مولانا کاکا سعید احمد عمری حفظہ اللہ سے ایک ملاقات

محمدخالد اعظمی (کویت)taleem95@hotmail.com

جنوبی ہندکی عظیم الشان درسگاہ جامعہ دار السلام عمرآبادکے سکریٹری

  مولانا کاکا سعید احمد عمری حفظہ اللہ سے ایک ملاقات

 جنوبی ہند کی عظیم درسگاہ جامعہ دار السلام عمرآباد کے سکریٹری جناب مولانا کاکا سعید احمد عمری سے راقم سطور کی ملاقات کویت میں ہوئی اورہوتی رہتی ہے ، ان کی شخصیت بڑی پیاری ہے،طبیعت مرنجان مرنج پائی ہے ، خاکساری ان کے چہرے سے ٹپکتی ہے۔ ”میں تو ایک ادنی سا شخص ہوں ، جوکچھ ادارے کے لیے بن پڑتاہے کردیتاہوں اورہمیشہ اللہ تعالی سے اجرکی امید رکھتاہوں“ اس طرح کے الفاظ ہمیشہ ان کی زبان پر رہتے ہیں۔ وہ ایک علمی اور متمول خانوادہ کے چشم وچراغ ہیں، ان کی دعوتی اورتربیتی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے، ان کی کویت تشریف آوری کی مناسبت سے ایک مجلس میں ان سے کی گئی گفتگوکا خلاصہ ہم قارئینِ ماہنامہ مصباح کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔

سوال:محترم آپ کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی؟۔

جواب :میری پیدائشسن1936ءعمرآبا د میں ہوئی، جو میرا آبائی وطن ہے ۔

سوال:کیا آپ اپنے خاندان کے متعلق بتائیں گے ؟

جواب :میں جس خاندان سے تعلق رکھتاہوں اسے  ’ کاکا ‘کے نام سے جانا جاتاہے اور ’کاکا‘خاندان کا آبائی پیشہ تجارت ہے ، چمڑے کی تجارت میں ہمارے خاندان نے کافی نام کمایاہے، میں اللہ کا شکر اداکرتاہوں کہ اس رب ذوا لجلال نے ہمیں حلال تجارت کے لیے منتخب کیاہے ۔ ہمارا خاندان زمانہ دراز سے چمڑے کی تجارت سے منسلک ہے ، جنوبی ہند کے مشہور شہر مدراس میں ہمارے کارخانے ہیں اور ہم اپنے کارخانے کی بنی ہوئی اشیاء بیرون ملک یورپ، امریکا،اوردیگرممالک میں اکسپورٹ کرتے ہیں ۔

 سوال: ’تجارت پیشہ‘ ہونے کے باوجود آپ کے خاندان کا دین کی طرف میلان رہا ،اس کی وجہ کیا ہے؟

جواب : ہماراخاندان غزنوی خاندان سے متاثر ہواہے جس کی وجہ سے پوراخاندان دینی مزاج رکھتا ہے۔ الحمدللہ ہمارا پورا خاندان دینی مزاج ، دینی خیالات اور دینی فکر کا حامل ہے ۔

سوال:جامعہ قائم کرنے کا خیال کب اورکیسے آیا؟

جواب :بانی  جامعہ دار السلام کاکا محمد عمررحمہ اللہ اپنی تجارت کی غرض سے بھوپال ، دہلی اور امرتسر جایا کرتے تھے، دوران سفر انکی ملاقات غزنوی خاندان سے ہوگئی جن میں شیخ عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ کے علاوہ محدث کبیرسید نذیر حسین دہلویرحمه الله ،اور شیخ محمد بشیر شہسوانی رحمه الله  وغیرہم ہیں۔ اللہ تعالی ان مشائخ کی قبروں کو نور سے بھر دے ،آمین۔ ان سب سے کا فی متا ثر تھے ۔ان کے مواعظ سے کافی استفادہ حاصل کیا ، اسی سے متاثر ہوکر ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ ایک معتدل قسم کاادارہ قائم کیاجائے، اس سوچ نے ان کی زندگی کی کایا ہی پلٹ دی ، لہذا مدرسہ کے ساتھ ساتھ ایک نئے ماحول کی تشکیل کے لیے ایک گا ں اپنے نام سے بسایا ، اورآنے والوں کو اپنی زمینیں عنایت فرمائیں۔

اگرآپ ماضی کے جھروکوں میں دیکھیں توکہنے کو تو یہ بہت پرانی بات ہے لیکن اس پھل دار درخت کاپھل ایسا ہے کہ جیسے یہ کل ہی کی بات ہے ، 1343ھ بمطابق 1924ء کا واقعہ ہے صوبہ ٹامل ناڈو کے ضلع نارتھ ارکاٹ میں کئی ایکڑ زمینیں خریدیں ، اسے آباد کیا ، اپنے نام سے اس کا نام ’عمرآباد‘ رکھا اور وہیں ’جامعة دار السلام لارشاد الناس‘ کے نام سے ایک علمی اور دینی درس گاہ کی بنیادرکھی۔

سوال: بانی  جامعہ کس مسلک سے تعلق رکھتے تھے؟

جواب : بانی  جامعہ مسلکاً اہلحدیث تھے ، لیکن معتدل مزاج تھے۔

سوال: موسس وبانی جامعہ دار السلام کاکامحمد عمر صاحب کتنے دنوں تک ادارہ کی نظامت کرتے رہے؟

جواب : کاکامحمد عمر صرف تین چار سالوں تک ہی اس کی نظامت کرسکے ، اس کے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔

سوال: آپ اپنی تعلیم کے متعلق بتائیں گے۔

جواب : میری ابتدائی تعلیم سے لیکر اعلی تعلیم تک جامعہ دارالسلام عمرآباد میں ہوئی ۔ اور1956ءمیں فراغت ہوئی ۔

سوال:کتنے سالوں سے جامعہ کے سکریٹری ہیں ؟

جواب :میں تقریباً بیس سالوں سے جامعہ دار السلام کا سکریٹری ہوں اور اس کی خدمات انجام دے رہا ہوں۔

سوال:کیا جامعہ کے لیے وقف کا بھی انتظام ہے ؟۔

جواب : جامعہ کے لیے وقف کا بہت ہی اچھا نظم ہے ۔ اس کی شروعات ہمارے دادا ہی کے زمانے سے ہوئی تھی اور اب تک اس میں اضافہ ہی ہورہا ہے ۔کاکامحمد عمر صاحب نے جامعہ قائم کرنے کے بعد باغ، عمارتیں اور دیگر چیزیں وقف کردیں تھیں ۔ اب مزید اس میںاضافہ ہورہاہے ۔

سوال:کیا جامعہ کی نظامت آپ ہی کے خاندان میں ہے ؟

جواب : جی ہاں! ہمارا ہی خاندان اس ادارہ کی نظامت اب تک سنبھالے ہوئے ہے، اگرمستقبل میں کوئی ہم سے بہتر ملے گا توہم اس کے حوالے کردیں گے۔

میرے خیال میں ہماراخاندان بہت ہی اچھے طریقے سے جامعہ کی نظامت کررہاہے ، اورجامعہ دن دونی رات چوگنی ترقی کررہا ہے ۔اللہ تعالی نے اس ادارہ کی قسمت میں کامیابی وکامرانی لکھ دی ہے، اس طرح یہ ادارہ اول دن ہی سے ترقی کی منزلیں طے کررہاہے اور آج پورے ہندوستان بالخصوص جنوب ہند میں اپنا ایک مقام بنا چکا ہے

سوال: جامعہ دار السلام عمرآباد کے قیام کا مقصد ؟

جواب :جامعہ کے قیام کے دوران ہی موسس کے ذہن میں یہ بات تھی کہ وقت کی اہم ضرورت قوم مسلم کا اتحاد واتفاق ہے لہذا وقت کے عظیم علمائے کرام اور دانشورانِ ملت سے جامعہ کے نصاب سے متعلق مشورہ کیااورایک ایسا جامع نصاب تعلیم تیار کیا ، جس میں مسلکی اختلافات کونظرانداز کیاگیا،جس کافائدہ یہ ہوا کہ ایک ہی چھت کے نیچے مختلف فقہی مسالک سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور طلباءجمع ہوگئے ۔

سوال:طلبہ جامعہ میں اعتدال پیدا ہونے کی وجہ ؟

جواب :ہمارے یہاں طلباءکے درمیان جواعتدال ہے اس میں دراصل جامعہ کے نصاب تعلیم اور اساتذہ کرام کا بہت بڑا کردار ہے۔ ساتھ ہی جامعہ کے سالانہ اجلاس میں ہر مسلک ومشرب کے علماءوقائدین کومدعو کیاجاتا ہے اور وہ شریک بھی ہوتے ہیں ۔

سوال: قوم کو متحدکرنے میں جامعہ کا کیا کردار رہا ہے ؟

جواب : آپسی اختلافات محض اس وجہ سے پیداہوتے ہيں کہ ہم کسی کو برداشت نہیں کرتے لیکن ہمارے یہاں لوگ ایک دوسرے کی باتیں سنتے ہیں ، مسائل کو حل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں ، جس کا نتیجہ ہے کہ اعتدال پیدا ہواہے ۔

سوال:جامعہ میں بہتری کب سے زیادہ آئی ہے؟

جواب :1977ءمیں جامعہ کا گولڈن جبلی منایا گیا ، جس میں ملک وبیرون ملک کی مشہور شخصیات نے شرکت کی ، اس مناسبت سے ایک عظیم منصوبہ تیار کیاگیا۔ جس کے بعد جامعہ کی مقبولیت میں چار چاند لگ گئے ،اسی کے بعدجامعہ کے مختلف شعبہ جات کھلے۔

سوال: کیا جامعہ کومخالفتوں کا سامنا بھی کرنا پڑتاہے۔؟

جواب :جی ہاں! جامعہ کو بہت ساری مخالفتوں کا سامنا کرناپڑاہے ، اور پڑ رہا ہے مثلاً :بیشمار سادہ لوح افراد یاادارے جامعہ کو اہلحدیث کا ادارہ کہہ کراس کے خلاف بیان بازیاں کرتے ہیں تودوسرے لوگ اسے جماعت اسلامی کا ادارہ کہہ کرمطعون کرتے ہیں جبکہ تیسرے لوگ اس ادارے کو ’کسی بھی مسلک کاترجمان نہیں ہے‘ کا الزام لگاکر اس کی سرگرمیاں کم کرنے کی کوشش میں ہیں۔

سوال: آپ مختلف مسالک ومشارب کے لوگوں کی مخالفتوں کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں ؟

جواب :ذمہ داران جامعہ اور اساتذہ  جامعہ سب کی منفی باتیں سنتے ہیں،اورکوشش کرتے ہیں کہ معاملہ کا حل اچھی طرح نکل جائے، بصورت دیگر ہمارے فارغین ہی ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوال: جنوب ہند میںدعوت کا اچھا خاصا کام ہورہا ہے ایساکیسے ہوسکاہے ؟

جواب : اس کی بھی تاریخ ہے ، اگر آپ ماضی کا مطالعہ کریں تومدراس کے علاقہ میں قبولِ اسلام کاسلسلہ 1935ءسے شروع ہواہے جس کی بنیادی وجہ اسلام کی حقانیت تھی نہ کہ لوگوں کی کوششیں۔اس وقت جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کی تربیت کے لیے مختلف لوگوں نے اپنے اپنے طریقہ سے مقامی سطح پر کام کرنا شروع کردیا۔

ہندوستان کے آزاد ہونے کے بعد قبول اسلام میں اضافہ ہونے لگاایک اندازہ کے مطابق1990ءتک پچاس ہزار افراد اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔یہ کام خاموشی سے ہورہا تھا لیکن بعض افراد نے اس کی تشہیر کردی جس کا غلط اثر پڑا۔جنوبی ہندمیں جن لوگوں کو اسلام قبول کرنا ہوتاتو لوگ مقامی جامع مسجد میں جاتے اور امام کے سامنے مشرف بہ اسلام ہوتے ۔ یہ سلسلہ چلتارہا لیکن تشہیر ہونے کے بعد کافی رکاوٹیں پیدا ہونے لگیں۔

سوال: آزادی سے قبل غیرمسلموں میں کام کرنے کاچلن تھا؟

جواب : جی ہاں !آزادی سے پہلے کیرالامیں چند ادارے ایسے تھے جو غیر مسلموں میں دعوت دین کا کام کرتے تھے۔

سوال:کیا جامعہ دار السلام عمرآبادمیں نومسلموں کی تربیت کابھی بندوبست ہے؟

جواب :جی ہاں ۔ ہمارے جامعہ میں نومسلموں کی تعلیم وتربیت کے لیے ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے ، شروع میں یہ کورس دوسال کا تھا لیکن حالات کے تقاضے اور لوگوں کی مشغولیت کے مدنظراس کی مدت کم کردی گئی ہے۔ حقیقت میں یہ تعلیمی و تربیتی کورس ہے۔ دوران کورس طلباءقرب وجوار کے علاقوں کی مساجد میں خطبہ بھی دیتے ہیں اور کورس ختم کرنے کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں بحیثیت داعی کام کرتے ہیں۔

 سوال:غیر مسلموں میں دعوت کا کام کیسے کیاجائے ؟کیا جامعہ میں اس طرح کا کوئی کورس بھی ہے ؟

جواب :ہاں! جامعہ میں غیر مسلموں میں کام کرنے کے لیے ٹریننگ کورس کاایک خاص شعبہ ہے تاکہ ملک کی بڑی آبادی کو اسلام سے متعارف کرایا جاسکے ۔ یہ کورس دو سالوں پر مشتمل ہے۔ لیکن حالات کے لحاظ سے اس کورس کی مدت چھ ماہ کردی گئی ہے۔ دوران تعلیم طلباءکو  فلڈ ورک بھی کرایا جاتا ہے ۔ کورس میں شامل ہونے والے افراد آدھا وقت کلاس میں اورآدھا وقت میدان میں لگاتے ہیں۔

 سوال:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جامعہ دارالسلام کے علاوہ دیگرعربی مدارس میں بھی غیرمسلموں میں کام کرنے کے لیے دعوتی کورسیز کا اہتمام ہونا چاہیے ؟

جواب : ہمارا ادارہ پوری کوشش میں ہے کہ دعوتی جذبہ عام ہو ، اللہ کا شکرہے کہ اس وقت بہت سارے عربی مدارس میں دعوتی کام کرنے کا جذبہ بیدار ہورہاہے ۔

 سوال: آخرکیا وجہ ہے کہ ہمارے مدارس سے دعوتی کام کرنے کا جذبہ مفقود ہوتاجارہاہے ؟

جواب :حقیقت یہ ہے کہ ہماری اکثریت کے اندر غیرمسلموں میں دعوت کاشعور اب تک پیدا نہ ہوسکا ہے۔ دعوت کاموضوع ہمارے مدارس کے طرز تعلیم میںبحیثیت ایک سبجکٹ شامل رہنا چاہیے تا کہ طلبہ میں برادران وطن میں دعوت اور اصلاح امت کاجذبہ پیدا ہو۔

 سوال:داعیان دین کے لیے کوئی پیغام ؟

جواب : علمائے کرام وارثین انبیاءہیں۔ دعوت وتبلیغ ، انبیاءکا مشن اور علمائے کرام کی عظیم ذمہ داری ہے ۔ اصلاح وتزکیہ اورتعمیر سیرت دعوت کا پہلازینہ ہے۔ اوریہ وہ کام ہے جس کی ضرورت کبار صحابہ کرامرضي الله عنهم  تک محسوس کرتے تھے ۔ اصلاح نفس ، فکرآخرت اور خود احتسابی کا جذبہ جب تک ہمارے اندر پیدانہ ہوگا اس وقت تک ہم اپنے فرض منصبی کے امین اور نگہبان نہیں ہوسکتے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کے ہنگاموں سے دور ہوکر اپنے گناہوں پر نادم ہوں ، خود کو نار جہنم سے بچائیں اورجنت میں داخل ہونے کی تمام تدابیر پر غوروخوض کریں، رضائے الہی کے حصول اورزندگی کوبامقصد بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

 سوال: بیرون ملک رہنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟۔

جواب :میں بالخصوص اپنے ادارے کے فارغین اور بالعموم تمام لوگوں سے یہی کہوں گا کہ یہاں ان کو  فارغ البالی حاصل ہے اس کا تقاضا ہے کہ وہ شکر کے جذبہ سے لبریز ہوں اور اللہ کی اطاعت وفرمابرداری میں اپنی زندگی گزاریں ۔

 

 

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*