کھیل

اے کھلاڑی قلزم ہستی کے منجدھاروں سے کھیل

تو جہادِ زندگی میں خوں کے فوّاروں سے کھیل

بے تحاشا کود پڑ تو آتشِ نمرود میں

مثل ابراہیم شعلہ ریز انگاروں سے کھیل

نغمہ  شورِ سلاسل سُن کے وجد آئے تجھے

قصر و ایواں چھوڑ کر زنداں کی دیواروں سے کھیل

آب و آتش، خاک و بادہ ماندہ پیکار ہیں

سوچتا کیا ہے قدم آگے بڑھا تاروں سے کھیل

چھوڑ تعمیرِ نشیمن کا خیالِ خام تو

شاہبازوں کی طرح دن رات کہساروں سے کھیل

ساز و بربط کی طرح نغموں میں نہ کھوجا تو کبھی

ہاں رُباب زندگی کے مشتعل تاروں سے کھیل

تا بکے کھیلے گا تو یہ بازی  طاو س و چنگ

کھیلنا ہے تو تفنگ و توپ و تلواروں سے کھیل

زندگی سے کھیلتی ہے اس طرح حماد موت

کھیلتے ہیں جس طرح پروانے انگاروں سے کھیل

(ابوالبیان حماد)

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*