شيخ حافظ صلاح الدين يوسف

عَن أنَسٍ  رضى الله عنه قَالَ کَانَ أخوَانِ عَلٰی عَھدِ النَّبِیِّ  صلى الله عليه وسلم وَکَانَ أحَدُھُمَا یَاتِی النَّبِیَ صلى الله عليه وسلم  وَالآخَرُ یَحتَرِفُ ، فَشَکَا المُحتَرِفُ آخَاہُ لِلنَّبِیّ صلى الله عليه وسلم  فَقَالَ: لَعَلَّکَ تُر زَقُ بِہ (رواہ الترمذی )

ترجمہ:”حضرت انس رضى الله عنه  سے روایت ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے ‘ ایک ان میں سے نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا (اور آپ سے دین کا علم سیکھتا ) دوسرا کاروبار کرتا اور کماتا ۔ کاروباری بھائی نے اپنے بھائی کی شکایت نبی صلى الله عليه وسلم ا سے کی ( کہ وہ کاروبار کرنے کی بجائے زیادہ تر آپ کے پاس رہتا ہے ) آپ نے فرمایا: (تمہیں کیا معلوم ) شاید تمہیں روزی اس کی وجہ سے ہی ملتی ہو ۔“ (سنن ترمذی )

تشریح :  اس سے معلوم ہوا کہ دین کا علم حاصل کرنے کے لیے اس طرح کسی کو وقف کردینا یا کسی کا وقف ہوجانا جائز اور مستحب ہے ۔ ایسے طلبائے علوم دینیہ کو بوجھ نہیں تصور کرنا چاہیے۔ اسی طرح ان کی اور ان علماء کی امداد سے گریز نہیں کرنا چاہیے ‘ ان کی برکت سے اللہ تعالی رزق میں اضافہ فرمادیتا ہے ۔ انسان کو بے وسیلہ لوگوں کی امداد سے رزق مہیا ہوتا ہے ۔

عَن  اَبِی  ھُرَیرَةَ رضى الله عنه  قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ  صلى الله عليه وسلم  مَن  یُّرِدِ اللّٰہُ بِہ خَیراً یُصِب مِنہُ   (رواہ البخاری )

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا: ”جس کے ساتھ اللہ تعالی بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے ‘ اس کو مصیبت سے دوچار کردیتا ہے “۔ (بخاری )

تشریح : دنیا کی تکلیفیں ، مصائب وآلام ،بیماری ، غربت ،جان ومال کا نقصان وغیرہ ان میں مومن کے لیے بھلائی کا پہلو اس طرح ہے کہ دنیا میں وہ ان کی وجہ سے اللہ کی طرف رجوع کرتا اور اس سے دعاء والتجا کرتا ہے اور ان کی وجہ سے اس کے گناہ بھی معاف ہوتے ہیں ‘ اس لیے آخرت کے نقطہ  نظر سے بھی اس میں ایک مومن کے لیے خیر ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*