شیطان کا اعتراف

 

تونے جس وقت یہ انسان بنایا یا رب

اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یا رب

اس لیے میں نے سر اپنا جھکایا یا رب

لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یارب

عقلمندی ہے اسی میں کہ میں توبہ کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

 

ابتدائً تھی بڑی نرم طبیعت اس کی

قلب وجاں پاک تھے شفاف تھی طینت اس کی

اب پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی

اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی

اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشا کرلوں

سوچتا ہوں کہ انسان کو سجدہ کرلوں

 

بھر دیا تونے بھلا کونسا فتنہ اس میں

پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اس میں

اک اک سانس ہے اب صورت شعلہ اس میں

آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں ؟

اپنا آتش کدہ یزداں ہی کو ٹھنڈا کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

 

اب تو یہ خوں کے رشتوں سے اکڑ جاتا ہے

باپ سے بھائی سے بیٹے سے بھی لڑ جاتا ہے

اور جب طیش میں ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے

اور میرے شر کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے

اب تو لازم ہے کہ میں خود کو ہی سیدھا کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

 

میری نظروں میں تو مٹی کا ہی مادھو تھا بشر

میں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کم تر

مجھ پر پہلے نہ کھلے اس کے سیاسی جوہر

کان میرے بھی کترتا ہے یہ لیڈر بن کر

شیطنيت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندہ کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

 

اب جھجکتا ہے نہ ڈرتا ہے نہ شرماتا ہے

نت نئی فتنہ گری روز ہی دکھلاتا ہے

اب یہ ظالم میرے بہکاوے میں کب آتا ہے

میں بُرا سوچتے رہتا ہوں یہ کر جاتا ہے

کیا میں اس کی ہی مریدی کا ارادہ کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

 

اب جگہ کوئی نہیں میرے لیے دھرتی پر

میرے شرسے بھی سوا ہے یہاں انسان کا شر

اب تو لگتا ہے یہی فیصلہ مجھ کو بہتر

اس سے پہلے کہ پہنچ جائے وہاں سوپر پاور

میں کسی اور ہی سیارے پر قبضہ کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

 

ظلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نے

نت نئے پیچ مذاہب میں بھی ڈالے اس نے

کردیے قید اندھیروں میں اجالے اس نے

کام جتنے ہیں میرے سارے سنبھالے اس نے

اب تو خود کو ہر بوجھ سے ہلکا کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

 

استقامت تھی کبھی اسکی مصیبت مجھکو

اپنے ڈھب پر اسے لانا تھا قیامت مجھکو

کرنی پڑتی تھی بہت اس پہ مشقت مجھکو

اب یہ عالم ہے کہ دن رات ہے فرصت مجھکو

اب کہیں گوشہ نشینی میں گذارا کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

 

مست تھا میں تیرے آدم کی حقارت کرکے

خود پہ نازاں تھا بہت تجھ سے بغاوت کرکے

کیا ملا مجھ کو مگر ایسی حماقت کرکے

 کیا یہ ممکن ہے کہ پھر تیری اطاعت کرکے

اپنے کھوئے ہوے رتبے کی تمنا کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

(طالب خوند میری)

 

 

 

 

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*