ دماغ پر ہوتا نظر آتاہے۔ اس لے نتیجہ خیز تبدیلی دیکھنے کو بہت کم ملتی ہے، بلکہ بسا اوقات ہماری اس طرز دعوت سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتاہے،تمام کی تمام تر عقلی دلائل پیش کرنے کی ہماری ان کوششوں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی درخت سوکھ جائے تومالی اس کے جڑ کو پانی دینے کی بجائے اس کی پتیوں اور ٹہنیوں پر پانی چھڑکنے لگے اور اس سے درخت کی حیات نو کی امید رکھے، بعض مرتبہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ مبلغ و داعی دیگر ادیان کی کتابوں کے شلوک جتنی اچھی طرح پڑھتاہے وہ قرآن حدیث کو اتنے اچھے انداز میں پیش کرنے سے قاصر ہوتاہے، یہ ایک المیہ نہیں تو اور کیا ہے ؟۔ ماضی اور حال کے دعاة کا اور ان کی دعوتی کو ششوں کا تجزیہ کرتے ہوے علامہ اقبال رحمه الله  نے بڑا چشم کشا تبصرہ فرمایا ہے :

 ” قبول اسلام میں اصل چیز دل ہے ، جب دل ایک تبدیلی پر رضا مند ہوجاتاہے اور کسی بات کو قبول کر لیتا ہے تو پھر باقی تمام جسم کے اعضاء اس کے سوا کچھ نہیں کرتے کہ وہ اس تبدیلی کی تائید کے لے وقف ہوجائیں۔ اسلام کے قدیم و جدید مبلغوں میں ایک واضح فرق یہ نظر آتا ہے کہ قدیم مبلغوں کا وار دلوں پر ہوتا تھا، وہ اپنی للہیت،خوش خلقی اور احسان ومروت کی جادو اثر اداﺅںسے دلوں کو گرویدہ کرتے تھے اور اس طرح ہزارہا لوگ از خود بغیر کسی بحث و تکرار کے ان کے رنگ میں رنگ جاتے تھے، مگر جدید مبلغوں کا سارا زور دماغ کی تبدیلی پر صرف ہوتا ہے ، وہ صداقت اسلام پر ایک دلیل دیتے ہیں ،مقابلہ میں غیر مسلم دوسری دلیل پیش کردیتے ہیں،اس بحث و تکرار میں مقصود ہدایت گم ہوکر رہ جاتا ہے ۔ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ فطرت اپنی فتوحات حاصل کرنے کے لے اپنا تعلق ہمیشہ دلوں سے جوڑتی ہے ، فطرت کھانے میں لذت پیدا کرتی ہے اور انسان بے اختیار اسے کھاجاتاہے، تو ضرورت اس بات کی ہے کہ مبلغین اسلامی کردار کی عظمت کے مالک ہوں“ ۔

 مولانا عبد الماجد دریابادیرحمه الله  لکھتے ہیں :

 ”ہندو اور پارسی،عیسائی اور یہودی،سکھ اور جین اور تمام غیر مسلم قومیں جو آج رسول پاک صلى الله عليه وسلم کی زندگی سے واقف ہوناچاہتی ہیں، ان میں سے کوئی قوم قرآن کا مطالعہ نہیں کرتی، دفتر احادیث کی ورق گردانی نہیں کرتی، وہ تو صرف ہماری زندگی کو دیکھتی ہے، امت کی سیرت سے رسول کی سیرت کا،پیروﺅں کے کردار سے پیغمبر کے اخلاق کا اندازہ لگاتی ہے ۔ ( اب کوئی یہ کہے کہ مسلمانوں کو مت دیکھو،قرآن و حدیث کا مطالعہ کرو تو یہ کہاں تک صحیح کہلائے گا؟) یقین جانئے کوئی غیر مذہب والاہمارے یہاں کی کتابوں کو الٹ پلٹ اس غرض سے نہیں کرے گا، وہ ہماری کتابوں کو نہیں‘خود ہمیں پڑھے گا، ہماری زندگی دیکھے گا، وہ مطالعہ کتابوں کا نہیں، زندہ کتابوں کا کرے گا، درخت کا بیج اس کے پھل سے پہچانا جاتاہے، تخم کی تحقیق کے لے کوئی ماہر فن باغبان کے پاس نہیں جاتا رسول پاک صلى الله عليه وسلم  کی سیرت کا اندازہ امت کی حالت سے کیا جاتاہے اور کیا جائے گا“ ۔

اب ہم اپنا محاسبہ کریں کہ ہماری زندگی ، ہمارا طرز عمل، ہمارا کردار، ہماری عادتیںاور خصلتیں،ہمارے مشغلے اور دلچسپیاں، ہمارا مذاق طبیعت، ہماری سیرت، غیر مسلموں کے دل میںرسول پاک صلى الله عليه وسلم کی بابت کیا رائے قائم کرائے گی ؟اس لیے پیارے بھائیو ! اپنی زندگیوں سے اس پاک زندگی پر داغ نہ لگاﺅ اور کوشش کرو کہ اس پاک و صاف روشن اور بے داغ زندگی کا کچھ ہلکا سا نمونہ ہماری زندگیوں میں بھی نظر آنے لگے !!!

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*