محبت مطلوب توہے لیکن ….

طاہرہ بیگم سید کریم (کویت )

محبت ايک ايسا قوی اور طاقتور جذبہ ہے جسے اللہ تبارک و تعالی نے ہر انسان کے اندر بدرجہ اتم وديعت فرمايا ہے ،اسی جذبے کے سہارے انسان کسی کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے، يہ وہ جذبہ ہے جسکے لیے انسان اپنی جان ، مال، منصب، وطن سب کچھ چھو ڑ سکتا ہے، انسان اپنے والدين سے محبت اس لیے کرتاہے کيونکہ اسکا وجود ان کا مرہون ہوتا ہے، بيوی اسکی شريک حيات ہوتی ہے، بچے اسکے وجود کا حصہ ہوتے ہيں، رشتہ داروں سے محبت اس لیے کہ اپنا اور اپنی محبوب ہستيوں کا تعلق ان سے ہوتا ہے ، مال اور کاروبار سے محبت اس لیے کہ اسکے بغير اسکی زندگی کا گذارہ ناممکن ہوتا ہے اور گھر اسکی محنت،مشقت اور خوابوں کا آشيانہ ہوتا ہے۔ انسان کی ہر محبت کے پےچھے اسکی کوئی نہ کوئی غرض وضرورت ضرور وابستہ ہوتی ہے۔ ان سب سے اسکی محبت کا احساس ہوتاہے۔ اسی احساس کے تحت انسان انکے معیار پر پورا اترنے کے لیے محنتيں اورمشقتيں کرتا ہے،، بجاوبيجا کی پرواہ نہيں کرتا، حرام وحلال کی تميز بھول جاتاہے، لوٹ گھسوٹ کو اپنا شعار بنا ليتا ہے۔ اور اپنی عاقبت کو پس پشت ڈال ديتا ہے۔

انسان کے ان وقتی اغراض ومقاصد اور عارضی تعلقات کا اظہار ِتشکر اتنا شديد ہو سکتا ہے تو ذرا غور کريں، وہ اللہ ،وہ رب کائنات‘ جو تمام عالموں کا خالق ، مالک و مختار کل ہے جس نے ہمیں وجود بخشا، اتنا خوبصورت بنايا، ديکھنے کو آنکھيں، سننے کو کان، بولنے کو زبان اور سوچنے سمجھنے کو اتنا بہترين دماغ دےکر تمام مخلوقات ميں ممتاز و مميز کرکے اشرف المخلوقات کا لقب عطا کيا۔ ہمارے چلنے پھرنے کے لیے زمين بنائی،ہمارے لیے دن کو روشن اور رات کو پر سکون بنايا، ہماری غذا کے لیے جانور، پرندے، پيڑ پودے بنائے غرض کائنات کا ہر ذرہ ہمارے لیے بنايا، اگر اسکی پاکی و کبريائی بيان کرنا چاہيں تو سمندروں کو سياہی بنادی جائے  اور اشجار کو قلم‘ تب بھی ہم اسکی بڑائی و تحميد کی تکميل نہيں کرسکتے تو پھر کیا ہمیں زیب دیتا ہے کہ ہم اپنے متعلقين کی محبتوں کو اللہ اوراس کے ر سول کی محبت پرغالب کر لیں، کيا يہ اپنے رب سے بے وفائی نہيں؟ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا:

قُل ان کَانَ آبَاؤکُم وَاَبنَآؤُکُم وَاِخوَانُکُم وَاَزوَاجُکُم وَعَشِیرَتُکُم وَاَموَال اقتَرَفتُمُوہَا وَتِجَارَة تَخشَونَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرضَونَہَا اَحَبَّ اِلَیکُم مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِی سَبِیلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاتِیَ اللّہُ بِاَمرِہِ وَاللّہُ لاَ یَہدِی القَومَ الفَاسِقِین﴿ سورة التوبة (24)

”اے نبی صلى الله عليه وسلم  کہہ دو کہ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیوياں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے۔ اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اسکی راہ ميں جہاد سے عزیز تر ہيں تو انتظار کرو ،يہاں تک کہ اللہ اپنا فيصلہ تمہارے سامنے لے آئےاور اللہ فاسق لوگوں کو رہنمائی نہیں کرتا “۔

 اللہ تعالی نے ان سارے رشتوں اور محبتوں کے ذکرکے ساتھ تنبيہ کرتے ہوئے فرمايا کہ خبر دار ! اگر دنيوی اشيا ءاور رشتوں کو اللہ اور رسول کی محبت اور اللہ کے عائد کردہ ذمہ داريوں پر فوقيت دوگے تو اللہ کا عذاب تمہيں آلے گا اور اسکی رہنمائی سے محروم رہوگے۔

 اللہ تعالی نے محبت کرنے سے منع نہيں کيا بلکہ ان سے محبت بھی عبادت کا حصہ ہے ،البتہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کو نظر انداز کرکے مذکورہ اشیاءکی محبت میں پھنس جانے سے منع کيا ہے، اللہ اور رسول کی محبت کو درجہ اول پر اور باقی محبتوں کو دوسرے درجہ پر رکھنے کی تاکيد فرمائی جارہی ہے-

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*