صداے عرش

شيخ حافظ صلاح الدين يوسف

لُعِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِن بَنِی  اسرَائِیلَ عَلَی لِسَانِ دَاوُودَ وَعِیسَی ابنِ مَریَمَ ذَلِکَ بِمَا عَصَوا وَّکَانُوا یَعتَدُونَ، کَانُوا لاَ یَتَنَاہَونَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ لَبِئسَ مَا کَانُوا یَفعَلُونَ (سورہ المائدہ 78۔79)

ترجمہ: ”جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی، یہ اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے ۔ (اور) بُرے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو نہیں روکتے تھے، بلاشبہ وہ بُرا کرتے تھے ۔“

تشریح :

(۱) یعنی زبور میں جوحضرت داؤد عليه السلام پر اور انجیل میں جو حضرت عیسیٰ عليه السلام پر نازل ہوئی اور اب یہی لعنت قرآن کے ذریعے سے ان پر کی جارہی ہے جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم  پر نازل ہوا ۔ لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت اور خیر سے دوری ہے ۔

(۲) یہ لعنت کے اسباب ہیں

   عصیان ‘ یعنی واجبات کا ترک اور محرمات کا ارتکاب کرکے انہوں نے اللہ کی  نافرمانی کی۔

    اعتداء یعنی دین میں غلو اور بدعات ایجاد کرکے انہوں نے حد سے تجاوز کیا ۔

(۳) اس پر مستزاد یہ کہ وہ ایک دوسرے کو بُرائی سے روکتے نہیں تھے جو بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے ۔ بعض مفسرین نے اسی ترک نہی کو عصیان اور اعتداء قرار دیا ہے جو لعنت کا سبب بنا ۔ بہرحال دونوں صورتوں میں برائی کو دیکھتے ہوئے برائی سے نہ روکنا‘ بہت بڑا جرم اور لعنت وغضب الہی کا سبب ہے ۔ حدیث میں بھی اس جرم پر بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ۔ اسی لیے ایک حدیث میں اس کی تاکید کرتے ہوئے کہا گیا ہے :

مَن  رَای مِنکُم  مُنکَراً فَلیُغَیِّر ہُ بِیَدِہ فَاِن  لَم یَستَطِع  فَبِلِسَانِہ فَاِن لَم  یَستَطِع  فَبِقَلبِہ وَذٰلِکَ أضعَفُ الِایمَانِ (صحیح مسلم ،الایمان ،بیان کون النھی عن المنکر من الایمان ) ”تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ سے روک دے ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اسے بُرا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے “ ۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے :

”یقیناً اللہ تعالی خاص لوگوں کے عمل (گناہوں) کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا ‘یہاں تک کہ جب عام لوگوں کا حال یہ ہوجائے کہ وہ برائی اپنے درمیان ہوتے دیکھیں اور وہ اس پر نکیر کرنے پر قادر بھی ہوں لیکن وہ اسے نشانہ تنقید نہ بنائیں ‘ جب ایسا ہونے لگے تو اللہ تعالی کا عذاب عام وخاص سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے “ ( مسند احمد،ج4 ص 192)

ایک دوسری روایت میں اس فریضے کے ترک پر یہ وعید سنائی گئی ہے کہ” تم عذابِ الہی کے مستحق بن جاوگے ‘ پھر تم اللہ سے دعائیں بھی مانگوگے تو قبول نہیں ہوں گی“۔   (مسند احمد ج 5 ص388)

اس حقیقت کو نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک تمثیل کے ذریعے سے بھی واضح فرمایا، آپ نے فرمایا:

”اللہ کی حدوں میں مداہنت (نرمی اور درگزر) کرنے والے اور حدوں کے توڑنے والے کی مثال اس قوم کی سی ہے جنہوں نے ایک (دومنزلہ ) کشتی میں سفر کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی ‘ بعض کے حصے میں بالائی منزل اور بعض کے حصے میں نچلی منزل آئی ۔ نچلی منزل والے پانی لینے کے لیے بالائی منزل پر آتے اور بالانشینوں کے پاس سے گزرتے تو وہ تکلیف محسوس کرتے ۔چنانچہ نچلی منزل والوں نے کلہاڑا پکڑ کر کشتی میں سراخ کرنا شروع کردیا تاکہ نیچے سے ہی پانی لے لیں اور اوپر جانے کی ضرورت پیش نہ آے ۔ سوراخ کرنے کی آواز سن کر اوپر والے آئے اور پوچھا : تم یہ کیا کررہے ہو؟ انہوں نے کہا : ہم پانی لینے اوپر جاتے ہیں تو تم ناگواری محسوس کرتے ہو ‘ چنانچہ ہم نیچے ہی سوراخ کرنے لگے ہیں ‘ کیونکہ پانی کے بغیر تو چارہ نہیں ۔ (نبی صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا: ) اگر وہ اسی وقت ان کا ہاتھ پکڑلیں اور سوراخ سے روک دیں تو وہ سوراخ کرنے والوں کو بھی بچالیں گے اور اپنے کو بھی بچالیں گے اور اگر وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں گے تو وہ ان کو بھی ہلاک کردیں گے اور اپنے کوبھی ہلاک کر لیں گے “ ۔ (صحیح بخاری ، الشھادات ، باب القرعة فی المشکلات ، وکتاب الشرکة ‘ باب ھل یقرع فی القسمة ….)

 اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کا وجود نہایت ضروری ہے جو نہ صرف منکرات سے باز رہنے والے ہوں بلکہ دوسروں کو بھی ان کے ارتکاب سے روکتے رہتے ہوں اور منکرات سے مفاہمت یا مداہنت کرنے والے نہ ہوں ۔ ورنہ برائی سے مفاہمت یا اس کے معاملے میں مداہنت غضب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ اعاذنا اللہ منہ

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*