وفيات

مولانامحمدشفیع مونس انتقال کرگئے

جماعت اسلامی ہند کے بزرگ اور مرکزی رہنما مولانامحمد شفیع مونس کا6اپریل ظہرکے وقت93سال کی عمرمیں انتقال ہوگیا ۔ مولانا موصوف اپنی طویل تحریکی زندگی میں جماعت اسلامی کے تمام اہم مناصب پر فائز کئے جاتے رہے ۔ نائب امیر جماعت، سکریٹری جنرل،مرکزی مجلس شوری اورمجلس نمائندگان کے رکن ، آل انڈیامجلس مشاورت کے جنرل سکریٹری ،آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ اوردینی تعلیمی کونسل کے بھی رکن رہے ۔

مولانا کا شعری وادبی ذوق بلند تھا ۔ادارہ ادب اسلامی ہند نے ان کی غزلیات کے دو مجموعے شائع کیے ہیں ۔

معروف عالم دین مفتی ظفیرالدین کی رحلت

معروف عالم دین ،دارالعلوم دبوبند کے استاذمفتی ظفیرالدین کا 31 مارچ کو 85سال کی عمرمیں انتقال ہوگیا ۔ موصوف 35سے زائد کتابوں کے مصنف تھے ۔ انہوںنے تحریک آزادی میں بھی حصہ لیا تھا،وہ کافی عرصے سے اپنے آبائی وطن میں علیل تھے ۔ موصوف مسلم پرسنل لا بورڈ کے بنیادی رکن،امارت شرعیہ پٹنہ کے رکن شوری ،فقہ اکیڈمی کے صدر اور درجنوں مدارس اور ادارے کے سرپرست تھے ۔

 کویت میں مقیم مولانامحمد بشیر الطیب کاانتقال پرملال

کویت میں اردوداںحلقوں کے معروف عالم دین جناب مولانامحمد بشیرالطیب16مارچ بروز بدھ61سال کی عمر میں اس دارفانی سے رحلت فرماگئے ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ۔

موصوف نے 11مارچ کومسجدعبداللہ بن عمر(جہراء)میں خطبہ  جمعہ دیا، 13مارچ کوآپ پر فالج کا اٹیک ہوا ،تین دن تک ہسپتال میں زیرعلاج رہے ،چوتھے دن اچانک دل کادورہ پڑا ، حرکت قلب بند ہوگئی اوردن کے اختتام پراللہ کوپیارے ہوگئے۔

موصوف تقریباً تیس سال سے کویت میں مقیم تھے،وزارة الاوقاف میں موذن کی حیثیت سے ملازمت کرتے تھے،اس دوران انہوں نے اردوداں حلقے میں کتاب وسنت کی دعوت عام کرنے میں اہم کردار اداکیا۔ کویت سٹی ،جہراءاورامغرہ میں آپ کے دروس ہواکرتے تھے جس کے کویت میں اچھے خاصے نتائج دیکھے گئے ۔

آپ احکام دین کے سخت پابند تھے،زندگی کے جو آخری ایام آپ نے ہسپتال میں گذارے ان میں اپنے ساتھیوں سے بار بار نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے ،اگرکوئی نماز سخت تکلیف کی وجہ سے رہ جاتی توبعد میں کچھ افاقہ ہونے پر تیمم کرکے اسے قضا کرلیتے تھے ۔تہجد کی اذان کہنے کے بعد نمازتہجد میں مشغول ہوجاتے تھے۔

آپ علمی ذوق بھی رکھتے تھے ،آپ کے متعددمضامین کئی مجلات میں چھپ چکے ہیں،آپ کی ایک کتاب ”بخشش کی راہیں“ شائع ہوچکی ہے اوراسے کویت اور پاکستان میں مفت تقسیم کیا گیا ہے ۔

مرکزالدعوة والارشاد کے زیراہتمام منعقدہ ایک تعزیتی اجلاس میں شیخ صلاح الدین مقبول احمد،شیخ عارف جاوید محمدی، اورڈاکٹرحافظ محمداسحاق زاہد کے علاوہ متعددعلماءنے آپ کی خدمات کا تذکرہ کیا ،کویت میں آپ کی دعوتی کاوشوں کوسراہا اور آپ کی مغفرت کے لیے دعائیں کیں ۔آپ کے پسماندگان میں ایک بیوہ ،پانچ صاحبزادے اورچار صاحبزادیاں ہیں جن میں ایک صاحبزادے حافظ ابوبکرعتیق وزارة الاوقاف کے موذن اور شعلہ بیاں خطیب ہیں۔

اللہ تعالی موصوف کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے اورپسماندگان کو صبرجمیل کی توفیق بخشے ۔ آمین

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*