راہِ وفا

 

عشق و وفا کی راہ گزر میں زیرِ قدم جب کانٹے آئے

کتنے ہی اربابِ عزیمت ساتھ مرا دیکر پچھتائے

رنج میسّر ہو یا راحت فتح ملے یا سر کٹ جائے

لیکن یا رب شوقِ طلب پر غفلت کا الزام نہ آئے

خوب ہے اے اربابِ محبت ذکرِ بیانِ عظمتِ رفتہ

لیکن غازی وہ ٹھہرے گا جو ماضی کو حال بنائے

راہِ وفا کا رہرو ہوں میں کانٹوں پر چلنا ہے مجھکو

کرب و بلا سے ڈرنے والا ہر گز میرے ساتھ نہ آئے

راہ نوردو! آسکتے ہیں جاںبازی کے سخت مراحل

یوں کٹ جانا راہِ وفا میں لاش بھی ڈھونڈے ہاتھ نہ آئے

اس مذہب کا باغی ہوں میں جو اپنے اربابِ ہمم کو

رزم گہہ جلوت سے اُٹھا کرگوشہ  خلوت میں لے جائے

چھوڑ گئی تثلیث کو پیچھے تیز قدم توحید ہماری

ہم نے مٹی کے ڈھیروں پر ماتھے ٹیکے پھول چڑھائے قبروں پر جب میلے دیکھے تب یہ بات سمجھ میں آئی

بن جاتے ہیں ناداں انساں کس آسانی سے چوپائے

اللہ اللہ عصرِنوکے اہلِ بصیرت کا یہ عالم

اس کو مجرم بتلاتے ہیں جو منزل کی راہ دکھائے

عامر مثلِ نشّہ  بادہ گمراہی بھی ایک نشہ ہے

جن کو اپنا ہوش نہیں ہے کیسے انھیں کوئی سمجھائے

(عامر عثمانی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*