اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے

اعجاز الدین عمری (کویت)

پھرایک بار ہرسو امید سحر کی باتیں ہیں ۔ پھر ایک آغاز کے انجام اور ایک انجام کے آغاز کے عمل کو حرکت دی جا چکی ہے ۔ انقلاب کی رفتار تیز تر ہوتی جا رہی ہے ۔ گردشِ ایام تاریخِ انقلابات کا مدفن ہے ۔ زمین کی سماعت عروج و زوال کی داستانوں سے کبھی نہیں اکتائی ہے ۔ فلک کی بوڑھی نگاہیں قوموں کو اُٹھتے مٹتے اور انقلابات کو بڑھتے دیکھ کر کبھی نہ تھکی ہیں اور نہ تھکیں گی۔ زمینی نظام خداوند قدوس کے مکمل قبضہ و اختیار میں ہے ۔ راج محل کے تخت کے اوپر کس کو بٹھائے اورکس کو اتار ے ، اس کا پورا فیصلہ آسمانوں میں طے پاتا ہے ۔ خود پرست پادشاہی ، ظالم نظام جاگیرداری جبری آمریّت یا پھر سفّاک خلافت و جمہوریت ظلم و استبدادکو ایک مقررہ مدت تک ہی مہلت ملتی ہے۔ میری نگاہیں تاریخ کے صفحات میں اٹکی ہوی ہیں ، میںصدی دو صدی پیچھے پہنچ چکا ہوں ۔ ا نیسویں صدی اور بیسویں صدی کے اوائل کی دنیا بیشتر برطانیہ، فرانس ، اٹلی،اسپین اور نازی جرمن کے ماتحت تھی۔ اس وقت اسلامی دنیا بیشتر دو حصوں میں بٹی ہوی تھی۔ ایک طرف عثمانیوں کا قبضہ تھا تو دوسری جانب ایرانی ان پر سوار تھے۔ دونوں طرف کے حکمراں اپنے رعایا کے جذبات سے کھلواڑ کر رہے تھے ۔ مسلم دنیا فقر و فاقہ اور غربت و جہالت کی زنجیروں میں جکڑی ہوی تھی اور ان کے حکمران ان کی زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے بھی لا پرواہ کھیل تماشا اور رنگ رلیوں میں منہمک رہتے تھے ۔ اس حالتِ زار نے بیرونی طاقتوں کو اس عظیم ملت میں نفوذ و تسلط کے لیے موقع فراہم کردیا تھا ۔ جس کی جتنی طاقت تھی اسی قدر حکومتیں اس کے قبضے میں رہتی تھیں ۔لوٹ کھسوٹ کی سیاست میں شیر اپنا حصہ رکھ لیتاتھا اور لومڑی اپنا حصہ پھر انقلاب کی لہر چلی اور دنیا کے ممالک ان کے چنگل سے آزاد ہوگئے۔

قومی اور ملی اعتبار سے غلامی دو طرح کی ہوتی ہے ،ایک سیاسی تودوسری فکری۔ اول الذکر غلامی میں انسان کا سر جھکا رہتا ہے تو دوسرے میں سر کے اندر موجود دماغ ہی سراپا اطاعت بن جاتا ہے ۔ اور کوئی بھی تبدیلی ’انقلاب ‘ اس وقت کہلاتی ہے جب وہ سیاسی اور فکری دونوں طرح کی غلامی سے آزادی کا پیغام لے کر آتی ہے ۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر قسم کی غلامی سے نکل کر ایک خدا کی بندگی اور غلامی کی دعوت دیتا ہے ۔ کوئی تغیّر ’خالص اسلامی انقلاب ‘ اس وقت کہلائے گا جب مسلم اُمّت ہر طرح کی سیا سی اور فکری بندشوں سے آزاد ہوکر خود کو ایک خدا کی چوکھٹ پر رام کر دے گی ۔ یہ اس اُ مّت کی حرماں نصیبی ہے کہ خلافتِ راشدہ کے بعد سے اب تک کہیں بھی مکمل طور پر ’خالص اسلامی انقلاب ‘ برپا نہ ہوسکا ۔ انقلاب سیاسی ہو یا فکری اہلِ ہوس ہر اس انقلاب کا رُخ موڑ دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جو صحیح قیادت سے محروم ہوتا ہے ۔ نصب العین کا تعین ، تنظیمی شعور، عمل کی ترتیب و تنظیم اور تحریکی پیش رفت کسی بھی’صالح‘ انقلاب کے لیے زادِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انیسویں صدی کے انقلابات ایسی ہی قیادتوں کا نتیجہ تھے۔ مصر میں برطانوی استعمار کا زور توڑنے میں علمائے ازہر نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ جہادی تحریکوں کو ان کی قیادت حاصل تھی۔ 1830میں امیر عبد القادر الجزائری کی قیادت میں اُٹھنے والی تحریک اور 1842 میں محمدبن علی السنوسی کی تحریک فرانس ، اٹلی اور اسپین کے لیے دردِ سر بن گئی تھی۔1911 میں عمر مختار کی قیادت نے لیبیا میں اطالوی استعمار کی ناک میں دم کر دیا تھا۔ ادھر مراکش میں عبد الکریم خطابی ہسپانوی اور فرانسیسی استعمار کے خلاف نبرد آزما تھے۔ یہ ساری قیادتیں اور تحریکیں مغرب کے نو آبادیاتی نظام سے اسلامی دنیا کو آزاد کرنے کےلیے کوشاں تھیں ۔ بظاہر ان کی کوششیں عثمانی و ایرانی حکومتوں کا دفاع لگ رہا تھا مگر اس کے پیچھے انقلاب کی ’اسلامی روح ‘ کار فرما تھی۔ ایران کی راہ بھٹکی شخصی بادشاہت اور عثمانیوں کی کج رو خلافت سے سمجھوتہ کرنے کے لیے حق پرست علماءاور ملّت کا درد رکھنے والے قائدین کسی بھی مرحلہ میں تیار نہیں تھے۔ انیسویں صدی کا ابتدائی دور قلبِ مسلم میں نشتر بن کر چبھتا ہے جب صیہونی قوتوں نے ملّت اسلامیہ کی رگِ جاں کو تاکا تھا۔ ان کے خیال میں وہ آخری وار تھاجس کے بعد یہ امّت فکری و سیاسی غلامی کے دلدل سے کبھی نہ اُٹھ سکتی تھی ۔ مگر”جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خور شید جیتے ہیں، اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے ، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے “ ان کی فطرت ہے ۔ اُس وقت بھی دنیا کے مختلف گوشوں سے مغربی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے تحریکیں اُٹھیں ۔نابغہ روزگار ہستیوں نے ان تحریکوں کی قیادت کی ۔ 1927میںشہید حسن عبدالرحمن البنا رحمه الله کی قیادت نے اسلامی اصولوں کی بنیاد پرعالمِ عرب کی سب سے بڑی اور منظّم تحریک ’الاخوان المسلمون‘ کو مغربی سامراجی اور صہیونی فکری یلغار کے مدّمقابل کھڑا کیا اور فکری انقلاب کے ذریعہ سیاسی انقلاب کے خدو خال تیار کیے ۔ ٹھیک اسی زمانے میں برّ صغیر میں علامہ اقبال رحمه الله کے اشعار ملّت کے خوابیدہ دلوں کو جھنجوڑ رہے تھے اور نیند کے متوالوں کو آبِ حیات کے چھینٹے دے کر جگا رہے تھے اور تہذیبِ حاضر کو شاخِ نازک پر بنے آشیانہ بتا کر عالمِ اسلام میں جڑ پکڑ رہی مغرب کی مرعوبیت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ دوسری جانب سیّد ابوالاعلی مودودی رحمه الله کی تحریریں اسلام کی آفاقیت اور عالم گیریت کے پہلو کو اجاگر کرتے ہوے یورپ اور مغرب کے کافرانہ و ملحدانہ نظریہ حیات کی بیخ کنی کر رہی تھیں ۔1941میں جماعتِ اسلامی کی بنیاد اسی مقصد کے تحت ڈالی گئی کہ جدید نسل کے فکری انقلاب کو سیاسی انقلاب میں تبدیل کیا جائے اور اسلامی نظامِ حیات کے نفاذ کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کردی جائیں۔ ادھر شمالی افریقہ ، لیبیا ،سوڈان ، الجزائر، صومالیہ اور بعض دیگرعرب اور مسلم ممالک میں سنوسی تحریک( جو امام احمد بن حنبلرحمه الله ، امام ابن تیمیہرحمه الله ، امام غزالی رحمه الله اور شیخ محمد بن  عبد الوہابرحمه الله  کی فکر اور عقیدہ سے متاثر تھی) مسلمانوں میں دینی،سیاسی اور سماجی بیداری کے لیے سرگرم عمل تھی تو

 دوسری جانب استعماری اور صلیبی طاقتوں سے بر سرِپیکار تھی۔ ان ساری جدو جہد کے بعد بھی اسلام پسندوں کا خواب کسی بھی مرحلہ میں اگر چہ مکمل طور پر شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا تھا مگر اسلام کی جانب بڑھتی ہوی کافری فکر کی سیلِ رواں کو روکنے میں یہ تحریکیں کامیاب ہوچکی تھیں اور مغرب کے سیاسی ہتھکنڈوں کا زور ٹوٹ چکاتھا۔

 زمانے کے افق پر پھر ایک بار تبدیلی کے آثار نمایاں ہوچکے ہیں ۔ زنجیروں کے کھلنے کی آہٹ ہر سو سنائی دے رہی ہے ۔ انقلابات کی بڑھتی یورش سے مغرب کے ماتھے پر شکنیں اُبھر آئی ہیں۔ اس کی کٹھ پتلی حکومتوں کی چولیں ہلنے لگی ہیں۔ ان پر سراسیمگی کی کیفیت طاری ہے ۔ان کے خوف اور دہشت کا واضح ترین سبب تو یہ ہے کہ اگر اس عوامی بیداری نے ’اسلامی انقلاب ‘ کے لیے راہ ہموار کردیا

تو جن عرب اور مسلم حکومتوں پر اس کی اجارہ داری قائم ہے وہ ختم ہوجائے گی اور اس کے اثرات سے دنیا کی بیشتر آبادی پراس کی گرفت بھی ڈھیلی پڑ جائے گی۔ اس انقلاب سے مشرقِ وسطی میں اسرائیل کے وجود کو لاحق خطرہ بھی اس کی پریشانی کا ایک اور اہم سبب ہے ۔میرے اندرون کی کیفیت بھی عجیب ہے ۔میرے دل کی دنیا بھی اندیشوں میں گرفتار ہے ۔ میں دیکھ رہاہوں کہ مسلم دنیا سے اُٹھنے والی تبدیلی کی لہروں میں ’ اسلامی انقلاب ‘ کا جوش مفقود ہے ۔مضبوط و منظّم قیادتوں سے محروم اس عوامی یکجہتی میں ’حاکمِ وقت ‘ کا تختہ اُلٹ دینے ہی کو ’انقلاب‘ مانا جارہا ہے۔ دوست اور دشمن نے خول بدلنا شروع کیا ہے ۔ کل تک جو ظالم آمریّت اور نظام شاہی کے لیے تکیہ بنے ہوے تھے وہ اب اپنی صفیں بدلنے لگے ہیں ۔ بہروپیوں  نے چہرے کی کھال بدل لی ہے ۔ مسلم حکومتوں کی  زیرِ زمین ثروت پر ان کی لالچی نگاہیں پہلے سے گڑی ہوی ہیں ، اب وہ ہوا کے رُخ پر چل کر اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے بے چین نظر آتے ہیں ۔

میں تو یہی امید لیے بیٹھا ہوں کہ اے کاش کوئی مانجھی نکلے اور ملت کی ہلکورے کھاتی نیّا پار لگادے ۔ کوئی منظّم قیادت ، کوئی تحریکی شعور،کوئی عارفانہ نظر اور غازیانہ قدم اس تغیّر کو فکری و سیاسی غلامی سے نجات کا ذریعہ بناکر اُٹھے کہ نظامِ اسلامی کے غلبہ کے خواب کہن کو پھرتعبیر کی زبان مل جائے پھر ظلمتِ شب کو طلوعِ سحر کی نوید آجائے پھرایک بار وقت کی فصیل پر نئی صبح کازرّیں پرچم لہرائے اور پھرجبین خاکِ حرم سے آشنا ہوجائے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*