آپ کے مسائل اور ان کا حل

 صفات عالم محمد زبير تيمي  

 زکاة کے احکام

سوال: زکاة کاحکم کیا ہے اورزکاة کانصاب کیاہوگا ؟ بالخصوص سونے کی زکاة کیسے نکالی جاے گی ؟       (زکریا ۔ سالمیہ، کویت )

جواب: زکاة اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے ایک اہم رکن ہے جس کی ادائیگی ہرصاحب استطاعت اور مالک نصاب پر سال میں ایک مرتبہ فرض ہے ۔ اس کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں سے اسلام کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضى الله عنه نے اعلانِ جنگ کیا تھا ۔

زکاة چار چیزوں پر واجب ہوتی ہے (1) سونے چاندی اور نقدی سکے (2) تجارتی سامان (3) مویشی (4) اور زرعی پیداوار۔

سونا اگر 85 گرام یا اس سے زیادہ ہو اور چاندی 595گرام یا اس سے زیادہ ہو، پھر اس پر سال گذر جائے تو اس میں چالیسواں حصہ واجب ہے ۔ یہی حساب نقدی سکوں اورتجارتی سامان کابھی ہوگا کہ اگریہ 85 گرام سونے کی قیمت کے برابر ہوجائیں اور ان پر سال گزرجاے توان کی بھی زکاة نکالنی واجب ہے ۔

مویشیوں میں وجوب زکاة کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ مقررہ نصاب کو پہنچ جائیں، ان پر سال گزرجائے ،وہ سال کے اکثر حصہ چرتے ہوں اور باربرداری کے لیے نہ رکھے گئے ہوں۔ واضح ہوکہ 5سے کم اونٹوں میں زکاة نہیں، 30 سے کم گایوں میں زکاة نہیں، اور 40 سے کم بکریوں میں زکاة فرض نہیں ہے ۔

زرعی پیدا وار کے لیے سال گزرنا ضروری نہیں ہے ،جب فصل تیارہو‘زکاة فرض ہے بشرطیکہ غلہ پانچ وسق یعنی 653 کیلوگرام تک پہنچ جائے۔ اگر کھیت کو بارش یا چشموں کے پانی نے سیراب کیا تو دسواں حصہ اور اگر آلات اور مشینوں سے سیراب کیا گیاتو بیسواں حصہ زکاة فرض ہے ۔

خواتین کا اذان اور اقامت

سوال: کیا عورتیں نماز کے لیے اذان اور اقامت کہیں گی ۔ (عمران ۔ کویت )

جواب: اذان اور اقامت مردوں کے لیے مشروع کی گئی ہے ، عورتوں کے لیے نہ اذان مشروع ہے اور نہ اقامت ۔ عورتیں بغیر اذان دئیے اور اقامت کہے نماز ادا کریں گی ۔ اسی طرح عورت‘ مردوں کی امامت بھی نہیں کراسکتی ہے البتہ خاتون ‘خواتین کی امامت کراسکتی ہے ، ایسی صورت میں وہ پہلی صف کے وسط میں کھڑی ہوگی ۔

نماز میں آنکھیں بند کرنا

سوال: میں صحرائی علاقہ میں کام کرتا ہوں، اذان واقامت کے ذریعہ پنجوقتہ نمازیں پڑھتا ہوں،میراسوال یہ ہے کہ کیا نماز میں خشوع وخضوع کے لیے آنکھیں بند کرسکتے ہیں ۔ (محمد ریحان ۔ مینازور ، کویت)

جواب: اگرآپ صحرائی علاقہ میں رہتے ہیں،اورآپ سے قریب مسجد نہیں ہے توآپ اذان اور اقامت کہہ کرنماز ادا کریں ۔اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے حضرت ابوسعید خدری رضى الله عنه سے فرمایاتھا:”اگر تم بکریوں(کے ریوڑ)میں ہو، یا صحرا میں ہو تو بآوازِبلند نماز کے لیے اذان دو کیونکہ مو ذن کی اذان جن وانس اور جو شے سنتی ہے کل قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی “۔ (صحیح بخاری )

دوسری بات یہ کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے ثابت نہیں ہے کہ آپ نے نماز میں آنکھیں بند کی ہوں ،بلکہ بیشمار روایات ایسی آتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ آنکھیں کھول کر نماز ادا فرماتے تھے۔ اسی لیے بعض علماءنے نماز میں آنکھیں بند کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے ۔البتہ اس سلسلے میں اصولی بات حافظ ابن قیم رحمه الله  نے بیان فرما دی ہے: ” اگر آنکھیں کھول کر نماز ادا کرنا خشوع میں مخل نہیں ہے تو آنکھیں کھول کر نماز ادا کرنا افضل ہوگا ،ہاں اگر قبلہ کے سامنے زینت وزیبائش اور آرائش کی وجہ سے نماز کا خشوع وخضوع متاثر ہورہا ہو توآنکھیں بند کرنا قطعاً مکروہ نہیں ہوگا، بلکہ ایسی حالت میں مستحب کہنا اصول شریعت کے زیادہ قریب ہے“ ۔ (زادالمعاد 1/294)

نمازجنازہ کی حکمت

سوال:مرنے کے بعد مردے کے لیے نماز جنازہ کیوں ادا کی جاتی ہے ؟ (شہباز ۔ کویت )

جواب: موت دنیاوی زندگی سے ابدی انقطاع اور اخروی زندگی کے نقطہ آغاز کا نام ہے، اس مناسبت سے مشروع قرار دیا گیا کہ مردے کے لیے اللہ تعالی سے مغفرت کا سوال کیا جاے ،اس کے لیے دعائے رحمت کی جاے جو کلی طورپر عاجز آچکا ہے اور مدد کا طلبگار ہے، یہ ایمانی اخوت کابھی تقاضا ہے کہ اللہ تعالی سے رجو ع کرکے مردے کے لیے قبر میں آسانی ، گناہوں کی مغفرت، اور رحم وکرم کا سوال کیاجاے ۔ یہ کوئی مردے کے لیے نماز نہیں ہے بلکہ اس کے لیے محض استغفار اور دعا ہے، اسی لیے اس میں رکوع اور سجدے مشروع نہیں کیے گئے۔اسی طرح مردے کی تکریم اور مخلوقات پراس کی عظمت ثابت کرنے کی حکمت کے تحت اسے غسل دے کر،اسکی تجہیز وتکفین کرکے دفن کردینے کاحکم دیاگیاہے ۔

طلاق کا صحیح طریقہ

سوال:طلاق کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟       (ظفراللہ خاں ۔ صباحیہ ،کویت)

جواب: طلاق اللہ پاک کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسند یدہ چیز ہے ۔اسلام میں شادی کو مربوط ازدواجی تعلق اور’مضبوط عہدوپیمان‘ سے تعبیرکیا گیا ہے، جب زوجین میں ناچاقی پیداہوجائے اور اصلاح کی ساری تدابیرناکام رہیں تو طلاق آخری علاج کے طورپر جائز قرار دی گئی ہے ۔ چنانچہ اختلاف کی صورت میں اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ شوہر بیوی کو سمجھائے ،شوہر کے حقوق یاد دلائے ، علیحدگی کی صورت میں بچوں کے مستقبل سے ڈرائے،اور نصیحت کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے ،اگر سدھرجاتی ہے تو ٹھیک ورنہ بستر الگ کر دیا جاے ،یہ طریقہ سمجھدار عورت کی اصلاح کے لیے نہایت کارگر ہے ۔اگر اس سے بھی نہ سمجھے توفہمائش کے لیے تادیبی طورپر اس کی ہلکی سی پٹائی کی جاسکتی ہے لیکن یہ پٹائی وحشیانہ نہ ہونی چاہیے۔ اگر اس صورت میں بھی اصلاح ممکن نہ ہوسکے تو طرفین کی طرف سے دو آدمی دونوں میں صلح کرانے کی کوشش کریں گے ۔ (سورہ نساء34۔35)

اگر یہ چاروں مراحل ناکام ثابت ہوں تو اب جدائی کے علاوہ دوسری کو ئی معقول شکل باقی نہ رہی تاکہ دونوں اپنا اپنا راستہ طے کرلیں ۔ ایسی صورت میں طلاق کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے طہر میں جس میں بیوی سے وظیفہ  زوجیت ادا نہ کیاہو‘ایک طلاق دے اور تین مہینہ تک انتظار کا موقع دے ۔اس بیچ اسے ساتھ ہی رکھنا ہے ، اسے طلاق رجعی کہتے ہیں،اگر اس دوران رجوع نہیں کیا تو عورت اس سے خود بخود علیٰحدہ ہوگئی ،اب رجوع کے لیے تجدید نکاح کرنی ہوگی۔اس کے بعد بھی دوسری مرتبہ طلاق دے کرعدت میں رجوع کرسکتا ہے البتہ عدت گزرنے کے بعد تجدیدنکاح ضروری ہوگی ۔ تیسری مرتبہ بھی اگر طلاق دے دی تو اب رجوع کی اجازت نہیں ۔اللہ تعالی نے فرمایا: الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فاِمسَاک  بِمَعرُوفٍ اَوتَسرِیح  باحسَانٍ (سورة البقرة 229) ”یے طلاقیں دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی سے چھوڑ دینا ہے “۔

 البتہ ایک ہی مجلس میں بیک وقت تین طلاقیں دینا شریعت کی پامالی اوراس کے ساتھ کھلواڑ کرناہے ،تاہم طلاق ایک ہی شمار کی جائے گی ۔(صحیح مسلم)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*