عالمی خبريں

محمد خالد اعظمی (کویت)

یوسف القرضاوی کی امامت میں 30 لاکھ مسلمانوں نے نماز جمعہ اداکی

قاہرہ۔ حسنی مبارک کے مسند صدارت سے دست بردار ہونے کے بعد مصر سے ملک بدرکئے ہوئے مشہور عالم دین یوسف القرضاوی31 سال بعد جب اپنے وطن پہونچے توعوام نے ان کا پرجوش استقبال کیااورعلامہ سے’ میدان التحریر‘ میں نماز جمعہ اور نماز عصرپڑھانے کی درخواست کی گئی، اخبارات کی رپورٹ کے مطابق 25 سے 30 لاکھ کے قریب نمازی رہے ہونگے،القرضاوی نے اپنے خطبہ میں انقلاب کی جدوجہد میں جان پیش کرنے والے شہداءکی مغفرت اورتحریک کے دوران گرفتار کئے جانے والوں کی جلد رہائی کے لیے اجتماعی دعائیں کیں۔ خطبہ جمعہ مصرکے سرکاری ٹیلی ویژن سے بھی   براہ راست نشر کیا گیا۔

 فرانس میں برقع پر مکمل پابندی

پیرس ۔ سیکولر کا لبادہ اوڑھے فرانس مکمل برقع پر پابندی کے قانون پر یکم اپریل سے عمل شروع کرے گا۔ اس قانون کے نافذ العمل ہونے کے بعد سے کسی بھی برقع پوش خاتون کو پولیس اسٹیشن میں طلب کرکے اسے نقاب اتارنے کے لیے کہاجائے گابصورت دیگر اسے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف علامتی ہے ، پولیس ہر برقع پوش خاتون کوطلب نہیں کرے گی لیکن پیرس کے امام کا کہنا ہے کہ برقع پوش خواتین کو پولیس اسٹیشن میں طلب کرنے کا معاملہ مسلمانوں میں بے چینی پیدا کرسکتاہے۔

ووٹ دو اور جنت کا پروانہ حاصل کرو

جوہانسبرگ۔ جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زیوما نے اپنی پارٹی کو ووٹ دینے کی صورت میں جنت میں پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے جیکب زیومانے مشرقی کیپ صوبے کے قصبے Mathatha میں اپنی ANC پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے حمایتی پارٹی کوجیت سے ہمکنار کروانے میں ناکام رہے تو ان کے جہنم میں جانے کا خدشہ ہے ۔

  قادیانیوں کا اجتماع منسوخ

ڈھاکہ ۔ بنگلادیش میں کافر فرقہ قادیانیوں کا 87ویں سالانہ بین الاقوامی اجتماع عوام کے دباؤ سے منسوخ کرنا پڑا۔ کیونکہ سنی مسلم گروپس نے اس اجتماع کے خلاف احتجاج کیا تھا ۔ اورمقامی سنی گروپس کی جانب سے ضلع انتظامیہ کو ایک تذکیرنامہ پیش کیاگیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ احمدیہ فرقہ کے اجتماع کی اجازت منسوخ کی جائے ۔ حالات کو دیکھتے ہوئے حکام کی جانب سے اجتماع کی اجازت نامہ کو منسوخ کردیا گیا۔

سعودی عرب اپنی طرف اٹھنے والی انگلیوں کو کاٹ دے گا۔

ریاض ۔سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ ان کا ملک اپنے داخلی معاملات میں ہرطرح کی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتاہے ۔ ملک میں تبدیلی لانے کا بہترین طریقہ مذاکرات ہیں نہ کہ احتجاج ۔ الفیصل نے مزید کہا کہ سعودی عرب اپنی جانب اٹھنے والی انگلیوں کو کاٹ کررکھ دے گا ۔ دوسری طرف امام کعبہ شیخ اسامہ خیاط نے کہا کہ سعودی عرب میں مظاہروں کااعلان شیطانی حربہ ہے اور مسلمانوں کو ایسا مطالبہ کرنے والوں سے خبردار رہنا چاہیے ۔ مسجدالحرام میں جمعہ کے خطبہ میں امام حرم نے مزید کہا کہ شیطان گمراہ کن خواب دکھا کرمسلمانوں کو بغاوت پر اکسانا چاہتاہے ۔ شیطان کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو تنازعات میں الجھادیاجائے۔

تیونس سے اٹھنے والی چنگاری

تیونس سے اٹھنے والی انقلابی چنگاری نے عالم اسلامی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔وہ چنگاری تیونس سے مصرپہونچی اوروہاں سے 31 سال سے حکومت کررہے حسنی مبارک کوعوام کے مظاہروں کا سامناکرنا پڑا ،

 مصر کے بعد اس چنگاری نے بہت سارے ممالک کو اپنی آغوش میں لے لیا ہے جہاں سرفہرست لیبیا، یمن ، عمان ، اوردیگر ممالک ہیں جہاں کے عوام اپنے حکمراں کوہٹا ناچاہتے ہیں ۔ لیبیا کو دیکھیں جہاں40سال سے حکومت کررہے معمرقذافی کو ہٹاناچاہتے ہیں ، دوسری جانب یمن کے عوام اپنے صدر33سال سے حکومت کررہے علی عبداللہ صالح کوصدارت کے منصب پر دیکھنا نہیں چاہتے۔

پروفیسرنجم الدین اربکان کی وفات

(29اکتوبر1926ء۔ 27فروری 2011ئ)

استنبول ۔ ترکی کے سابق وزیر اعظم اورملک میں جدید اسلامی تحریک کے بانی پروفیسر نجم الدین اربکان کا 27فروری کودل کا دورہ پڑنے سے انقرہ کے ایک اسپتال میں 85سال کی عمرمیں انتقال فرماگئے جہاں وہ زیر علاج تھے ۔ وزیر اعظم طیب اردوگان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ اربکان ایک سائنس داں تھے جنہوں نے اپنی زندگی علمی سرگرمیوں کے لیے وقف کردی تھی۔ ہم ہمیشہ ان کے احسان مند رہیں گے۔ اربکان نے 1970ء کی دہائی میں شہرت حاصل کی جب انہوں نے ایک اسلامی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی جوقدامت پسندد یہی باشندوں اورشہر کے دبے کچلے عوام کو اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب رہی ۔ اربکان کی پارٹی نے 1985ءکے انتخاب میں کامیابی حاصل کی اور 1996ءمیں اربکان نے مخلوط حکومت کی عنان سنبھالی اورترکی کی جدید تاریخ کے پہلے اسلام پسند وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ اربکان کی (اسلامی ویلفیئر پارٹی ) کو 1998ء میں ممنوع قراردے دیا گیا۔ اربکان اوردیگررہنماں پر پانچ سال کے لیے کسی سیاسی عہدہ پر فائز رہنے پر پابندنی عائد کردی گئی تھی۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*